65a854e0fbfe1600199c5c82

زبردستی کی دعوت



 سنو سنو!!


زبردستی کی دعوت


(ناصرالدین مظاہری)


سہارنپور میں موبائل فون کے ایک بڑے کاروباری ہیں تنویر بھائی۔ گول کوٹھی سہارنپور میں نیو ملک موبائل شاپ" کے نام سے ان کی دکانیں ہیں، ماشاء اللہ خوش اخلاق، علماء نواز، شریف، ملنسار اور کم گو ہیں۔

مجھ سے ایک عرصہ سے محبت کرتے ہیں اور سال میں کئی بار ان کے دولت کدہ پر جاکر ان کے دسترخوان کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔


انھوں نے اپنے بھائی ڈاکٹر جنید اطہر کی شادی کی اور اتفاق سے مجھے دعوت نامہ نہیں دیا۔ مجھے بالکل تعجب نہیں ہوا نہ ہی میں نے محسوس کیا بلکہ شادی گھر میں وقت پر پہنچا اور ملاقات کی۔


 انھوں نے حسبِ سابق تپاک سے ملاقات کی، الگ سے میز لگوائی، کئی عدد نوجوانوں کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری سونپی اور بالکل نہیں لگا کہ انھوں نے مجھے مدعو نہیں کیا تھا، نہ ہی میں نے بتایا۔


کھانے سے فارغ ہوکر مجھے اپنے پاس بٹھالیا اور خیر خیریت پوچھنے لگے۔ میں نے ان کے کان میں کہا کہ آپ کی دعوت کے بغیر میں یہاں آیا ہوں۔


انھوں نے اظہارِ تعجب کیا اور کہا کہ میری لسٹ میں آپ کا نام موجود ہے اور میں نے فلاں صاحب کی ذمہ داری لگائی تھی کہ مدرسہ کے اساتذہ کو کارڈ پہنچادیں۔ انھوں نے اس بندے کو اسی وقت بلایا اور فہمائش کی۔ اس نے بتایا کہ میں دوبار کمرہ پر پہنچا مگر کمرہ بند پاکر فلاں صاحب کو دعوت نامہ دے آیا تھا اور کہہ کر آیا تھا کہ کارڈ پہنچادیں۔


خیر! مقصد یہ بتانا ہے کہ ہم لوگوں میں سے اکثر کی عادت ہوگئی ہے ذرا سی بات پر بدظنی کی، بدگمانی کی، شکوہ شکایت کی۔ سوچئے! کیا اس موقع پر ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ میں ان سے بدظن ہوجاتا، شرکت نہ کرتا، پھر ملاقات ہوتی تو شکایتوں کے انبار لگادیتا؟


حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے بہت سے جھگڑے، تعلقات کی بہت سی دراڑیں اور دلوں کی بہت سی دوریاں کسی بڑے جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہم واقعہ معلوم کرنے سے پہلے فیصلہ صادر کردیتے ہیں، وضاحت سننے سے پہلے رائے قائم کرلیتے ہیں اور تحقیق سے پہلے بدگمانی کو سچ مان لیتے ہیں۔

دعوت نامہ نہ ملنا، فون کا جواب نہ آنا، سلام کا جواب سنائی نہ دینا، ملاقات میں بے توجہی محسوس ہونا یا کسی تقریب میں نام رہ جانا، یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کے پس پردہ بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں؛ لیکن ہم عموماً سب سے پہلے منفی وجہ ہی تلاش کرتے ہیں۔ گویا ہمارے دل کی عدالت میں سامنے والا شخص پہلے ہی مجرم قرار پاچکا ہوتا ہے۔


حالانکہ اہلِ ایمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں۔ وہ کسی کے عمل کی بہتر توجیہ تلاش کرتے ہیں۔ اگر ننانوے احتمالات برے ہوں اور ایک احتمال اچھا ہو تو وہ اسی ایک اچھے احتمال کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


میرا اپنا تجربہ ہے کہ جن لوگوں سے ہمیں شکایت ہوتی ہے، اکثر اوقات حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلتی ہے۔ کبھی پیغام پہنچانے والے سے کوتاہی ہوجاتی ہے، کبھی حالات آڑے آجاتے ہیں، کبھی مصروفیات رکاوٹ بن جاتی ہیں اور کبھی محض ایک معمولی غلط فہمی ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔


اس واقعہ نے مجھے پھر یاد دلایا کہ تعلقات کو بچانے کا سب سے آسان نسخہ حسنِ ظن ہے۔ اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں تو ایک واقعہ کی بنیاد پر اس محبت کو قربان نہ کیجیے۔ اگر کسی سے اچھے تعلقات ہیں تو ایک غلط فہمی کی نذر نہ ہونے دیجیے۔ پہلے دریافت کیجیے، پھر فیصلہ کیجیے۔


تنویر بھائی نے تو مجھے دعوت دی تھی، البتہ دعوت نامہ راستے میں کہیں اٹک گیا یا بھٹک گیا ۔ لیکن اگر میں نے بدگمانی کرلی ہوتی تو شاید ایک خوبصورت تعلق بھی دل کی گرد میں چھپ جاتا۔


اس لیے میں کہتا ہوں کہ بعض اوقات زندگی میں زبردستی کی دعوت سے زیادہ ضروری زبردستی کا حسنِ ظن ہوتا ہے؛ کیونکہ یہی حسنِ ظن دلوں کو جوڑتا ہے، رشتوں کو بچاتا ہے اور محبتوں کو قائم رکھتا ہے۔


(اٹھارہ ذوالحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے