سنو سنو!!
مہمان اور مہمان نوازی
(ناصرالدین مظاہری)
کسی بھی شخص اور شخصیت کے حلیہ اور وضع قطع سے آپ بالکل اندازہ نہیں کرسکتے کہ وہ کس مقام اور درجے کا حامل ہے۔ جب آپ گفتگو کرتے ہیں تب حقیقت کا پتا چلتا ہے۔ بہت سے لوگ شاندار عبا و قبا اور لاجواب جبہ و دستار میں نظر آتے ہیں، لیکن وہ دو منٹ بولنے اور دعائے ماثورہ سنانے پر بھی قادر نہیں ہوتے۔ اگر آپ کسی کے پاس مہمان بن کر جا رہے ہیں تو ایک طرف جہاں مہمان نواز پر کچھ حقوق ہیں، وہیں دوسری طرف خود مہمان پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
ضیافت و اَضیاف کے سلسلے میں حکیم الامت اشرف علی تھانوی اور حضرت ہردوئیؒ کا معمول اور نظام بہت اچھا ہے کہ مہمان وقت سے پہلے اطلاع کردے تاکہ اگر مہمان رات کو کسی وقت پہنچے تو بھی اس کے لیے کھانے کا نظم رہے۔ عام طور پر مہمان اس بات کا قطعی خیال نہیں رکھتے اور بے وقت پہنچ کر منتظمین کی پریشانی اور ضیق کا سبب بنتے ہیں، اور پھر بھی چاہتے ہیں کہ ان کی دیکھ ریکھ نوشے کی طرح ہو۔
آپ کی ٹرین رات کے دو تین بجے پہنچ رہی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ مدرسہ و خانقاہ کا گیٹ آپ کے لیے کھلا ملے۔ سوچئے! گیٹ کھولنے والا بھی انسان ہے۔ اس نے حسبِ ضابطہ رات گیارہ بجے گیٹ بند کیا ہے، اسے دن بھر کی تعب و تھکان بھی ہے، آرام کا تقاضا بھی ہے۔ اللہ نے رات آرام کے لیے بنائی ہے، اور آپ اکیلے مہمان نہیں ہیں کہ آپ کے لیے صدرِ جمہوریہ یا وزیرِ اعظم جیسا استقبال کیا جائے۔ آپ جیسے سینکڑوں لوگ ہیں جو اس ادارے اور خانقاہ سے مربوط اور مضبوط تعلق رکھتے ہیں، آپ سے زیادہ مدرسہ کا خیال رکھتے ہیں۔ دس بیس مہمان جاتے ہیں تو اس سے کم یا زیادہ آتے بھی ہیں۔
گیٹ پر بیٹھے شخص کے لیے یہ عام بات اور روزمرہ کا معمول ہے۔ اس کے نزدیک تو مہمانوں کی حالت اور کیفیت ٹرین میں سوار سواریوں جیسی ہے۔ کوئی کتنی ہی بڑی شخصیت ٹرین میں ہو، ڈرائیور کو اپنے حساب سے، نظام سے، نصاب سے ہی ٹرین چلانی ہے۔ نہ مہمانِ محترم کے احترام میں کوئی اسٹیشن چھوڑ سکتا ہے اور نہ خواہ مخواہ کہیں روک سکتا ہے۔ خود مہمان کو نظام کا پابند ہونا ضروری ہے۔
خانقاہوں اور مدارس کے مہمانوں کو اور بھی زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں رات تاخیر سے سونے اور صبح جلدی اٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ وہاں آپ اپنی چلائیں گے تو نقصان اور ضیق میں رہیں گے، ان کے مطابق چلیں گے تو آپ فائدے اور سکون میں رہیں گے۔ خانقاہیں اور مدارس ہوٹل نہیں ہیں کہ ہر شخص کے مناسبِ حال کھان پان ملے گا۔
میں نے حضرت مولانا نثار احمد مظاہری کو دیکھا۔ جب ڈاکٹروں نے بے شمار چیزیں کھانے سے ان کو منع کردیا تو مولانا نے اپنے ساتھ اپنا ٹفن رکھنا شروع کردیا۔ اپنی سبزیاں، اپنا کھانا؛ بس جہاں جس داعی یا جلسہ اور پروگرام میں پہنچے، میزبان کی روٹیاں اور چپاتیاں، اپنی سبزیاں اور ترکاریاں۔ ایک خوان، ایک دسترخوان۔ نہ میزبان زیرِ بار، نہ مہمان بدپرہیزی کا شکار۔ دونوں امن اور سکون میں۔
فرمایا کرتے تھے کہ اس عمل سے کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی، ورنہ عام طور پر لوگ دعوت میں بکرا، مرغا، کٹرا، بٹیرا اور معیاری سے معیاری کھانے بنواتے ہیں۔ اس تیاری میں ان کی لمبی رقمیں خرچ ہوتی ہیں۔ اگر ہم ان سے کہنے لگیں کہ مجھے توری یا بھنڈی چاہیے تو اندازہ کریں ان کا پورا نظام متاثر ہوجائے گا۔ خواتین بھی الگ پریشان اور مرد حضرات الگ حیران۔
