65a854e0fbfe1600199c5c82

پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے


 سنو سنو!!


پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے


(ناصرالدین مظاہری)


آج میں بہت ٹینشن میں رہا۔ مجھے الحمدللہ بلڈ پریشر کا مسئلہ نہیں ہے، لیکن مجھے لگا کہ میرے دماغ میں ہتھوڑے چل رہے ہیں۔ خدا جانے نیند کیسے آئے گی۔


ہوا یہ کہ آج میرے ایک خاص اہلِ تعلق مجھ سے ملاقات کے لیے جلال آباد کے علاقے سے آئے۔ انھوں نے دورانِ گفتگو ایسے ایسے حقائق بتائے کہ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ آج کی اس قسط کا جملہ مواد انہی کرم فرما کی گفتگو کا خلاصہ ہے۔


 * ریشی کیس، سہارنپور اور مظفر نگر، تینوں جگہوں پر میں جاچکا ہوں ، ہر جگہ سرکاری ہسپتال میں ایڈز کی دوا بالکل مفت دی جاتی ہے۔ مارکیٹ میں یہ دوا تقریباً چھ سات ہزار روپے میں ملتی ہے۔ یہ دوا لینے والے مریضوں میں اکثر مسلمان مرد و عورتیں شامل ہیں۔ ایک عورت تو اپنے گھر کے ہی چار الگ الگ افراد کے لیے پرچہ دکھا کر دوا لے رہی تھی۔


* آپ کے شہر میں ایڈز کے مسلم مریضوں کی تعداد اتنی ہے کہ آپ سن کر چکرا جائیں گے۔ یہاں گھنٹہ گھر، ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر برقعہ پوش خواتین باقاعدہ اپنے گاہکوں کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہیں۔


* میں ایک بار اپنی والدہ کے ساتھ گھنٹہ گھر پر بس کا منتظر کھڑا تھا کہ ایک نوجوان لڑکی نے آ کر بے حیائی کے ساتھ گناہ کی دعوت دی۔ میری والدہ یہ منظر دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں اور دانتوں تلے انگلی دبا لی۔


* دوسری بار تو میرے سسر کے سامنے ہی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔


* مفتی صاحب! وہ دن دور نہیں ہے جب آپ دیکھیں گے کہ ایڈز اور شراب کے مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ ملک میں دوا کم پڑ جائے گی۔


* شراب کے نشے میں دھت ایک باپ نے اپنی ہی نوجوان بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنا لیا۔ جب نشہ اترا تو بیٹی نے پوری بات اپنے باپ کو بتائی۔ ایک دن اس باپ نے مجھ سے کہا کہ اپنے پھلوں کے پیسے لینے کے لیے گھر آ جانا۔ میں گھر گیا تو کہنے لگا: "میری بیوی کا گزشتہ سال انتقال ہو گیا تھا، یہ میری بیٹی ہے۔ پچھلے دنوں مجھ سے نشے کی حالت میں گناہ ہو گیا، تب سے یہ بار بار مجھ سے گناہ کا اصرار کر رہی ہے، تم اس کی خواہش پوری کر دیا کرو۔"


وہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے پیسے بھی نہیں لیے اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔


* ایک مرد کسی عورت کو اتنی جلدی نہیں بہکا سکتا جتنی جلدی ایک فاحشہ، کسبی عورت درجنوں عورتوں کو بہکا سکتی ہے۔ کسبی عورتوں سے اپنی عورتوں کی حفاظت اتنی ہی ضروری ہے جتنی غیر مردوں سے۔


* جو عورتیں اکیلے مارکیٹ جاتی ہیں، سامان خریدنے کے لیے، انھیں عیاش مرد اپنی نظر میں رکھتے ہیں، اخلاق اور ظاہری ہمدردی دکھاتے ہیں، اور عورتیں ان کے اس ظاہری اخلاق سے پسیج جاتی ہیں، اپنے گھروں کے حالات شیئر کرتی ہیں، اور یہیں سے بربادی کا راستہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عورتیں گناہوں کی ایسی دلدل میں دھنستی اور پھنستی چلی جاتی ہیں کہ پھر واپسی چاہ کر بھی نہیں کر سکتیں، کیونکہ ان کی ویڈیوز بلیک میلنگ کے شاطر اور اوباش بدمعاشوں کے پاس محفوظ ہوتی ہیں۔


* خدا را! اپنی عورتوں کو غیروں سے بھی بچائیں اور اپنوں سے بھی بچائیں۔ یہ "کزن" نام کی جو اصطلاح چل پڑی ہے، یہ بھی لڑکیوں کے لیے بربادی کا زینہ ثابت ہوتی ہے۔


* اکثر لڑکیاں "کزن، کزن" بولتے بولتے کب ان کی زن ہو جاتی ہیں، پتا ہی نہیں چلتا۔


* ہسپتالوں میں حرام اولاد کی پیدائش اتنی بڑھ چکی ہے کہ حلال اولاد کی تعداد کم پڑتی محسوس ہو رہی ہے۔ بہت سے کیس تو ولادت سے پہلے ہی ختم کر دیے جاتے ہیں، ورنہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔

خدا را! اپنے گھروں کو بچائیں۔ امت مختلف مسائل کا شکار ہے۔ ہر روز ایک نیا مسئلہ سننے کو مل رہا ہے۔ ان مسائل سے کیسے نمٹنا ہے، یہ کام صرف علماء کا نہیں ہے، بلکہ ہر سنجیدہ مسلمان کو میدان میں آنا پڑے گا اور اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی پڑے گی۔


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (سورۃ التحریم)


"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"


(چار صفر المظفر چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے