ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
__________________________
انجمن ”تنویر البیان“ دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم طلبۂ ضلع ’ کشن گنج ‘ کی مایہ ناز، مردم ساز اور انتہائی متحرک و فعال انجمن ہے، یہی تیزگامی اثر اور سبقتِ سفر ہے کہ کل بہ روز جمعرات۱۳/ذی قعدہ30/اپریل ماری اس انجمن کا افتتاحی اجلاس نئی نئی امنگ، امیدوں کی ترنگ، پاکیزہ احساسات اور تازہ جذبات سمیت پوری آن بان شان سے تمام ہوا۔
برکات سے عبارت روایاتِ ا کابر کے مطابق، مقناطیسی و جاودانی کلام رحمانی سے پروازِ تقریب بلند ہوئی، اس میں جہاں نورانی و سدا بہار تلاوت نے ہمیں معطر و معمور کیا اور ایمانی و سحر کار نعت نے مسحور کیا وہیں نظامت کی روانی نفاست اور خطابت کی لسانی طلاقت نے بھی مسرور کر دیا، بعد ازاں ہم نے محفل کو اعتبار بخشنے والوں میں صدرِ مجلس حضرت مولانا مفتی توقیر صاحب کاندھلوی نقشبندی(استاذ انگریزی زبان و ادب دارالعلوم دیوبند) اور روحِ محفل حضرت الاستاذ مولانا محبوب فروغ صاحب (استاذ تفسیر و حدیث دارالعلوم دیوبند) دامت برکاتہم العالیہ کے حوصلہ افزا کلمات عالیہ و نصائح غالیہ کا ہم نے جام پیا کہ اول الذکر نے ایمان و ایقان، علم و عمل اور جملہ مامورات و منہیات پر اجمالاً روشنی ڈالی جبکہ ثانی الذکر نے آب دار موتیوں جیسی بڑی دل کش باتیں گوش گزار کیں، فرمایا:
” اس دنیائے آب و گل میں ایرے غیرے نتھو خیرے کی کمی نہیں، بہتات ہے؛ اس لیے اپنے کو کسی بھی میدان میں متخصص اور اسپیشلسٹ بنایے تبھی آپ کی قیمت ہوگی؛ کیوں متخصصین علم اور ماہرین فن ہی قابل قدر و مقبول ہیں“، ما سوا تو لائق رد و بے قبول ہیں۔ پھر حضرت ہی کی مستجاب دعا نے تکمیلِ تقریب کی۔ یوں پھر تازہ آرزوؤں اور نئے ولولوں کے ساتھ یہ کارواں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوا۔
انجمنوں کی معتبر حیثیت ، مسلم اہمیت اور مستند افادیت سے کسی کو مفر نہیں؛ کیوں کہ یہی انجمنیں ہم طلبہ کی خفتہ استعداد کو دم دار، خوابیدہ صلاحیت کو بیدار اور سکوتِ حق سے بیزار کرتی ہیں، پست حوصلوں کو اڑان دیتی ہیں اور فکر و نظر کے نئے نئے در وا کرتی ہیں۔
ہماری یہ انجمن اکابرؒ و اسلافؒ کی امانت، ان کی شہادت اور معرفت و روایت ہے، یہ بزمِ ' تنویر' انہیں کے نور سے”منورؒ“ ہے، جس ضلعِ "کشن گنج" کی رگ رگ میں اس بزم کا خونِ احسان ہے اسی کا گوشہ گوشہ اس تاجِ انجمن کا باج گزار ہے اور بلبلانِ "سیمانچل" اس گلستانِ جعفرؒ کے گل چیں اور نغمہ زار ہیں۔ {اب اس خم قلم نے میرے ہاتھ روک دیے ہیں}
ع
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی
اسجد نعمانی کشن گنجی
تحريراً في
۱۳/ذیقعدہ/١٤٤۷ھ=1/مئی
جمعرات بہ وقت: سحر وفجر

0 تبصرے