اس طرح کی چونچلے بازیاں ہر شخص کو اپنے گھر میں کرنی چاہئیں۔ جلسوں، مدرسوں، خانقاہوں یا اور کہیں نظام کو اپنے پابند کرنے کے بجائے خود کو نظام کا پابند کردو۔ مہمان اور میزبان دونوں کی عافیت اسی میں ہے۔
ایک زندہ بزرگ کا میرے پاس فون آیا کہ دوپہر دو بجے پہنچوں گا۔ چونکہ انھوں نے صیغۂ واحد متکلم استعمال فرمایا تھا، اندازہ ہوا کہ اکیلے ہی آرہے ہیں، اس لیے کھانے کا نظام اسی حساب سے کرلیا گیا۔ لیکن جب پہنچے تو پتا چلا کہ پوری گاڑی ان کے خدام اور مریدین سے بھری ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ حضرت! آپ کو افراد کی تعداد بتانی چاہیے تھی۔ اب دو ہی شکلیں ہیں: اگر وہی کھانا جو آپ کے لیے تیار کرایا گیا ہے سب کے لیے نظم کیا جائے تو ایک گھنٹہ مزید لگے گا، اور اگر مدرسہ کی دال روٹی پر ہی اکتفا کریں تو حاضر ہے۔ چنانچہ شکلِ دوم پر عمل ہوا۔
اندازہ کریں! جب آپ نے اپنی آمد سے انتظامیہ کو مطلع نہیں کیا ہے اور آپ رات کو ایک دو بجے پہنچ رہے ہیں تو آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ جہاں کہیں راستے میں کھانا مل جائے، کھا کر مدرسہ پہنچیں۔ ورنہ اس پریشانی سے بچنے کے لیے آسان سی شکل یہ ہے کہ آپ پہلے ہی اطلاع کردیں۔
پہنچنے کے بعد بھی پہلی فرصت میں آپ منتظمین کو اپنے پرہیز وغیرہ کے بارے میں مطلع کردیں۔ مثلاً کھانے میں آپ کو نان سے پرہیز ہے تو آپ پہلے ہی خبر کردیں تاکہ بر وقت پریشانی نہ ہو۔ بعض لوگوں کو دیکھا کہ آتے ہی حضرت خضر کی طرح چپ چاپ بیٹھے رہیں گے، جب چائے آجائے گی تب فرمائیں گے کہ شوگر کی وجہ سے میٹھی چائے نہیں پیتا۔ ارے بھائی! یہی زبان پہلے ہلا دیتے تو ایک چائے کا نقصان نہ ہوتا اور اسٹاف کو ڈبل محنت نہ کرنا پڑتی۔
اب جب تک چائے آئے گی آپ کے ساتھی رک نہیں سکتے، ورنہ چائے ٹھنڈی ہوجائے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جب چائے پہنچے گی آپ کا دسترخوان مع پکوان تکمیل کے مراحل میں پہنچ چکا ہوگا۔ اتنی ساری پریشانیاں آپ کے بروقت نہ بولنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
خیر! یہ باتیں اللہ والوں کی صحبت اور ان کی جوتیاں سیدھی کرنے سے حاصل ہوتی ہیں۔ جوتیاں سیدھی کیے بغیر جن کو بھی مقامِ بلند مل گیا، ضرور کسی نہ کسی موقع پر خود کو یا اپنے ساتھیوں کو رسوا کیا۔
بعض مہمان تو اور بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ فرماتے ہیں۔ مثلاً اطلاع دی ہے کہ دو دن قیام رہے گا، دورانِ قیام کسی وقت بلا اطلاع غائب۔ متعلقہ افراد جب کسی طرح رابطہ کی کوشش کرتے ہیں یا جب مہمانِ معظم سالمًا غانمًا واپسی فرماتے ہیں تب اطلاع دیتے ہیں کہ فلاں کے یہاں دعوت تھی۔ سوچیں! آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا کھانا تیار کرنے میں مدرسہ کو جو روپے صرف کرنے پڑے، ذمہ داران نے جو محنت کی، اس کا کیا؟
اگر آپ کہیں جا رہے ہیں تو اپنا ٹکٹ میزبان کو واٹس ایپ کردیں اور کہہ دیں کہ میں اسٹیشن اتر کر خود کال کرلوں گا۔ ٹرینیں عموماً لیٹ ہوجاتی ہیں۔ اب آپ نے میزبان سے کہہ دیا کہ تین بجے پہنچوں گا اور ٹرین دو گھنٹے لیٹ ہوگئی، تو یہ دو گھنٹے میزبان کے لیے بہت ہی تکلیف کا باعث بنیں گے۔
اسی طرح آپ اپنے موبائل کی بیٹری سفر کے دوران چارج رکھیں۔ کچھ لوگ پورے سفر موبائل میں مصروف رہیں گے اور جب بیٹری ختم ہوجائے گی تب چادر تان کر سوجائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی کسی خیر خبر سے میزبان کو مطلع نہیں کرسکیں گے اور دونوں طرف ناقابلِ بیان پریشانی برداشت کرنی پڑتی ہے۔
آپ جہاں کہیں جا رہے ہیں، میزبان کو بالکل پریشان نہ کریں۔ منزل کا علم نہیں ہے تو اس سے اس کی کرنٹ لوکیشن منگوالیں اور خود ہی منزل پر پہنچیں۔
0 تبصرے