65a854e0fbfe1600199c5c82

بے حسی یا بے بسی



 سنو! سنو!!


بے حسی یا بے بسی


(ناصرالدین مظاہری)


* ذرا سی بیماری لاحق ہو جائے تو دوا کے نام، مقدار، اوقاتِ استعمال اور ممکنہ اثرات تک ازبر کر لیتا ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت اس کے لیے حکم بن جاتی ہے۔ ایک ایک پرچی سنبھال کر رکھتا ہے، بار بار پوچھتا ہے، احتیاط کرتا ہے… اس لیے کہ اسے اپنی صحت عزیز ہوتی ہے۔


* کاروبار کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو نفع و نقصان کے اصول، خرید و فروخت کے ضابطے، بازار کی نزاکتیں، گاہک کی نفسیات سب کچھ سیکھ لیتا ہے۔ دن رات تجربہ کرتا ہے، نقصان سے بچتا ہے، فائدے کے راستے تلاش کرتا ہے… اس لیے کہ اسے اپنا سرمایہ عزیز ہوتا ہے۔


* چند بار کسی راستے پر سفر کر لے تو اڈوں، اسٹیشنوں، راستوں اور سواریوں سے ایسی واقفیت حاصل کر لیتا ہے کہ بھٹکنے کا اندیشہ باقی نہیں رہتا… اس لیے کہ اسے اپنی منزل عزیز ہوتی ہے۔


مگر:


* کبھی ٹھہر کر، سنجیدگی سے، تنہائی میں اپنے دل سے پوچھئے:

کیا اپنی آخرت عزیز نہیں؟

تیری پوری زندگی نماز، روزہ اور کھانے پینے میں گزر رہی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ انہی بنیادی چیزوں کے مسائل سے تو ناواقف ہے!

وضو کرتا ہے… مگر یہ نہیں جانتا کہ اس کے فرائض کتنے ہیں اور کون سی کمی اسے بے اثر کر دیتی ہے۔


* نماز پڑھتا ہے… مگر یہ شعور نہیں کہ کون سی غلطی نماز کو توڑ دیتی ہے اور کون سی اسے ناقص بنا دیتی ہے۔


* روزہ رکھتا ہے… مگر یہ علم نہیں کہ کون سی چیز اسے فاسد کر دیتی ہے اور کون سی اس کے اجر کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔


 یہ غفلت نہیں تو اور کیا ہے؟


* دوا میں معمولی غلطی ہو جائے تو فوراً دل دھڑکنے لگتا ہے۔


* کاروبار میں ذرا سا نقصان ہو جائے تو نیند حرام ہو جاتی ہے۔


* راستہ بدل جائے تو قدم رک جاتے ہیں، پیشانی پر فکر کی لکیریں اُبھر آتی ہیں۔


مگر نماز میں خلل آ جائے… تو دل نہیں کانپتا!


وضو ٹوٹ جائے یا درست نہ ہو… تو پریشانی نہیں ہوتی!


روزہ مشکوک ہو جائے… تو اضطراب پیدا نہیں ہوتا!


یہی درد ہے… یہی اصل المیہ ہے!

ہم نے دین کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، بس وراثت میں لے لیا

ہم نے عبادت کو جاننے کی فکر نہیں کی، بس عادت بنا لیا۔


یاد رکھیں!


وہ عبادت جس میں علم نہ ہو، وہ محض ایک حرکت رہ جاتی ہے، روح سے خالی ایک ڈھانچہ جس کا وزن زمین پر تو ہوتا ہے، مگر آسمان تک نہیں پہنچتا۔


میرے عزیز!


یہ لہجہ الزام کا نہیں، درد کا ہے

یہ الفاظ ملامت کے نہیں، خیرخواہی کے ہیں

اب بھی وقت ہے…

اپنے وضو کو سیکھ لیجیے کہ یہی ہر عبادت کی بنیاد ہے۔

اپنی نماز کو سمجھ لیجیے کہ یہی بندگی کی معراج ہے۔

اپنے روزے کو محفوظ کر لیجیے کہ یہی صبر اور تقویٰ کی تربیت ہے۔


(بارہ ذی قعدہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے