65a854e0fbfe1600199c5c82

مسکراہٹ سے قہقہے تک:



 مسکراہٹ سے قہقہے تک:


اولاد اور تربیتی آلات


(ناصرالدین مظاہری)


ہمارے زمانے میں بچوں کی تربیت کوئی ایک فرد نہیں کرتا تھا، بلکہ پورا گھر اس مقدس فریضے میں شریک ہوتا تھا۔ ابا جان چیف ایگزیکٹو تھے، امی جان مستقل سیکریٹری، اور باقی گھریلو سامان مستقل و عارضی ملازمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتا تھا۔

سب سے پہلے ذکر ابا جان کے ترچھے چشمے کا۔ یہ چشمہ دنیا کا واحد چشمہ تھا جو ناک پر سیدھا رہتا تھا، مگر غصے کے وقت ترچھا ہوجاتا تھا۔ جونہی ابا جان اسے ذرا سا نیچے کرکے اوپر سے گھورتے، ہماری روح گھٹنوں میں آجاتی۔ یہ "خاموش ایٹمی دھمکی" تھی۔ اس چشمے نے شاید کبھی کسی کو مارا نہیں، لیکن اس کی ایک ترچھی نظر نے نہ جانے کتنے بچوں کو فوراً نیک، پارسا اور فرماں بردار بنا دیا۔


پھر آتے ہیں لکڑی کے کھڑاؤں پر۔ سبحان اللہ! وہ جوتا نہیں تھا، چلتا پھرتا لاؤڈ اسپیکر تھا۔ ابا جان ابھی صحن سے باہر ہوتے تھے، مگر کھڑاؤں کی "کھٹ... کھٹ... کھٹ..." اعلان کر دیتی تھی کہ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْۚ-لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗۙ۔ "اپنی اپنی پوزیشن سنبھال لو!" جو بچہ ابھی تک چھت پر پتنگ اڑا رہا ہوتا، وہ پلک جھپکتے میں کتاب کھول کر ایسے بیٹھ جاتا جیسے بخاریؒ کی شرح لکھ رہا ہو۔ کھڑاؤں کی آواز ہمارے گھر کا سائرن تھی، جس کے بجتے ہی شرارتوں کی دکانیں بند اور معصومیت کی دکانیں کھل جاتی تھیں۔بھابھیوں کی گفتگو بھی سرگوشیوں میں بدل جایا کرتی تھی۔

اور وہ ٹائر سے بنی ہوئی چپلیں! اللہ اللہ! ان کی پائیداری پر تو آج کی بڑی بڑی کمپنیاں رشک کرتی ہیں ۔ ایک ہی چپل میں دو بھائی، تین موسم اور چار عیدیں گزر جاتیں، مگر مجال ہے کہ وہ وفاداری چھوڑ دے۔ وہ چپل صرف پہننے کے لیے نہیں تھی، اس کی شخصیت میں ایک عجیب رعب تھا۔ اس کی موٹی ربڑ دیکھ کر ہی بچے اپنی رفتار درست کر لیتے تھے۔ اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی ریٹائرڈ حوالدار کو دوبارہ ملازمت پر بلا لیا گیا ہو۔

اور جھاڑو؟ ارے صاحب! جھاڑو کو کیسے بھول جائیں! وہ صرف گھر کی گرد صاف نہیں کرتا تھا، بچوں کے دماغ سے شرارت کی گرد بھی جھاڑنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی ہڑتال پر نہیں جاتا تھا۔ صبح صفائی، دوپہر کونے میں آرام، اور شام کو اگر کسی نے گلدان توڑ دیا یا پڑوسی کے آم پر کامیاب حملہ کر دیا تو فوراً "اوور ٹائم" پر حاضر!


اب ذرا اس پورے منظر کا تصور کیجیے۔ سامنے ابا جان، ناک پر ترچھا چشمہ، پاؤں میں کھڑاؤں، ایک طرف ٹائر والی چپل باوقار انداز میں رکھی ہوئی، ادھر امی جان کے ہاتھ میں چمٹا، دیوار کے ساتھ جھاڑو، کونے میں بھونکنی، اور دروازے کے پیچھے وائپر۔ ایسے ماحول میں بے چارے بچے کی تربیت نہ ہو تو آخر کہاں ہو؟


آج کے بچے "اسکرین ٹائم" سے ڈرتے ہیں، ہم "کھڑاؤں ٹائم" سے ڈرتے تھے۔ انہیں موبائل کا پاس ورڈ یاد رہتا ہے، ہمیں ابا جان کے ترچھے چشمے کا زاویہ یاد رہتا تھا۔ وہ زاویہ جتنا بڑھتا جاتا، ہماری نیکیوں کی رفتار بھی اتنی ہی تیز ہوجاتی تھی!


(آٹھ صفر المظفر چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے