65a854e0fbfe1600199c5c82

عطر، دودھ اور تکیہ



 سنو سنو!!


عطر، دودھ اور تکیہ


(ناصرالدین مظاہری)


دہلی میں ایک صاحب کے یہاں رات قیام کرنا تھا۔ سردی کا موسم تھا۔ مجھے جو لحاف دیا گیا اس میں کریم یا پاؤڈر جیسی مہک محسوس ہورہی تھی۔ اس لحاف کے استعمال میں عجیب سی ناگواری ہوئی اور صاحبِ خانہ سے کہہ کر لحاف تبدیل کرایا، تب نیند آسکی۔


دوسرا واقعہ خود میرے گھر کا ہے۔ ایک دن مہمان زیادہ تھے، میرا تکیہ بدلا ہوا تھا۔ اس پر سر رکھتے ہی نہایت تیز نسوانی خوشبو کا احساس ہوا۔ فوراً اپنا تکیہ منگوایا تب سکون ملا۔


بعض تکیوں، لحافوں اور بستروں میں تیل، خوشبو یا دیگر کیمیکل لگے ہوتے ہیں جن کی بو طبیعت پر گراں گزرتی ہے، اس لیے تکیہ یا لحاف دیتے وقت خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ صاف ستھرے اور ناگوار بو سے پاک ہوں۔


بہت سے احباب محبت سے عطر پیش کرتے رہتے ہیں، لیکن ہر خوشبو طبیعت کے موافق نہیں ہوتی۔ چند ہی خوشبوئیں ایسی ہوتی ہیں جن کی طرف دل مائل ہوتا ہے۔ تاہم محبت اور خلوص کی قدر کرتے ہوئے عطر قبول کرلیا جاتا ہے، پھر اسے کسی اور مناسب جگہ پہنچا دیا جاتا ہے۔ عطر کی بوتلوں کا انبار لگانے سے کیا فائدہ ۔


دودھ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بعض لوگوں کو دودھ بے حد پسند ہوتا ہے، بعض کو اس سے الرجی ہوجاتی ہے اور بعض کو اطباء استعمال سے منع کردیتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص دودھ، خوشبو یا اس قسم کی کسی چیز کو قبول نہ کرے تو فوراً اسے متکبر قرار نہیں دیا جاسکتا۔


ان واقعات کے بعد مجھے اس حدیث کی یاد آئی جس میں تکیہ، دودھ اور دُہن (خوشبو) کو رد نہ کرنے کی ہدایت منقول ہے۔ چنانچہ مناسب معلوم ہوا کہ اس روایت اور اس کی تشریح پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔


احادیثِ نبویہ کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو خوش دلی سے قبول کرے اور حتی المقدور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ شریعت کے بعض احکام کی حکمتیں واضح ہوتی ہیں اور بعض کی حکمتیں انسان کی سمجھ میں فوراً نہیں آتیں، لیکن مومن کا اصل شیوۂ حیات اطاعت اور تسلیم ہے۔


عطر، دودھ اور تکیہ کے بارے میں ایک روایت منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


"ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ: الْوِسَادَةُ، وَالدُّهْنُ، وَاللَّبَنُ"

ترجمہ: "تین چیزیں رد نہ کی جائیں: تکیہ، دُہن (خوشبودار تیل یا خوشبو) اور دودھ۔"

(جامع الترمذی، کتاب الأدب)


محدثین نے اس روایت کی سند کے بارے میں گفتگو کی ہے، اس لیے اسے اعلیٰ درجے کی صحیح احادیث میں شمار نہیں کیا جاتا، تاہم شارحینِ حدیث نے اس کے مفہوم اور حکمت پر تفصیلی بحث کی ہے۔


حکم کی حکمت:


حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جن کی طرف انسانی طبیعت کا فطری میلان ہوتا ہے اور ان کے پیش کرنے میں دینے والے پر کوئی خاص بوجھ بھی نہیں پڑتا۔ اس لیے ان کے قبول نہ کرنے کے لیے عام طور پر کوئی معقول عذر باقی نہیں رہتا۔


اسی مفہوم کو دیگر علماء نے بھی بیان کیا ہے۔


شیخ محمد زکریا کاندھلویؒ الکوکب الدری میں لکھتے ہیں:


