65a854e0fbfe1600199c5c82

فیل سے فعل تک (قسط 4)



سنو سنو!!


فیل سے فعل تک


(قسط 4)


(ناصرالدین مظاہری)


ہر چیز اپنا مزاج بدلتی ہے۔ مزاج صرف انسان کا نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر شے اپنا ایک مزاج رکھتی ہے۔ موسموں کا تغیر، آسمانوں کی کیفیات، موجوں کا تموج، زمینوں کی زرخیزی، پہاڑوں کی شادابی، جنگلات کی سبزہ زاری اور ریگستانوں کی تبدیلی؛ کون سی چیز ہے جو اپنے حال پر قائم رہتی ہو؟ حتیٰ کہ دوائیں، جن کا ایک مستقل مزاج ہوتا ہے، وہ بھی موسموں کے بدلنے سے اپنی تاثیر اور کیفیت میں فرق محسوس کراتی ہیں۔


پہلے زمانے کی زبانیں آج جیسی نہیں تھیں، پہلے لوگوں کا مزاج آج کے لوگوں جیسا نہ تھا، جسم و جان کی قوتیں بھی مختلف تھیں۔ یہ ساری تبدیلیاں گویا چیخ چیخ کر اعلان کرتی ہیں کہ:


سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں


ہر چیز صرف اپنا ذوق ہی نہیں بدلتی بلکہ اپنا ذائقہ بھی بدلتی ہے۔ پہلے جیسی غذائیں نایاب ہوچکی ہیں، کھانے پینے کی بیشتر چیزوں کے ذائقے بدل چکے ہیں، جسم و جان کے تقاضے بدل گئے ہیں اور مائدہ و معدہ بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔


سردی، گرمی، برسات، خزاں اور بہار کے موسم ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان کو بھی حالات اور ماحول کے مطابق اپنے طرزِ عمل میں مناسب تبدیلی لانی چاہیے۔ زندگی میں کامیابی کا ایک راز حالات کی رعایت بھی ہے۔


میں نے خود دیکھا کہ میرے والد صاحب پہلے چنے کی کاشت کرتے تھے، پھر چنے چھوڑ کر مٹر بونے لگے۔ ایک زمانے میں سن کی کاشت بھی کی، جس سے رسیاں تیار ہوتی تھیں، مگر بعد میں یہ سب چھوڑ کر دھان، گیہوں اور گنے کی کاشت پر توجہ دینے لگے۔


میں نے دریافت کیا کہ اب چنے کی کاشت کیوں نہیں کرتے؟ فرمایا: ’’زمین نے اپنا مزاج بدل لیا ہے، اب ہمارے علاقے میں چنے کی پیداوار پہلے جیسی نہیں ہوتی۔‘‘


اس جواب سے میں نے یہ سبق حاصل کیا کہ جس علاقے کا جو موسم اور ماحول ہو، وہی چیز وہاں زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔ عرب میں کھجوریں پیدا ہوتی ہیں، بھارت کے مختلف علاقوں میں مختلف فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ کیرالہ کے لوگ ناریل کی کاشت کرتے ہیں جبکہ شمالی ہند کے بہت سے لوگ ناریل کے درختوں سے واقف نہیں۔ اسی طرح یوپی میں دھان، گیہوں اور گنے کی فراوانی ہے، جبکہ کشمیر سیب، اخروٹ اور زعفران کے لیے مشہور ہے۔


یہ تمام اختلافات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر خطے کا ماحول اور موسم الگ بنایا ہے، اور اسی تنوع میں اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ جلوہ گر ہے۔


جس طرح زمینوں کے مزاج مختلف ہوتے ہیں، اسی طرح انسانی ذہن اور صلاحیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر طالب علم قرآنِ کریم حفظ کرسکے، مفتی یا عالم بن سکے، اور نہ ہی ہر شخص ڈاکٹر، انجینئر یا کامیاب کسان بن سکتا ہے۔


اس حقیقت کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر موبائل کی میموری یکساں نہیں ہوتی۔ جس میں جتنی گنجائش ہو، اتنا ہی مواد محفوظ ہوسکتا ہے۔ انسانی ذہن بھی مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ہر ذہن سے ایک ہی نوعیت کی کارکردگی کی توقع کرنا درست نہیں۔


دینی مدارس کے جو طلبہ زیادہ ذہین اور محنتی ہوں، انہیں آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع ملنے چاہئیں، اور جو طلبہ نسبتاً کمزور ہوں، ان پر انفرادی توجہ دی جانی چاہیے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ انفرادی محنت کا نتیجہ اکثر اجتماعی محنت سے زیادہ بہتر اور دیرپا ثابت ہوتا ہے۔


اس سلسلے میں ہمارے استاذِ محترم حضرت مولانا اطہر حسین مظاہری رحمہ اللہ اور ہمارے ناظم حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ کو بڑا تجربہ حاصل تھا۔ وہ ہر طالب علم کی استعداد کو سمجھ کر اس کے مطابق رہنمائی فرماتے تھے۔

میری رائے میں دینی مدارس اور عصری جامعات دونوں میں ایسا منظم نظام ہونا چاہیے جس کے تحت کمزور، سست رفتار یا خصوصی توجہ کے محتاج طلبہ کے لیے تجربہ کار اساتذہ مقرر کیے جائیں۔ سہل اور مؤثر اندازِ تدریس اختیار کیا جائے، بورڈ اور جدید تعلیمی وسائل سے مدد لی جائے اور ان کے اندر اعتماد پیدا کیا جائے، تاکہ نہ کوئی صلاحیت ضائع ہو، نہ کوئی طالب علم احساسِ محرومی کا شکار ہو، اور نہ ہی حوصلہ شکن رویوں کی وجہ سے معاشرے کا مفید فرد بننے سے محروم رہ جائے۔


(سترہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے