🕯️چراغ نعمانی
🔰اِس دورِ فتن میں ایمان و عقائد کے تحفظ کی ضرورت(1)
_________________________
کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا
تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ ہر زمانے میں جب جب حق و باطل دو بہ دو ہوئے ہیں تب تب باطل قوتوں نے اپنے ساز باز سے قلعۂ حق کو مسمار کرنے اور سفینۂ اسلام میں رخنہ ڈالنے کے لیے متنوع فتنوں کی شکل اختیار کی ہے۔ چنانچہ فتنوں کے اس دور میں بھی جس قدر فرق باطلہ ضالہ نت نئے طریقے سے سر اٹھا رہے ہیں، عدوانِ اسلام جس طرح اپنی مختلف سازشوں سے مسلمانوں کے ایمان و عقائد پر ڈاکہ زنی کررہے ہیں وہ ایک ناقابل تردید حقیقت اور لائق فکر مقام ہے؛ جن فتنوں میں فتنۂ ارتداد، شکیلیت، قادیانیت، نیچریت(الحاد) اور پڑوس میں غامدیت اور مرزائیت سرفہرست ہیں۔
اس نازک ترین صورتحال اور فکر انگیز وقت میں جہاں ان سر ابھارنے والے فتنوں کا سر کچلنا اور ان کا قلع قمع کرنا ناگزیر ہے وہیں فتنہ پرور عناصر سے اپنی ذات اور اپنے ایمان کو بچانےکےلیے عقائد کو جاننا سمجھنا اور اس پر عمل درآمد کرنا بھی لازمی چیز ہے؛ کیوں کہ مسلمانوں کو دین اسلام سے بیزار کرنےکے لیے بعض فتنہ پروروں کی بنیاد ہی یہی ہے کہ وہ انھیں ’درست عقائد‘ سے ہٹاتے ہوئے غلط اور ’من گھڑت عقائد‘ سے واقف کراتے ہیں۔
چنانچہ ’فتنۂ شکیلیت‘ کے دام فریب میں پھنسنے والے موجودہ مسلمانوں کے واقعات و حالات سے یہ بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ ”مسلمہ عقائد“ سے رخ موڑ کر گڑھے ہوئے ”مخترقہ عقائد“ کی ندی میں بہانے کی ناپاک سعی کی جارہی ہے اور اس بہاؤ میں ناخواندہ تو کجا، اچھے خاصے پڑھے لکھے اور باشعور لوگ بھی بہتے دیکھے گئے ہیں؛ لہذا جہاں نا آشناؤں اور اَن پڑھوں کو عقائد سے واقف کرانا نہایت اہم ہے وہیں شناساؤوں اور خواندہ حضرات کو بھی ایمان و ایقان میں جمود و پختگی پیدا کرنا اور بنیادی عقائد کے چراغ فروزاں کیے رکھنا نہایت ہی لا بدی و ضروری امر ہے۔
اس کارگاہِ حیات و کائنات میں ’شمع اسلام‘ کو بجھانے کی ناپاک کوشش میں ایک طرف علانیہ کفر ہے تو دوسری طرف اسلامی لبادے میں ملبوس آستین کے سانپ بھی سر گرم عمل ہیں۔ یہودیت، عیسائیت، ہندومت، دہریت کے حاملین اور بے جان بتوں اور لاچار مورتیوں کے آگے جبین نیاز خم کرنے والے، قبروں اور درگاہوں پر سر ٹیکنے والے، آستانوں اور مزاروں پر ناک رگڑنے والے اور دیگر باطل پرست اپنی اپنی کوشش و کاوش اور یورش و شورش میں مگن ہیں۔
ہمارے اس دور میں مسلمانوں کو ’صراط مستقیم‘ سے بِچلانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں، ٹی وی کی روشنی سے لیکر موبائل کی اسکرین تک، سوشل میڈیا کےہتھیار سے لے کر خارجی و ظاہری اوزار تک؛معاندِ دین چومکھی پیر پسار رہا ہے، ذہنی غلامی سے لیکر جسمانی جبر و جور تک اہل اسلام کو ہر طرح کے پکڑ اور جکڑ سے گزارا جارہا ہے اور ہر قسم کے شکنجوں میں کسا جارہا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ دشمنان اسلام کی خود ساختہ پیداوار بھی نمودار ہو رہی ہے، نئے نئے چہرے دکھ رہے ہیں، ہر روز کوئی نہ کوئی نیا ”اسکالر“ جنم لے رہا ہے، احکام اسلام و عقائدِ ” اہل السنة “ کو تختۂ مشق بنایا جا رہا ہے۔ قوم مسلم؛ قوم کفر کے کچوکوں سے پہلے ہی گھائل ہو چکی ہے اب مستزاد اہل الحاد و بدعت کے ہاتھوں ان پر نمک پاشی کا طوفان ستم برپا کیا جا رہا ہے۔
لیکن اے بندہ مؤمن! ناامیدی و بے فکری کی نیند سے بیدار رہ! تجھے تیرے خالق و مالک نے فطرت مستقیم اور عقل سلیم عطا کی، ایمان کی عظیم نعمت سے نوازا، قرآنِ فرقان دیا، اپنے محبوبﷺ کا فرمان دیا، ترے مکانِ ایمان کو صحابہؓ کا سائبان ملا ؛ تو اب اپنے اکابر و اسلاف کے نقش قدم پر چل کر باطل کو مات دے! اور شکستِ فاش دے!
اب وقت ہے کہ غفلت کوش مسلمان اپنی بے توجہی کی چادر اتار پھینکیں! ملت اسلامیہ کا ہر ایک غیور فرد کمر کس لے! اور ایمان و عقائد(مثلاً : وحدانیت، رسالت اور آخرت وغیرہ جیسے ضروری امور) کے تعلیم و تعلم کا بیڑا اٹھالے! اسلام کا ہر ایک فرد بحرِ علم و فن میں غواصی کر کے اپنا مخفی جوھر دکھلائے! ’عقائد‘ اسلام و کفر فریقین کا جج ہے اور قلعۂ اسلام کا اول و بنیادی دروازہ: ’عقائد‘ ہے، جس پر پہرہ داری کی سخت ضرورت ہے؛ تاکہ ایمانی لٹیرے اِس درِ ایمان (عقائد) کو توڑ نہ سکے ؛ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ایک مسلمان اپنے قلعۂ ایمان کی تحفظ و بقا کے لیے بابِ ” عقائد “ کا پاسبان بنا رہے! اور اسلامی عقائد سیکھنے سکھانے کا آغاز کرے! سلسلہ جاری رکھے! دعا ہے کہ خالقِ دو جہاں حامی و ناصرِ اہلِ ایماں بنا رہے، آمین۔
قلمکشِ افکار:
اسجد نعمانی کشن گنجی
26/ذوالحجہ/1447ھ=12/جون
جمعہ
(جاری۔۔۔۔۔۔۔۔

0 تبصرے