"لأن الطباع مائلة إليها فالرد فيها لا يكون إلا محضًا من التكلف الظاهري إذ ليس فيها مؤنة وشقة على المهدي حتى يتعلل بأن الرد لأجل الإبقاء عليه فلا يكون إلا تكبرًا"

ترجمہ: "طبعی طور پر لوگوں کا میلان ان چیزوں کی طرف ہوتا ہے، اس لیے ان کا رد کرنا بظاہر محض تکلف معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ان کے پیش کرنے میں دینے والے پر کوئی مشقت اور بوجھ نہیں ہوتا کہ رد کرنے والا یہ عذر پیش کرسکے کہ میں دینے والے کو زحمت سے بچانے کے لیے قبول نہیں کررہا، لہٰذا اس صورت میں رد کرنا تکبر سے خالی نہیں رہتا۔" (الکوکب الدری، 3/411)


اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا اصل مقصد معاشرتی تکلفات اور بے جا انکار کی اصلاح ہے۔


"لا تُرد" کا مطلب کیا ہے؟

حدیث کے الفاظ ہیں:

"ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ"

ظاہری ترجمہ ہے: "تین چیزیں رد نہ کی جائیں۔"

لیکن شارحین نے وضاحت کی ہے کہ یہاں ممانعت کا مطلب وجوب نہیں بلکہ استحباب اور ادب ہے۔


علامہ عبدالرؤوف مناویؒ لکھتے ہیں:

"ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ أَيْ لَا يَنْبَغِي رَدُّهَا"

ترجمہ: "تین چیزیں رد نہ کی جائیں، یعنی ان کا رد کرنا مناسب نہیں۔" (فیض القدیر، 3/310)

اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا مقصود اخلاقی رہنمائی ہے، نہ کہ ایسا وجوب جس کی مخالفت پر گناہ لازم آتا ہو۔


اگر ضرورت یا رغبت نہ ہو تو؟


اگر کسی شخص کو دودھ، خوشبو یا ایسی کوئی چیز پیش کی جائے اور وہ کسی عذر کی بنا پر اسے استعمال نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ وضاحت کے ساتھ معذرت کرسکتا ہے۔

مثلاً طبیعت کی ناسازی، بیماری، پرہیز، الرجی یا کسی اور معقول وجہ کی بنا پر انکار کرنا تکبر میں داخل نہیں ہوگا۔


اصل ناپسندیدہ چیز وہ انکار ہے جو محض اظہارِ بے نیازی، تصنع یا دوسرے کی دل آزاری پر مبنی ہو۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدَّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ"


ترجمہ:"جس شخص کو خوشبو پیش کی جائے وہ اسے رد نہ کرے، کیونکہ اس کا بوجھ ہلکا اور اس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے۔"

(صحیح مسلم)


یہ روایت خوشبو قبول کرنے کی فضیلت کو مزید تقویت دیتی ہے۔


عطر، دودھ اور تکیہ سے متعلق روایت اگرچہ سند کے اعتبار سے محلِ بحث ہے، لیکن شارحینِ حدیث نے اس کے اندر ایک اہم معاشرتی اور اخلاقی سبق بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ ایسی چیزیں جو فطری طور پر پسندیدہ ہوں، جن کے دینے میں دینے والے پر کوئی بوجھ نہ ہو اور جو محبت و اکرام کا اظہار ہوں، انہیں بلاوجہ رد کرنا مناسب نہیں۔

بہرحال ہر انسان کی طبیعت، مزاج اور جسمانی کیفیت الگ ہوتی ہے۔ کسی کو خوشبو راس آتی ہے، کسی کو نہیں؛ کوئی دودھ شوق سے پیتا ہے اور کوئی طبی مجبوری کی وجہ سے اس سے اجتناب کرتا ہے؛ کوئی تکیے کے بغیر نہیں سو سکتا اور کسی کو مخصوص بو یا مادّے سے تکلیف ہوجاتی ہے۔ اس لیے ہر انکار کو تکبر پر محمول کرنا درست نہیں۔

البتہ جہاں کوئی شرعی، طبی یا طبعی عذر نہ ہو وہاں لوگوں کے خلوص، محبت اور حسنِ سلوک کی قدر کرتے ہوئے ان چیزوں کو قبول کرلینا بہتر اور نبوی ادب کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے۔


(بیس ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے