‼️ غیر ثابت اور غیر معتبر روایات کا سد باب کیجیے!
(قسط: 2)
⬅️ امت میں غیر ثابت اور غیر معتبر روایات پھیلنے کی ایک بڑی وجہ:
امت میں غیر ثابت اور غیر معتبر روایات عام ہونے کی متعدد وجوہات واسباب ہیں، ان وجوہات کا ادراک کرنا اور جائزہ لینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر اصل مرض اور کوتاہی کی تشخیص اور درست علاج ممکن نہیں۔ ان میں سے بعض وجوہات تو سنگین غلطی اور بدترین جرم کے زمرے میں آتی ہیں، جبکہ بعض وجوہات مطلوبہ احتیاط کو ملحوظ نہ رکھنے اور اس میں کوتاہی کرنے کے زمرے میں آتی ہیں۔ یہاں ان وجوہات واسباب کا تفصیلی ذکر مقصود نہیں۔ بلکہ یہاں صرف ان وجوہات میں سے ایک وجہ اور سبب ذکر کرنا مقصود ہے اور وہی ایک بڑی وجہ ہے امت میں غیر ثابت اور غیر معتبر روایات عام ہونے کی، اور وہ یہ کہ امت میں غیر ثابت اور غیر معتبر روایات کی ایک بڑی تعداد احادیث کی تحقیق نہ کرنے اور اور احادیث بیان کرنے میں مطلوبہ احتیاط نہ کرنے کے نتیجے میں عام ہوئی ہے اور ہورہی ہے۔ اس سبب اور وجہ کا ایک قابلِ ذکر رخ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے اہلِ علم اور بزرگانِ دین بہت دفعہ اپنے بزرگوں کے ساتھ حسنِ ظن رکھتے ہوئے اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی ذکر کردہ روایات بلا تحقیق بیان کردیتے ہیں، اس صورت میں جب مطلوبہ تحقیق نہیں ہوپاتی تو یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ جو روایات محض اکابر اور بزرگانِ دین پر اعتماد کرکے بیان کی جارہی ہیں کہ ان حضرات کے نقل کرنے کی وجہ سے ان روایات کو ثابت اور معتبر مانا جارہا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ثابت ہی نہ ہوں یا وہ معتبر ہی نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگوں اور اکابر کی کتب وبیانات میں منگھڑت، غیر ثابت اور غیر معتبر روایات کافی تعداد میں موجود ہیں، جن کی نشاندہی پر بھی متعدد اہلِ علم ہر دور میں کام کرتے چلے آرہے ہیں اور دور حاضر میں بھی کررہے ہیں۔
⬅️ بزرگوں کی کتب میں منگھڑت اور غیر ثابت روایات موجود ہونے کی وجہ:
اسی اعتماد کی بنیاد پر روایات بیان کرنے کے پہلو کی تفصیل ذکر کی جائے تو حضرات اکابر اور بزرگان دین میں سے کسی بڑے کی کتاب میں کوئی غیر ثابت، منگھڑت یا غیر معتبر روایت کے مذکور ہونے کی متعدد معقول وجوہات سامنے آسکتی ہیں جو کہ ان حضرات کی طرف سے بطورِ عذر قبل کی جاسکتی ہیں، جیسے:
1️⃣ اپنے سے کسی بڑے عالم اور بزرگ پر اعتماد کرکے حدیث نقل کردینا۔
2️⃣ علمِ اصولِ حدیث میں مہارت نہ ہونے کی وجہ سے حدیث کا منگھڑت یا غیر معتبر ہونا واضح نہ ہونا۔
3️⃣ تحقیق کے لیے متعلقہ کتب میسر نہ ہونا جس کی وجہ سے بڑے حضرات پر اعتماد کرکے حدیث نقل کردینا۔
4️⃣ حدیث کا منگھڑت یا غیر معتبر ہونا واضح نہ ہونا اور دیگر اکابر پر اعتماد کرکے حدیث نقل کردینا کہ انھوں نے تحقیق کرکےہی لکھی ہوگی۔
5️⃣ کسی بڑے کے بارے میں یہ حسنِ ظن ہونا کہ جب انھوں نے حدیث ذکر کی ہے تو ثابت ومعتبر ہی ہوگی۔
6️⃣ اس حدیث کے بارے میں کسی محدث کی جانب سے منگھڑت یا غیر معتبر ہونے کی صراحت نہ ملنا۔
اس طرح کی متعدد ایسی وجوہات ہوسکتی ہیں جو کہ معقول بھی ہیں، لیکن یہ وہ راستہ ہے جس کی وجہ سے امت میں کئی غیر ثابت اور غیر معتبر روایات عام ہوتی چلی جارہی ہیں، اس لیے بزرگوں کی جانب سے مذکورہ باتوں کو بطورِ عذر قبول کرلینے کے باوجود یہ عرض کرنے کی جسارت کی جاسکتی ہے کہ روایات نقل کرنے کے معاملے میں یہ اعتماد کا راستہ امت کے حق میں مفید ثابت نہ ہوسکا، اس لیے اس کا سدباب ضروری ہے۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ بزرگانِ دین نے اپنی کتب میں غیر ثابت اور غیر معتبر روایات جان بوجھ کر ذکر نہیں کیں، بلکہ اگر ان حضرات کو معلوم ہوجاتا کہ فلاں روایت منگھڑت یا غیر معتبر ہے تو وہ اس کو کبھی ذکر نہ فرماتے، جیسا کہ متعدد اکابر سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جب انھیں اپنی کسی کتاب میں کسی غیر ثابت روایت کے بارے بھی علم ہوا تو انھوں نے اس سے رجوع بھی کیا۔
اس لیے بزرگوں میں سے کسی کی کتاب میں کوئی غیر ثابت یا غیر معتبر روایت سامنے آئے تو بداعتمادی، بد زبانی اور بد گمانی سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہم سے زیادہ شریعت کے احکام اور تقاضوں کو پورا کرنے والے اور خوفِ خدا کے حامل تھے۔ سو جب عام مسلمان کے بارے میں حسنِ ظن کا حکم ہے تو ان بزرگوں کے بارے میں تو زیادہ حسنِ ظن کا اہتمام ہونا چاہیے کہ انھوں نے جان بوجھ غیر ثابت اور غیر معتبر روایات ذکر نہیں کیں، بلکہ ان حضرات کی کتب میں غیر ثابت اور غیر معتبر روایات مذکور ہونے کی متعدد معقول وجوہات ہوسکتی ہیں جن کا ماقبل میں ذکر ہوچکا۔
✍🏻 مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
0 تبصرے