65a854e0fbfe1600199c5c82

راشن کارڈ سے راشن ڈیلر تک



 سنو سنو!!


راشن کارڈ سے راشن ڈیلر تک


(ناصرالدین مظاہری)


عرصہ دس سال پہلے میرے گاؤں کے ایک صاحب کے پاس سرکاری دکان تھی یعنی وہ کوٹے دار تھے۔ میرے چھوٹے والے دو بچوں کا نام راشن کارڈ میں نہیں تھا۔ میں نے قانون کے مطابق نام کا اضافہ کرادیا، مگر کوٹے دار نے دونوں کا غلہ نہیں دیا اور کہہ دیا کہ نئے ناموں پر تین ماہ تک غلہ نہیں ملتا۔

مجھے جب یہ بات بتائی گئی تو میں نے خود کوٹے دار سے بات کی۔ کوٹے دار مسلم تھا، اس لیے ظاہر ہے اپنے مسلمان بھائی کی رعایت کہاں کرنے والا تھا، مجھے بھی صاف جواب دے دیا۔


میں نے کہا کہ میں اوپر والوں سے یہ قانون پوچھ لوں؟


اس نے بڑے روکھے سوکھے لہجے میں کہا: "جو کرنا ہے کرلیجیے، غلہ نہیں ملے گا۔"


میں نے ڈائریکٹ لکھیم پور کے ڈی ایم Sri Shailendra Kumar Singh صاحب کے موبائل پر پوری تفصیل لکھ کر بھیج دی اور عرض کیا کہ میری اس بات کی تحقیق کرالی جائے۔ یہ شخص نئے ناموں پر تین ماہ کا غلہ نہیں دیتا ہے۔ اگر قانون ایسا ہی ہے تو کوئی بات نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو سر! غریب عوام کا حق ان کو ملنا چاہیے۔


ڈی ایم صاحب نے فوراً میری درخواست پر عمل درآمد کیا اور تھوڑی ہی دیر میں میرے پاس ایک فون آیا کہ میں غلہ انسپکٹر بول رہی ہوں، اس وقت لکھنؤ کورٹ میں آئی ہوئی ہوں۔ آپ کی درخواست پر ڈی ایم صاحب نے سخت حکم صادر کیا ہے۔


میں نے کہا: "محترمہ! میرا صرف یہی کہنا ہے کہ سرکار جو غلہ غریبوں کے لیے دیتی ہے، وہ انہی کو ملنا چاہیے، بس۔"


انہوں نے کہا: "فکر مت کیجیے، میں کارروائی کررہی ہوں۔"


اسی دن رات آٹھ بجے وہی کوٹے دار گھر گھر اعلان کرتا پھر رہا تھا کہ جن کے پاس کارڈ ہو یا جن کے پاس کارڈ نہ ہو، غلہ لے لیں۔


کوٹے دار نے پھر مجھ کو فون کیا اور ترش و تلخ لہجے میں کہا: "آپ نے اپنی والی کرلی؟"


میں نے کہا: "میں نے اپنی والی کہاں کی ہے؟ اگر چاہوں تو آپ کے خلاف مزید سخت کارروائی کی کوشش کرسکتا ہوں، مگر میری خواہش سزا دلوانے سے زیادہ اصلاح کی ہے۔"


یہ ایک معمولی واقعہ تھا، مگر اس نے مجھے راشن نظام کی بہت سی تلخ حقیقتوں سے آشنا کردیا۔


غریبوں کے نام پر آنے والا اناج جب سرکاری کاغذوں سے نکل کر زمینی حقیقت میں داخل ہوتا ہے تو اس کا سفر بڑا عجیب ہوتا ہے۔


دہلی، لکھنؤ اور ضلعی دفاتر میں فائلیں بتاتی ہیں کہ حکومت نے کروڑوں غریبوں کے لیے اناج فراہم کیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر مستحق فرد کو اس کا پورا حق مل رہا ہے۔ رپورٹیں کامیابی کے گیت گاتی ہیں اور تقریریں فلاحی منصوبوں کی تعریف سے لبریز ہوتی ہیں۔


مگر ذرا اس غریب مزدور کے ساتھ چل کر دیکھیے جو صبح سے راشن کی دکان کے باہر قطار میں کھڑا ہے۔

اسے نہ رپورٹوں سے غرض ہے نہ اعداد و شمار سے۔ اسے تو صرف اتنا معلوم ہے کہ گھر میں بچے روٹی کے منتظر ہیں۔


اسے بتایا گیا تھا کہ پانچ کلو اناج ملے گا، مگر جب بوری اس کے ہاتھ میں آتی ہے تو وزن کچھ اور نکلتا ہے۔ سوال کرنے پر جواب ملتا ہے:

"سب کو اتنا ہی ملتا ہے۔"


یہ کمی کہاں سے آئی؟


غریب کے حصے کا اناج کہاں گم ہوجاتا ہے؟


کہانی یہاں سے شروع نہیں ہوتی۔

کہتے ہیں راشن کی دکان حاصل کرنے کے لیے سفارشیں چلتی ہیں، دوڑ دھوپ ہوتی ہے اور بعض اوقات جیبیں بھی گرم کی جاتی ہیں۔ پھر اناج گودام سے نکلتا ہے۔ وہاں بھی طرح طرح کی شکایتیں سننے میں آتی ہیں۔ کہیں وزن پورا نہیں، کہیں حساب پورا نہیں۔ رجسٹر میں ایک کوئنٹل درج ہے مگر بوری کا وزن کچھ اور بتاتا ہے۔


