سنو! سنو!
مدارس اور داخلے
(ناصرالدین مظاہری)
یہ داستان صرف عمارتوں کی نہیں، مزاجوں کی ہے؛ یہ قصہ صرف مدارس کا نہیں، نیتوں اور ترجیحات کا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب مدرسہ اینٹ، پتھر اور سیمنٹ سے نہیں بنتا تھا، بلکہ اخلاص، قناعت اور علم کی پیاس سے آباد ہوتا تھا۔ جہاں پڑھانے والا ملا محمود یا مفتی سعادت علی مل گیا، وہی مدرسہ کہلانے لگا؛ اور آگے چل کر وہی دارالعلوم اور مظاہرعلوم سے موسوم ہوگیا۔
طلبہ کی کثرت اس لیے نہیں ہوتی تھی کہ وہاں سہولتیں تھیں، بلکہ اس لیے ہوتی تھی کہ وہاں علم کی حرارت تھی، اساتذہ کی شفقت تھی، اور زندگی کو دین کے سانچے میں ڈھالنے کا جذبہ تھا۔
طالب علم دور دراز سے آتے بلکہ اتنی دور سے کہ آج ان کا تصور بھی مشکل ہے۔ کہاں بلخ و بخارا، کہاں تاشقند و سمرقند، کہاں سوات و کابل! ہر خطے کے طلبہ بصد ذوق و شوق حاضر ہوتے تھے۔
پیٹ پر پتھر باندھ کر رہتے، روکھی سوکھی کھا لیتے، ریلوے اسٹیشن پر راتیں گزار لیتے، کبھی پکوڑے بیچ کر، کبھی رکشہ چلا کر گزر اوقات کرتے؛ رات کی مشقت اور دن کا درس یہی ان کی زندگی تھی۔ کبھی چٹائی نصیب، کبھی زمین بستر؛ مگر آنکھوں میں ایک خاص چمک ہوتی تھی یہ چمک ڈگری کی نہیں، دین کے فہم کی ہوتی تھی۔
پھر وقت بدلا… ضرورتیں بڑھیں، تقاضے بدلے، اور دنیا کی چکاچوند نے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
عصری تعلیم کی کشش، ملازمتوں کا دباؤ، اور معاشی تحفظ کی فکر نے ذہنوں کا رخ موڑ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس خالی ہونے لگے، اور جہاں خلا پیدا ہوا، وہاں فکر نے نیا راستہ اختیار کیا۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ خوشنما عمارتیں، صاف ستھرے ہاسٹل، لذیذ کھانے، دلکش وظائف، اور جدید سہولتوں کی ایک دنیا آباد ہے۔ یہ سب اپنی جگہ نعمت ہے، اس سے انکار نہیں؛ مگر سوال یہ ہے:
کیا ان سہولتوں کے سائے میں وہ روحِ علم بھی باقی ہے؟
خطرہ سہولتوں میں نہیں،
خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سہولت مقصد بن جائے اور علم ذریعہ رہ جائے۔
آج اگر ایک طالب علم مدرسہ کا انتخاب اس لیے کرے کہ یہاں وظیفہ اچھا ہے یا رہائش بہتر ہے، تو یہ انتخاب نہیں، ایک سمجھوتہ ہے۔
اور جب نیت بدل جائے تو نتائج بھی بدل جاتے ہیں۔
ہمیں رک کر سوچنا ہوگا:
کیا ہم طلبہ کو صرف اپنی طرف کھینچنے میں لگے ہیں، یا واقعی انہیں علم و عمل کا پیکر بنا رہے ہیں؟
مدرسہ کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس کے کمرے کتنے روشن ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں سے نکلنے والے ذہن کتنے روشن ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
نصاب کو مضبوط کیا جائے،
تدریس کو معیاری بنایا جائے،
اساتذہ کی علمی و تربیتی تیاری پر توجہ دی جائے، اور طلبہ کے اندر اخلاص، فکر اور ذمہ داری کا شعور بیدار کیا جائے۔ اگر ہم نے معیارِ تعلیم و تربیت کو نظر انداز کر دیا، تو یہ چمکتی عمارتیں بھی کل خاموش کھنڈر بن سکتی ہیں۔
ہمیں واپس لوٹنا ہوگا سادگی کی طرف نہیں، بلکہ اصلیت کی طرف۔
کمی سہولتوں کی نہیں، کمی معیار کی ہے؛ کمی Quantity کی نہیں، Quality کی ہے۔
وہ مدرسہ زندہ رہتا ہے جہاں:
کتاب صرف پڑھی نہیں جاتی، سمجھی بھی جاتی ہے؛ سبق صرف یاد نہیں کیا جاتا، زندگی میں اتارا بھی جاتا ہے۔
آخر میں بس اتنا ہی کہ:
مدارس کو مقابلہ سہولتوں میں نہیں، بلکہ معیار، کردار اور اثر میں کرنا چاہیے۔
وقت کی پکار اور تقاضا یہی ہے کہ
ہم عمارتوں کو نہیں، انسانوں کو بلند کریں۔میں بقسم کہتا ہوں اگر آج بھی کسی مدرسہ میں سو فیصد معیاری تعلیم ہوتی ہو نظام تربیت مضبوط ہو تو طلبہ ماہانہ و سالانہ وظائف لینے کے بجائے بھاری فیس دینے کے لئے لائن میں نظر آئیں گے۔

0 تبصرے