65a854e0fbfe1600199c5c82

سفر کرو صحت پاؤ



 سنو سنو!!


سفر کرو صحت پاؤ


(ناصرالدین مظاہری)


حکیم بلال احمد سہارنپوری میرے دوست ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں فیملی کے ساتھ کشمیر بغرض سیاحت گیا ، ایک ایسی جگہ دیکھی جو کشمیر کے دیگر مقامات کی بہ نسبت بہت خوبصورت تھی مگر سیکورٹی والے نے جانے سے منع کردیا میں نے اپنا کارڈ دکھایا تو اس شرط کے ساتھ جانے کی اجازت دی کہ بس تھوڑی دیر میں واپس آجانا، میں فیملی کے ساتھ اس جگہ پہنچا تو دیکھا ایک جگہ ایک افسر آرام سے ایک درخت کے نیچے لیٹا ہوا ہے میں جب واپس ہونے لگا تو میرے رہبر نے بہت عجیب بات بتائی کہ اس جگہ کچھ پیڑ ایسے ہیں جن کی خاصیت یہ ہے کہ ان کے نیچے دمہ کا مریض اگر کچھ دن تک سوتا رہے تو دمہ جڑ بنیاد سے ختم ہوجاتا ہے۔


حکیم بلال احمد چونکہ خود ماشآء اللہ حکیم ہیں اس لئے مجھے ان کی بات میں کوئی شک نہیں ہوا بلکہ مجھے میرے آقا و مولی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول یاد آگیا فرمایا : 


سافروا تصحوا، واغزوا تستغنوا.


سفر کیا کرو تندرست رہو گے اور جہاد کیا کرو بے نیاز ہو جاؤ گے۔


حدیث شریف کس درجہ کی ہے پتہ نہیں ، البتہ یہ کئی طرق سے مروی ہے، اگرچہ سفر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ السفر قطعۃ من النار فرماکر سفر کی مشقت اور کلفت کا اظہار بھی فرمایا ہے پھر بھی صحت اور تندرستی پانے کے لئے سفر کرنے کا حکم فرمایا ہے کیونکہ سفر سے موسم بدلتا ہے موسم کی تبدیلی ، پانی کی تبدیلی ، آب وہوا کی تبدیلی ، رزق و غذا کی تبدیلی اور مناظر قدرت و مظاہر فطرت کی دریابی وشادابی یہ چیزیں انسان کے ذہن ودماغ کو بڑا سکون بخشتی ہیں مختلف جگہوں کے پانی کی مختلف تاثیر ہوتی ہے خود سہارنپور بلکہ پورے دو آبے کا پانی بڑا اچھا مانا گیا ہے اور پنجاب کے پانی کے بارے میں تو مشہور ہے کہ یوپی کا دودھ اور پنجاب کا پانی افادیت میں برابر ہیں۔ آپ کو پنجاب میں کوئی گھٹن نہیں محسوس ہوگی۔


 اتراکھنڈ تو سیاحت اور تفریح کا گویا پکنک پوائنٹ ہے ، ہماچل کی شادابی اور کشمیر کی خوبصورتی زبان زد خاص و عام ہے ، اب تو اطباء اور حکماء بھی اپنے مریضوں کو تبدیلیئ آب وہوا کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ جگہ بدلنے سے ذہنی سکون کے ساتھ دل کو تقویت ملتی ہے، ہریالی دیکھنے سے نظروں کو فرحت اور بینائی تیز ہوتی ہے، اطباء تو یہاں تک کہتے ہیں کہ سفر کرنے والے فراد میں ہارٹ اٹیک کا تناسب بہت کم ہوجاتا ہے ، طب کی قدیم کتابوں میں میں نے خود پڑھاہے ہے کہ بعض درختوں کے نیچے سونے سے امراض دور ہوتے ہیں اور بعض درخت ایسے ہیں جن کے نیچے سونے سے امراض کے آنے یا بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے ، ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ 

"

"جہاں زیادہ درخت موجود ہوتے ہیں وہاں کے لوگ زیادہ صحت مند رہتے ہیں۔"


" درختوں کی موجودگی تناؤ اور ڈپریشن کو کم کرکے لوگوں کو ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند بناتی ہے جب کہ درختوں کے درمیان رہنے سے ان کی تخلیقی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے"


میں نے طب کی ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ ایک حکیم نے ایک شخص کو ایک دوسرے حکیم سے ملاقات کے لئے بھیجا اور ایک خط بھی دیا اور فرستادہ سے تاکید کردی کہ خط کھولنا نہیں ہے اور راستے میں جب بھی سونا تو فلاں درخت کے نیچے سونا ، فرستادہ جب منزل پر پہنچا اور خط حکیم کے حوالہ کیا تو خط میں لکھا تھا کہ یہ شخص روانگی کے وقت تک مکمل مرد ہے لیکن آپ کے یہاں پہنچنے تک نامرد ہوچکا ہوگا بتائیے کیوں؟ اس حکیم نے جواب لکھا کہ اب یہ شخص واپس آرہا ہے اور جب تمہارے پاس پہنچے گا تو اس کی مردانگی واپس آچکی ہوگی۔ ساتھ ہی حکیم نے تاکید کردی کہ دوران سفر فلاں پیڑ کے نیچے سونا۔


بہرحال علاقہ بدلنے سے آب وہوا تبدیل ہوتی ہے ، درختوں میں مختلف تاثیر اللہ تعالی نے رکھی ہیں ، رضا لائبریری رام پور میں ورکشاپ کے دوران ایک ماہر تعلیم سری نگر یونیورسٹی سے آئے تھے انھوں نے بتایا تھا کہ اسی بھارت کے لداخ اور اوپری علاقہ میں لوگ نوے نوے سال کی عمر تک بھاگتے پھرتے ہیں اور سو سال کی عام طور پر عمریں ہوتی ہیں۔


بہرحال آپ سفر کے لئے پرفضا مرغزاروں ، خوبصورت سبزہ زاروں ، دلکش نظاروں ، پر بہار کوہساروں ، پر لطف بہاروں ، خوشنما جزیروں اور علاقوں کا انتخاب کیجیے اور سفر وسیلۂ ظفر بنے اس کی دعا بھی کیجیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے