السلام علیکم میرے دوست،
میرا دل ٹوٹ جاتا ہے جب میں حدیث کی کتابوں میں پڑھتا ہوں
کہ ایک صحابی نے دوسرے سے پوچھا: کہاں سے آ رہے ہو؟
تو اس نے کہا: نبی ﷺ کے پاس سے
اور ایک صحابی نے راستے میں دوسرے صحابی سے پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟
تو اس نے کہا: نبی ﷺ کے پاس
کتنی سادگی تھی،
کتنا حسن تھا،
نبی ﷺ کے پاس سے آنا اور انہی کی طرف جانا!
کاش میں بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوتا،
اور عرض کرتا: یا رسول اللہ! میرا دل دکھتا ہے!
تو وہ میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے، مجھے تسلی دیتے،
شاید فرماتے: غم نہ کرو، یہ چند دن ہیں، گزر جائیں گے!
یا شاید اپنا دستِ مبارک میرے دل پر رکھ کر فرماتے: اے دل! ثابت رہ!
تو میرا دل ٹھہر جاتا، مطمئن ہو جاتا،
جیسے اُحد پہاڑ ان کی آواز سے ثابت ہو گیا تھا!
کاش جب میں انہیں یاد کر کے تڑپتا،
اور میری ہچکیاں نکل جاتیں،
تو وہ مجھ پر بھی ویسے ہی مہربان ہوتے جیسے کھجور کے تنے پر ہوئے،
اور مجھے اپنے سینے سے لگا لیتے،
پھر اس کے بعد دنیا کی کوئی پروا نہ رہتی!
کاش جب میرا کسی محبوب سے جھگڑا ہوتا،
تو میں ان کے پاس جاتا اور شفاعت کی درخواست کرتا،
تو وہ میرے ساتھ چل کر میرے دل کی دراڑ بھر دیتے،
جیسے انہوں نے مغیث کے معاملے میں برِیرہ سے فرمایا: کیا تم اس کی طرف لوٹ نہیں سکتیں؟
کاش اگر میں قرض کے بوجھ تلے دب جاتا،
تو ان کے پاس جا کر شکوہ کرتا،
اور وہ میرے قرض خواہوں سے میرے لیے سفارش کرتے،
جیسے انہوں نے جابر کے قرض کے معاملے میں فرمایا: جابر کو مہلت دو!
کاش اگر کوئی دوست مجھے تکلیف دیتا،
تو میں ان کے پاس جاتا،
اور وہ میرا ساتھ دیتے،
جیسے انہوں نے بلال کے لیے ابو ذر سے فرمایا: تم نے اسے اس کی ماں کے سبب طعنہ دیا؟ تم میں ابھی جاہلیت ہے!
یا شاید میں ان کے نزدیک ابو بکر کی طرح عزیز ہوتا،
تو وہ میرے لیے غضب ناک ہوتے اور فرماتے: کیا تم میرے ساتھی کو چھوڑ دو گے؟
کاش اگر میں بیمار ہوتا،
تو وہ میرے گھر تشریف لاتے،
جیسے سعد بن ابی وقاص کی عیادت کی، اور ان کے دل کو تسلی دی!
کاش اگر کوئی غم مجھے گھیر لیتا،
تو وہ مجھے دلاسہ دیتے،
جیسے اس بچے کو تسلی دی جس کی چڑیا مر گئی تھی!
کاش کوئی چھوٹی سی بات بھی مجھے پریشان کرتی،
تو میں ان کے پاس جاتا،
اور وہ اسے آسان کر دیتے،
جیسے ایک چھوٹی بچی کے ساتھ چل کر اس کی مدد کی!
کاش میں ان کے ساتھ سفر کرتا،
اور اپنے دل و نگاہ سے ان کی حفاظت کرتا،
شاید وہ تھکن سے اپنی سواری پر سو جاتے،
تو میں انہیں سہارا دیتا،
اور وہ مجھے دعائیں دیتے جیسے ابو طلحہ کو دیں: اللہ تمہاری حفاظت کرے جیسے تم نے اپنے نبی کی حفاظت کی!
کاش میں غزوہ اُحد میں ان کے ساتھ ہوتا،
اور طلحہ سے پہلے آگے بڑھتا،
اپنی پیٹھ جھکا دیتا تاکہ وہ اس پر قدم رکھ کر چڑھ جائیں،
اور وہ فرماتے: فلاں پر جنت واجب ہو گئی!
کاش جب بھی حالات تنگ ہوتے،
وہ میرے پاس سے گزرتے جیسے آلِ یاسر کے پاس گزرے،
اور فرماتے: اے یاسر کے گھر والو! صبر کرو، تمہارا ٹھکانہ جنت ہے!
تو اس وقت میرے لیے ہر غم آسان ہو جاتا!
میرے محبوب رسول اللہ ﷺ،
میں آپ کو
کتنا یاد کرتا ہوں!
اور سلام ہو آپ کے دل پر۔
بہ شکریہ البرہان حلقاتِ سیرت

0 تبصرے