65a854e0fbfe1600199c5c82

ہاتھ مت پکڑنا ، مرتی ہے تو مرجائے



 سنو سنو!!


ہاتھ مت پکڑنا ، مرتی ہے تو مرجائے


(ناصرالدین مظاہری)


استاذ محترم حضرت مولانا اطہر حسین اجراڑوی رحمہ اللہ تقویٰ، تدین، حزم، احتیاط، زہد اور استغنا کے ہر میدان میں اپنے اسلاف کی بے نظیر نظیر تھے۔ مجھے اس بات پر جتنا فخر ہے، اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسا استاذ و مربی عطا فرمایا۔ میں رب ذوالجلال کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس دورِ انحطاط میں اس نے مجھے اس دور کا ایک چلتا پھرتا فرشتہ دکھا دیا، جسے دیکھ کر یقین کو استحکام نصیب ہوا کہ عہدِ رفتہ کے اکابر و اسلاف کیسے رہے ہوں گے۔

ہمارے بھائی جمیل احمد ڈرائیور کہتے ہیں کہ میں نے حضرت کے ساتھ چھوٹے اور لمبے، دونوں طرح کے سفر کار سے کیے ہیں۔ کبھی کسی اہم ضرورت کے موقع پر حضرت مولانا اطہر حسین رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ بھی ساتھ ہوتی تھیں، لیکن میں نے حضرت کی اہلیہ کو بڑھاپے میں بھی دستانے پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ پردے کا ایسا اہتمام و التزام میں نے کہیں اور نہیں دیکھا جیسا حضرت کے یہاں دیکھا۔

یہ محض ظاہری پردہ نہ تھا، بلکہ حضرت کی پوری زندگی حزم و احتیاط اور حدودِ شرع کی پاس داری کی آئینہ دار تھی۔ محمد قاسم نیپالی اس وقت ایک چھوٹا سا طالب علم تھا، عمر بمشکل سات آٹھ سال رہی ہوگی۔ حضرت رحمہ اللہ کبھی کسی ضرورت سے اسے گھر بھیج دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت نے فرمایا:

"قاسم! اب تو بلوغ کو پہنچنے والا ہے، اس لیے اب تیرا جانا موقوف کرتا ہوں، اب دروازے ہی سے واپس آجایا کرو۔"

سوچیے! جس شخص کی نگاہ سات آٹھ سال کے بچے کے بارے میں بھی عمر، بلوغ اور شرعی حدود کی طرف متوجہ ہو، اس کی احتیاط کا اندازہ کیجیے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شرعی احکام محض کتابوں میں نہیں، زندگی کے معمولات میں سانس لیتے تھے۔

ایک مرتبہ حج کے سفر میں حضرت کی اہلیہ محترمہ بھی ہمراہ تھیں۔ حضرت کے خادم محمد رضوان بھی ساتھ تھے۔ محمد رضوان بچپن ہی سے حضرت کے زیرِ تربیت رہے ہیں۔ منیٰ کے میدان میں زبردست بارش ہوئی، ایسی بارش کہ پانی نے سیلاب کی صورت اختیار کرلی۔ حضرت مولانا اطہر حسین رحمہ اللہ خود کمزور و ضعیف تھے، اہلیہ محترمہ اس سے بھی زیادہ کمزور اور ناتواں تھیں۔ پیدل چلتے چلتے دونوں تھک کر نڈھال ہوچکے تھے اور پانی کا ریلا خوفناک صورت اختیار کرچکا تھا۔ خطرہ تھا کہ اگر کوئی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور پانی میں گرگیا تو سیلابی ریلہ اسے بہا لے جائے گا۔

ایسے نازک وقت میں خادم محمد رضوان نے عرض کیا:

"حضرت! اگر اجازت ہو تو اماں جی کا ہاتھ پکڑ کر پانی سے گزار دوں؟"

حضرت نے برجستہ فرمایا:

"نہیں، ہاتھ پکڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر پانی میں بہہ جاتی ہے تو بہہ جانے دو۔"

یہ جملہ سن کر بظاہر آدمی چونک سکتا ہے، لیکن حضرت کی زندگی اور ان کے مزاجِ احتیاط کو سامنے رکھیے تو اس ایک جملے میں ان کی غیر معمولی پردہ داری صاف نظر آتی ہے۔ وہ ایسی حالت میں بھی کسی غیر محرم کے ہاتھ کے ذریعے سہارا دینے کو گوارا کرنے کے بجائے خطرے کو برداشت کرلینے پر آمادہ تھے۔

آج حج و عمرہ کے دوران اگر سب سے زیادہ جس گناہ کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے، ان میں ایک بے پردگی بھی ہے۔ بہت سی خواتین اپنے ہوٹلوں اور حجروں میں بھی پردے کا اہتمام نہیں کرتیں، طواف و سعی کے دوران بھی کوئی خاص احتیاط نہیں کرتیں، آمد و رفت میں بھی چہرے کھلے رہتے ہیں اور ان کے ساتھ موجود مرد بھی کوئی نکیر، کوئی روک ٹوک نہیں کرتے۔ مردوں کی یہ خاموشی کبھی کبھی خواتین کو مزید جری بنا دیتی ہے۔

حضرت مولانا اطہر حسین رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ کے انتقال کے موقع پر میں نے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں ایک جملہ خاص طور پر لکھا تھا:

"آپ عورتوں کی مفتی مظفر حسین تھیں۔"

یہ کوئی مبالغہ نہیں تھا۔ وہ حقیقتاً عورتوں کی پیرانی تھیں۔ عورتوں کا ہجوم اور تانتا لگا رہتا تھا۔ وہ تا حیات بچیوں کو دینیات اور ناظرہ قرآن مفت پڑھاتی رہیں۔ ان کی زندگی بھی پردہ، تقویٰ، تعلیم اور خدمتِ دین کا ایک خاموش مگر روشن باب تھی۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اطہر حسین اجراڑوی رحمہ اللہ اور ان کی اہلیہ محترمہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور ہمیں اپنے اکابر کی زندگیوں سے صرف واقف ہونے نہیں بلکہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


(دو ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے