سنو سنو!!
بدتمیز کنڈیکٹر
(ناصرالدین مظاہری)
بڑھاپے نے اس کی کمر جھکا دی تھی۔ اس کے گال اندر کی طرف دھنس گئے تھے۔ سر پر چند سفید بال اس کی عمر رسیدگی کی گواہی دے رہے تھے۔ آواز کی کمزوری، بولنے کا انداز اور لرزتے، کپکپاتے ہاتھ پاؤں چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے کہ یہ بوڑھی ماں بس کی درمیانی گیلری میں زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔
اس کے پاس کپڑوں کی ایک پوٹلی تھی، جسے اس نے زمین پر رکھ دیا تھا۔ بس کے جھٹکوں سے وہ کبھی دائیں جانب گرنے لگتی تو کبھی بائیں طرف لڑکھڑا جاتی۔ کبھی پیچھے کی طرف ہچکولے کھاتی تو کبھی آگے کی طرف دو چار قدم بڑھا کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی۔
قریب ہی کچھ جوان اور نوجوان ایسے بے نیازی اور بے پروائی کے ساتھ بیٹھے تھے گویا انہوں نے اس بوڑھی خاتون کو دیکھا ہی نہ ہو۔ میں بس کے بالکل پچھلے حصے میں تھا، جہاں تک وہ بھیڑ کی وجہ سے پہنچ بھی نہیں سکتی تھی۔
میں یہ منظر دیکھ کر حیران، پریشان اور شرمندہ ہو ہی رہا تھا کہ کنڈیکٹر اس کے پاس پہنچا اور کرایہ طلب کیا۔ بوڑھی خاتون اپنی اوڑھنی کے کونے میں بندھی ننھی سی گانٹھ کھولنے لگی۔ گانٹھ کھولنے کے لیے اسے سیٹوں کے سہارے چھوڑنے پڑے۔ اسی دوران بس نے زور کا جھٹکا لیا اور وہ گرتے گرتے بچی۔
کنڈیکٹر نے الٹا اسی پر چیخنا شروع کر دیا: "صحیح سے کھڑا نہیں ہوا جاتا؟"
اس کا غصہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب بوڑھی خاتون کی دی ہوئی رقم میں دو روپے کم نکلے۔ وہ بار بار چیخنے لگا، بدتمیزی کرنے لگا اور کہنے لگا کہ پورا کرایہ دینا پڑے گا۔ مگر بوڑھی خاتون مسلسل یہی کہتی رہی:
"بیٹا! میرے پاس اتنے ہی ہیں، دو روپے ہوتے تو ضرور دیتی۔"
کنڈیکٹر نے سیٹی بجائی، اس کے پیسے واپس کیے اور اتر جانے کا حکم دے دیا۔
بس بھری ہوئی تھی۔ اکثر لوگ جوان، پڑھے لکھے اور عصری تعلیم یافتہ نظر آ رہے تھے، مگر کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو کنڈیکٹر کی بدتمیزی پر اسے ٹوکتا یا یہ کہتا کہ دو روپے کے لیے اس بوڑھی عورت کی توہین کیوں کر رہے ہو؟
بس رک چکی تھی۔ بوڑھی خاتون اپنی پوٹلی اٹھانے کے لیے جھک رہی تھی۔ اس کے بدن پر میلی سی ساڑی اور میلا پلّو اس کے غیر مسلم ہونے کی کہانی سنا رہے تھے۔
اب مجھ سے برداشت نہ ہوا۔ میں کھڑا ہوگیا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ کنڈیکٹر کے پاس جا کر اس کے دو طمانچے رسید کر دوں، مگر بھیڑ اتنی تھی کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ تھا۔
میں نے بلند آواز سے بس میں موجود لوگوں کو للکارا، ان کی خاموشی پر شرم دلائی اور کہا:
"دو روپے کے لیے تمہارے سامنے اس بوڑھی عورت کو ذلیل کیا جا رہا ہے، مگر کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ یہ بھی کسی کی ماں ہے۔ کسی کی اولاد کے لیے اس کا مقام و مرتبہ پہاڑ سے بھی بلند ہوگا۔ یہ کسی کی دادی اور کسی کی نانی ہوگی۔ اور اگر کچھ بھی نہ ہو تو کم از کم ایک بوڑھی اور غریب عورت تو ہے۔"
میں نے کہا:
"تم میں سے کسی نے اس کے لیے اپنی سیٹ خالی نہیں کی، کسی کو دو روپے دینے کی توفیق نہیں ہوئی، اور کنڈیکٹر کی بدتمیزی پر بھی سب خاموش رہے۔ کیا یہی تمہاری مردانگی ہے؟"
میں نے کنڈیکٹر کو پچاس روپے دیے اور کہا:
"اپنے پیسے کاٹ لو اور باقی بھی رکھ لو۔ مگر یاد رکھو، آج میں تمہیں یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ انسان کی عزت و ذلت کا معیار صرف پیسہ نہیں ہوتا۔"
پھر میں نے ڈرائیور سے کہا:
"جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوگا، گاڑی آگے نہیں بڑھے گی۔"
میری اس جرأت کو دیکھ کر بہت سے نوجوانوں کی رگِ حمیت پھڑک اٹھی۔ کئی لوگوں نے اپنی نشستیں بوڑھی خاتون کے لیے خالی کر دیں، کچھ نے شرمندگی سے سر جھکا لیے، اور چند لوگ میرے ساتھ کنڈیکٹر سے الجھنے کے لیے بھی تیار ہو گئے۔
مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں معاملہ خراب نہ ہو جائے، اس لیے میں نے کنڈیکٹر سے کہا:
"فوراً اس بوڑھی ماں سے معافی مانگو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔"
میں نے اسے یاد دلایا:
"قانون بھی یہ کہتا ہے کہ کسی مسافر کو اسٹاپ سے پہلے درمیانِ راستہ نہیں اتارا جا سکتا۔ تم ایسی جگہ اسے کیسے اتار سکتے ہو جہاں سے اسے دوسری سواری بھی نہ مل سکے؟"
بالآخر کنڈیکٹر نے بوڑھی خاتون سے معافی مانگ لی۔
اور بات ختم ہوگئی۔
عموماً کنڈیکٹروں نے شاید یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ کسی غریب، مزدور، یتیم یا بیوہ کے ساتھ ایک روپے کی بھی رعایت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ سرکاری خزانے میں پورا کرایہ جمع کرانا پڑتا ہے۔ یہ بات درست ہے، لیکن صدقہ بھی تو ایک چیز ہے، اور صدقہ ہر مذہب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔
صدقہ اپنی جیب سے دیا جاتا ہے، سرکاری خزانے سے نہیں۔
اگر آپ کسی یتیم، مسکین یا بیوہ پر شفقت کریں، اور اس کے چند روپے اپنی طرف سے ادا کر دیں، تو یقین جانیے کہ آپ کا یہ چھوٹا سا عمل نہ جانے کتنے دلوں میں انسانیت، محبت اور خیر خواہی کا چراغ روشن کر دے گا۔
نیکی کی برکتیں اس وقت تک ظاہر ہوتی رہیں جب تک لوگ خود نیکی کرتے رہے۔ جب دوسروں کو نیکی کا درس دینے اور خود عمل سے دور ہونے کا زمانہ آیا تو برکتیں کم ہوتی چلی گئیں۔
یاد رکھیے! آپ کا عمل ہی بہترین مبلغ، بہترین خطیب، بہترین داعی، بہترین مرشد اور بہترین استاد ہے۔
ذرا عملی میدان میں قدم رکھ کر تو دیکھیے۔

0 تبصرے