پھر وقتاً فوقتاً مختلف عنوانات سے معائنہ کرنے والے آتے ہیں۔ ان کی خاطر مدارات کے قصے بھی زبان زد عام ہیں۔ یوں ہر مرحلے پر ایک نیا خرچ، ایک نئی کٹوتی اور ایک نیا بوجھ پیدا ہوتا ہے۔


آخر یہ بوجھ کس کے سر ڈالا جائے؟

نہ افسر اپنا حصہ چھوڑنے پر آمادہ ہے، نہ نظام اپنی خامیوں کا اعتراف کرتا ہے، نہ دکاندار خسارہ برداشت کرنا چاہتا ہے۔


چنانچہ سب سے کمزور آدمی منتخب کیا جاتا ہے: غریب۔

اس کے حصے کے پانچ کلو چار کلو ہو جاتے ہیں۔ اس کی شکایت کو گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی مجبوری کو خاموشی خریدنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


عجیب بات یہ ہے کہ اس پورے سلسلے میں ہر شخص اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرتا ہے، مگر حقیقی مظلوم وہی رہتا ہے جس کے نام پر یہ سارا نظام قائم کیا گیا تھا۔

سوال صرف ایک کلو اناج کا نہیں، سوال امانت کا ہے۔


جب غریب کے نام پر آنے والی چیز غریب تک پوری نہ پہنچے تو نقصان صرف اس کے پیٹ کا نہیں ہوتا بلکہ ریاست کے اعتماد، معاشرے کے ضمیر اور انسانیت کی بنیادوں کا بھی ہوتا ہے۔


اور جب کسی قوم میں غریب کے حصے پر ہاتھ صاف کرنا معمول بن جائے تو پھر وہاں اناج کی نہیں، دیانت کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔

اب ذیل میں کچھ راہنما ہدایات درج کی جاتی ہیں جن پر عمل کرکے آپ غریب عوام کا حق دلوا سکتے ہیں۔

شکایت کے چند عام طریقے:

ضلع سپلائی آفیسر (DSO) یا ضلع غذائی و رسد افسر کے دفتر میں تحریری شکایت دیں۔


تحصیل سپلائی انسپکٹر یا راشننگ افسر کو درخواست دیں۔

آن لائن شکایت درج کریں۔

اتر پردیش حکومت کی فوڈ اینڈ سول سپلائیز ویب سائٹ پر شکایت (Grievance) درج کی جاسکتی ہے۔


ریاستی ہیلپ لائن پر شکایت کریں۔

اتر پردیش فوڈ اینڈ سول سپلائیز ہیلپ لائن: 1800-1800-150

شکایت نمبر (Complaint Number) ضرور حاصل کریں۔

اگر معاملہ بڑے پیمانے کی بدعنوانی، رشوت خوری یا کالابازاری کا ہو تو ضلع مجسٹریٹ (DM) یا متعلقہ تحقیقاتی اداروں کو بھی شکایت دی جاسکتی ہے۔

شکایت کرتے وقت یہ معلومات ضرور دیں:


راشن دکان کا نام اور کوڈ (اگر معلوم ہو)


گاؤں، تحصیل اور ضلع کا نام۔


راشن کارڈ نمبر۔


واقعہ کی تاریخ۔


گڑبڑی کی مکمل تفصیل۔

اگر ممکن ہو تو تصویر، ویڈیو یا دیگر ثبوت بھی منسلک کریں۔


اس سلسلے میں حکومت بلا تاخیر کارروائی کرتی ہے۔


خوب یاد رکھیں! اپنا حق پانے کے لیے کسی سے کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر آپ پہلے سے شور مچاتے پھریں گے تو ممکن ہے آپ ہی کی منہ بھرائی کرکے آپ کی بولتی بند کرادی جائے۔ اس لیے شور کی ضرورت نہیں، زور کی ضرورت ہے۔

یاد رکھیے! بدعنوانی کا سب سے بڑا سہارا عوام کی خاموشی ہوتی ہے۔ جب لوگ اپنے حق کے لیے قانونی راستہ اختیار کرتے ہیں تو نظام کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ ایک درخواست، ایک شکایت اور ایک آواز بعض اوقات سینکڑوں غریبوں کا حق واپس دلا سکتی ہے۔ اس لیے نہ ڈریں، نہ جھجکیں، قانون نے جو حق دیا ہے اسے استعمال کیجیے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیجیے۔ 


( لائق ذکر ہے کہ میں نے موجودہ ڈی ایم صاحبہ سے شکایت کرکے ایک بار ٹرانسفارمر بھی بدلوایا تھا،یہ لوگ پورے ضلع کے حاکم ہوتے ہیں اور پڑھے لکھے افسران بالا ہیں پوری بات سنجیدگی سے سنتے ہیں)


(پچیس ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے