سنو سنو!!
تھیلے میں کیا ہے؟
(ناصرالدین مظاہری)
لوگ واقعی عجیب ہوتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اس "عجیب پن" میں ہماری اپنی جھلک بھی کہیں نہ کہیں شامل ہوتی ہے۔
ہماری گلیوں، چوراہوں اور بیٹھکوں میں ایک خاص قسم کی سماجی عادت پروان چڑھ چکی ہے: بلا ضرورت سوال کرنا۔ کوئی شخص ہاتھ میں تھیلا لے کر گزرے تو فوراً سوال داغا جائے گا:
"کیا ہے اس میں؟ کہاں سے آرہے ہو؟"
گویا ہر راہ گیر ایک چلتا پھرتا اشتہار ہو جس کی تفصیل جاننا ہمارا پیدائشی حق ہے۔
بظاہر یہ سوال معمولی لگتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ نجی حدود (Privacy) کی باریک دیواروں پر ہلکی ہلکی چوٹیں ہوتے ہیں اور بار بار کی یہ چوٹیں انسان کو ذہنی طور پر تھکا دیتی ہیں۔
پھر ایک طبقہ وہ ہے جو “خبر رسانی” کو عبادت سمجھتا ہے۔
"ہم نے آپ کو فلاں دن فلاں کے ساتھ دیکھا تھا، خیریت تو ہے؟"
یہ جملہ بظاہر خیر خواہی کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے، مگر اس کے اندر ایک چھپا ہوا تجسس ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی ہمدردی۔
اسی طرح کچھ حضرات "بعد از اطلاع مددگار" ہوتے ہیں:
"اوہو! پہلے کیوں نہیں بتایا؟ ہم تو یہ کام فوراً کردیتے!"
یہ وہ مدد ہے جو ہمیشہ "بعد میں" آتی ہے اور اس کی قیمت صرف ایک جملہ ہوتی ہے، عمل نہیں۔
اور ایک دلچسپ کردار وہ بھی ہے جو ہر بات میں مشیرِ اعلیٰ بن جاتا ہے۔ آپ نے بس اتنا کہا:
"اگر دیوبند جانا ہو تو بتا دیجئے گا"
اب وہ صاحب آپ سے وجہ پوچھیں گے، پھر پوری تقریر کریں گے، حالاتِ زمانہ کا تجزیہ ہوگا، سفر کے فوائد و نقصانات پر روشنی ڈالی جائے گی ، کچھ دیوبند کے تاجروں کی غیبتیں ہوں گی پھر دہلی کے تاجروں سے موازنہ ہوگا اور آخر میں فرمائیں گے:
" ویسے میں تو کل ہی ہو آیا ہوں، اب جانے کا ارادہ نہیں ہے!"
یہ سب رویے بظاہر ہلکے پھلکے ہیں، مگر مجموعی طور پر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں انسان آزادی سے جینا مشکل محسوس کرتا ہے۔ ہر قدم پر سوال، ہر حرکت پر تبصرہ، ہر خاموشی پر شک یہ سب مل کر معاشرتی فضا کو بوجھل اور مکدر بنا دیتے ہیں۔
اصلاح کی ضرورت کہاں ہے؟
اصل مسئلہ سوال کرنے میں نہیں، بلکہ بے جا سوال کرنے میں ہے۔
اسلامی اور اخلاقی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ:
ہر بات جاننی ضروری نہیں ہوتی
ہر سوال کرنا مناسب نہیں ہوتا
اور ہر شخص کی ایک نجی زندگی ہوتی ہے جس کا احترام لازم ہے
قرآن کا اصول بڑا واضح ہے:
" لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ"
(ایسی باتوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو ظاہر ہوجائیں تو تمہیں ناگوار گزریں)
یہ آیت صرف بڑے معاملات کے لیے نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی کے آداب بھی سکھاتی ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اگر ہم واقعی ایک مہذب اور پرسکون معاشرہ چاہتے ہیں تو چند باتیں اپنانی ہوں گی:
ضرورت کے بغیر سوال نہ کریں۔
کسی کی نجی زندگی میں جھانکنے سے گریز کریں۔
اگر واقعی خیر خواہی مطلوب ہو تو عملی مدد کریں، زبانی نہیں۔
دوسروں کو وہی آزادی دیں جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ
ہم اپنی زبان کو قابو میں رکھنا سیکھیں۔
کیونکہ اکثر فتنے ہاتھوں سے نہیں، زبان سے جنم لیتے ہیں۔
اگر ہم دوسروں کے راستے آسان نہیں بنا سکتے، تو کم از کم انہیں مشکل بھی نہ بنائیں۔
یہی چھوٹی سی اصلاح، ایک بڑے معاشرتی سکون کا سبب بن سکتی ہے۔
(دس ذی قعدہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

0 تبصرے