65a854e0fbfe1600199c5c82

حضرت قاری عبد الرشید اجمیری مدظلہ کا بیان اور رجوع



 سنو سنو!!


حضرت قاری عبد الرشید اجمیری مدظلہ کا بیان اور رجوع


(ناصرالدین مظاہری)


میری عادت یہ ہے کہ میں کسی کے بارے میں جلدی بدظن نہیں ہوتا۔ البتہ یہ اعتراف کرنے میں مجھے کوئی تردد نہیں کہ میں بسا اوقات لوگوں پر جلدی اعتماد کر لیتا ہوں۔ میں عموما ہر شخص کو اپنے سے بہتر سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں اور جب تک کوئی بات پوری طرح واضح نہ ہو جائے، کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ ممکن ہے بعض لوگ اسے سادہ لوحی سمجھیں، لیکن میں نے ہمیشہ یہی مناسب جانا ہے کہ بدگمانی سے بچتے ہوئے حسنِ ظن کا دامن تھامے رکھا جائے۔


گزشتہ دنوں گجرات کے راندیر مدرسہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاری عبد الرشید اجمیری صاحب مدظلہ کے ایک بیان کو لے کر دینی حلقوں میں خاصی بے چینی پیدا ہوئی۔ ان کے بعض کلمات سے بہت سے اہلِ علم اور عام مسلمانوں کو رنج پہنچا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں، تنقیدوں اور ردِّ عمل کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس میں اعتدال کی آوازیں کم اور جذبات کی صدائیں زیادہ سنائی دینے لگیں۔ بعض حضرات نے سخت زبان اختیار کی، بعض نے نیتوں پر گفتگو شروع کردی، بعض نے ان کے اخلاص اور خدمات تک کو ہدفِ تنقید بنایا، اور بعض ایسے نتائج تک پہنچ گئے جن کا تعلق اصل مسئلے سے بھی نہیں تھا۔


ان حالات میں متعدد احباب نے مجھ سے بھی اس موضوع پر کچھ لکھنے کی درخواست کی۔ میں نے ان کی بات سنی، ان کے جذبات کو سمجھا، لیکن فوراً قلم اٹھانے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی۔ اس خاموشی کی وجہ نہ بے حسی تھی اور نہ مصلحت۔ اصل وجہ یہ تھی کہ میں نے محسوس کیا کہ معاملے کو تھوڑا وقت دینا چاہیے۔ ممکن ہے صاحبِ بیان اپنی بات کی وضاحت فرما دیں، ممکن ہے رجوع کر لیں، ممکن ہے پوری گفتگو سامنے آنے کے بعد معاملے کی نوعیت کچھ اور معلوم ہو۔ میرا یہ بھی ارادہ تھا کہ اگر ضرورت پیش آئے تو براہِ راست ان سے رابطہ کرکے حقیقتِ حال معلوم کی جائے۔


ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں خبر کے پھیلنے کی رفتار تحقیق کے عمل سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ ایک مختصر کلپ، ایک جملہ یا ایک پوسٹ چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، اور اس کے ساتھ ہی فیصلے بھی صادر ہونے لگتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ اب واقعات کو سمجھنے سے پہلے ان پر اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔


سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک آزمائش بھی پیدا کر دی ہے۔ اب ہر شخص بول رہا ہے، مگر یہ سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کون خیر خواہی کے جذبے سے بات کر رہا ہے، کون اصلاح چاہتا ہے، کون محض جذبات کا اظہار کر رہا ہے، اور کون اختلاف کی آگ کو مزید بھڑکانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بعض لوگ مسئلے کے حل کے لیے میدان میں آتے ہیں اور بعض صرف تماشہ دیکھنے یا تماشہ بنانے کے لیے۔


میرا ماننا ہے کہ کسی شخص کی ایک لغزش یا ایک نامناسب جملہ یقیناً قابلِ گرفت ہو سکتا ہے، اور اگر کوئی بات غلط ہے تو اسے غلط کہنا بھی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ اختلاف کا اصل حسن یہی ہے کہ انسان حق بات بھی کہے اور عدل و توازن کو بھی برقرار رکھے۔


اس پورے واقعے میں ایک خوش آئند پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ جس ویڈیو سے ماحول میں بے چینی پیدا ہوئی تھی، اسی معاملے میں بعد میں وضاحت اور رجوع کی صورت بھی سامنے آگئی۔ اس کے نتیجے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئی اور بہت سے لوگوں کے تحفظات دور ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل اہلِ علم کے شایانِ شان ہے۔ انسان سے لغزش ہو سکتی ہے، لیکن اپنی بات کی وضاحت یا اصلاح کر دینا بڑی اخلاقی جرأت کی علامت ہے۔


اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آتا ہے:

«وَمَا عَمِلْتَ مِنْ سُوءٍ فَأَحْدِثْ لِلَّهِ فِيهِ تَوْبَةً: السِّرَّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلَانِيَةَ بِالْعَلَانِيَةِ»

"اگر کوئی لغزش ہو جائے تو اس پر اللہ کے لیے توبہ کرو، پوشیدہ بات کی توبہ پوشیدہ اور علانیہ بات کی توبہ علانیہ۔"


اگر قاری صاحب نے اپنے وضاحتی بیان کے ذریعے اس اصول پر عمل کیا ہے تو یہ قابلِ قدر بات ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک سوال ہم سب کے لیے بھی باقی رہتا ہے۔


جن لوگوں نے جلد بازی میں ان کے بارے میں نیتوں کے فیصلے صادر کیے، جنہوں نے انہیں طالبِ دنیا، مغرور یا اس سے بھی بڑھ کر مختلف القاب سے نوازا، جنہوں نے ایک جملے کی بنیاد پر ایک طویل علمی اور دینی زندگی کو مشکوک بنانے کی کوشش کی، کیا وہ بھی اپنے الفاظ پر نظر ثانی کریں گے؟ کیا وہ بھی اتنی ہی فراخ دلی کے ساتھ اپنی رائے کی اصلاح کریں گے جتنی بے باکی کے ساتھ انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا؟


آخر انصاف کا تقاضا صرف دوسروں سے نہیں، خود ہم سے بھی ہوتا ہے۔ اگر علانیہ غلطی پر علانیہ رجوع باعثِ تحسین ہے تو علانیہ زیادتی پر علانیہ معذرت بھی کم قابلِ تحسین نہیں۔


میں آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ہر اختلاف میں سب سے پہلے انصاف کو بچانا چاہیے۔ نہ کسی کی محبت ہمیں اندھا کرے اور نہ کسی کی لغزش ہمیں اس کے تمام محاسن فراموش کرنے پر آمادہ کرے۔ جذبات وقتی ہوتے ہیں، لیکن الفاظ کا بوجھ دیر تک باقی رہتا ہے۔ اس لیے بعض اوقات خاموشی، انتظار اور تحقیق، فوری تبصرے سے زیادہ دانش مندی کی علامت ہوتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات سمجھنے، انصاف کے ساتھ کہنے، اور اختلاف کے مواقع پر بھی اخلاق و دیانت کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


( یکم محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری )

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے