میزبان ہو تو ایسا
(ناصرالدین مظاہری)
حضرت مولانا سید نجم الحسن تھانوی خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون کے ناظم و متولی ہیں آپ کے والد بزرگوار حضرت مولانا سید ظہور الحسن کسولوی (مرتب ارواح ثلاثہ) مظاہرعلوم سہارنپور میں استاذ تھے۔
ایک دفعہ کم عمری میں ہردوئی حضرت محی السنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے پورا نظام معلوم کیا، واپسی کی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے قیام اسٹیشن کے قریب اپنے ایک اہل تعلق کے یہاں تجویز فرمایا مگر پھر خود ہی یہ تجویز کینسل کرکے اپنے گھر پر ٹھہرایا۔ یہ اہل خانہ کے آرام کا وقت تھا حضرت نے کھانا وغیرہ کھلایا اور خود ہی چائے وغیرہ بناکر لائے۔ ٹرین کی آمد سے پہلے حضرت نے مولانا کو بیدار کیا اور فرمایا ٹرین کا وقت قریب ہے اور پھر خود حضرت ہردوئی ہی جیپ چلاکر ریلوے اسٹیشن پہنچے اور مہمان کو رخصت کیا۔
ہے کوئی ایسی نظیر ؟ کیا آپ نے کسی اور عارف وقت، ولی کامل ، صاحب نسبت بزرگ کی بابت ایسا سنا کہ وہ خود ڈرائیو کرکے مہمان کو (جو اس وقت بالکل نوجوان تھے) چھوڑنے گیا ہو۔
یہ اللہ والے یوں ہی مقبول خالق و خلائق و ملائک نہیں ہوگئے ، انھوں نے بڑے بڑے دریائے شور عبور کئے ہیں۔ لمبے لمبے مجاہدے کئے ہیں۔ ریاضتیں کی ہیں اور تب کہیں جاکر خاک کے پردے سے "انسان"بن کر نکلے ہیں۔
0 تبصرے