✨❄ اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اِصلاح❄✨
سلسلہ نمبر 229:
🌻 صدقۃ الفطر کن کن چیزوں سے کتنا ادا کیا جائے گا؟
▪ سلسلہ مسائلِ صدقۃ الفطر: ②
(تصحیح ونظر ثانی شدہ)
📿 صدقۃ الفطر کن کن چیزوں سے کتنا ادا کیا جائے گا؟
صدقۃالفطر چار قسم کی چیزوں میں سے کسی ایک چیز سے ادا کرنا جائز ہے، اور وہ چار چیزیں یہ ہیں:
❶ ایک صاع کشمش۔ ( رد المحتار)
☀ سنن النسائی میں ہے:
2515- عَن ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ زَبِيبٍ.
❷ ایک صاع کھجور۔ ( رد المحتار)
❸ ایک صاع جَو۔ ( رد المحتار)
☀ صحیح بخاری میں ہے:
1504- عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِن الْمُسْلِمِينَ.
(بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ عَلَى الْعَبْدِ وَغَيْرِهِ مِن الْمُسْلِمِينَ)
❹ آدھا صاع گندم/ گیہوں۔ (رد المحتار)
☀ سنن النسائی میں ہے:
2516- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ أَقِطٍ، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ فِي عَهْدِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.
☀️ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
10435- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللهِ ﷺ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ، أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
10436- عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
10437- عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ أَدَّى إلَى أَبِي بَكْرٍ صَدَقَةَ الْفِطْرِ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ.
10438- عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ يَرْفَعُهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ؟ فَقَالُ: عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ.
10439- حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إبْرَاهِيمَ قَالَ: صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ عَنْ كُلِّ إنْسَانٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ.
10440- حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: عَنْ كُلِّ إنْسَانٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، وَمَنْ خَالَفَ الْقَمْحَ مِنْ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ غَيْرِهِ فَصَاعٌ تَامٌّ.
10443- عَن عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَد، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ.
10444- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مِثْلَهُ.
10445- عَنِ ابْنِ طَاوُوس عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرِ.
10446- حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ بُرْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ: أَنَّهُ قَالَ: صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعٌمِنْ شَعِيرٍ.
10447- عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ.
10448- عَنْ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ.
10450- عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَن عَنْ عَلِيٍّ: فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
10452- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ: أَنَّهَا كَانَتْ تُعْطِي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَمَّنْ تَمُونُ مِنْ أَهْلِهَا الشَّاهِدِ وَالْغَائِبِ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ.
10453- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إلَى عَدِيٍّ يُقْرَأُ بِالْبَصْرَةِ فِي صَدَقَةِ رَمَضَانَ: عَلَى كُلِّ صَغِيرٍ أَوَ كَبِيرٍ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى نِصْفُ
صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ.
10454- عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الصَّدَقَةُ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ.
مذکورہ دلائل سے آدھا صاع گندم سے متعلق احناف کا موقف بھی بخوبی واضح ہوجاتا ہے۔
❄️ مسئلہ:
اگر کوئی شخص انہی مذکورہ چار چیزوں میں سے کوئی چیز دینا چاہے تب بھی جائز ہے ،اور ان میں سے کسی ایک چیز کی قیمت ادا کرنا چاہے تب بھی جائز ہے، اور اگر ان چار چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز جیسے چاول، کپڑے وغیرہ کے ذریعے صدقۃ الفطر ادا کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے البتہ ایسی صورت میں قیمت کا اعتبار ہوگا کہ ان مذکورہ چار چیزوں میں سے کسی ایک چیز کی قیمت کے برابر وہ چیز صدقۃ الفطر میں ادا کردے۔
❄️ مسئلہ:
ویسے تو ان چار چیزوں میں سے کسی بھی ایک چیز کے ذریعے صدقۃ الفطر ادا کیا جائے تو بھی جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ ہر شخص اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق ان چار چیزوں میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرے تاکہ حسن خوبی کے ساتھ صدقۃا لفطر ادا ہوسکے کیوں کہ اس میں ثواب بھی زیادہ ہے اور حاجت مند افراد کی رعایت بھی ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ حدیث: 10470، مبسوط السرخسی، رد المحتار، امداد الاحکام)
📿 اہم وضاحت:
اکثر روایات میں انھی مذکورہ چار چیزوں یعنی جو، کشمش، کھجور اور گندم کا ذکر ہے، اس لیے فقہائے احناف نے انھی کو اصل قرار دیا ہے، اس لیے صدقۃ الفطر کی ادائیگی میں انھی چار چیزوں کا اعتبار ہوگا، البتہ بعض روایات میں ایک صاع پنیر کے ذریعے بھی صدقۃ الفطر کی ادائیگی کا ذکر ہے، اس لیے بعض فقہاء کرام نے اس کو صدقۃ الفطر کی اشیاء میں سے شمار کیا ہے، جبکہ فقہائے احناف کے نزدیک چوں کہ عام روایات میں پنیر کا ذکر نہیں، اس لیے پنیر کو مذکورہ چار چیزوں کی طرح اصل قرار نہیں دیا جاسکتا، البتہ اگر کوئی پنیر کے ذریعے صدقۃ الفطر ادا کرنا چاہے تو یہ بھی درست ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مذکورہ چار چیزوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر ہو۔ (مبسوط السرخسی باب صدقۃ الفطر)
📿 صاع اور نصف صاع کا موجودہ وزن:
▪ صاع: یہاں صاع سے مراد صاعِ عراقی ہے، جو کہ 8 رِطل کا ہوتا ہے، ایک رطل موجودہ وزن کے اعتبار سے398.034 گرام کا ہوتا ہے، تو اس کو 8 سے ضرب دینے سے 3.184272 کلو گرام حاصل ہوگا اور یہی ایک صاع کا موجودہ وزن ہےجس کو بطورِ احتیاط ساڑھے تین کلو بھی کہہ دیا جاتا ہے۔
▪ آدھا صاع: مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق نصف صاع کا موجودہ وزن 1.592136 ہے، جس کو بطورِ احتیاط پونے دو کلو بھی کہہ دیا جاتا ہے۔
❄️ مزید تفصیل:
▪ مُدّ/ منّ (شرعی): 2 رِطل = 819 ماشہ = 260 دراہم= 68.25 تولہ = 796.068 گرام۔
▪ رِطل بغدادی/ عراقی: 130 دراہم = 409.5 ماشہ = 34.125 تولہ = 398.034 گرام۔
▪ صاع عراقی: 8 رِطل = 273 تولہ = 1040 دراہم = 4 مُدّ = 3276 ماشہ = 3.184272 کلو گرام۔
☀ رد المحتار:
قوله: (وهو ثمانية أرطال) أي بالبغدادي وهي صاع عراقي وهو أربعة أمداد، كل مد رطلان،
وبه أخذ أبو حنيفة. (مطلب في تحرير الصاع والمد والرطل)
🌹 فائدہ:
صدقۃ الفطر کی ادائیگی کے وقت اپنے علاقے اور شہر کے اعتبار سے مذکورہ بالا چیزوں کی قیمت معلوم کرلینی چاہیے، اور اگر اس حوالے سے مستند دینی اداروں اور اہلِ علم سے راہنمائی حاصل کی جائے تو زیادہ مناسب ہے۔
✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
8رمضان المبارک1441ھ/2 مئی 2020

0 تبصرے