65a854e0fbfe1600199c5c82

پان ، پڑیا اور گٹکھے



سنو سنو!!


پان ، پڑیا اور گٹکھے


احسان دہلوی نے کہا تھا کہ


بہت سے خون خرابے مچیں گے خانہ خراب

یہی ہے رنگ اگر تیرے پان کھانے کا


ہمارے ایک شناسا بڑے جوش و جذبہ  کے ساتھ حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی مدظلہ، مہتممِ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سہارنپور سے لکھنؤ تک کا طویل سفر طے کرکے پہنچے تھے۔ سفر کی تھکان الگ، ہاتھ میں ایک تھیلا الگ، اور منہ میں پان کی ایسی شاندار گلوری کہ گویا پان نے منہ میں مستقل رہائش اختیار کر رکھی ہو۔

حجرے میں داخل ہوئے، سلام کیا اور بلا تمہید بالکل سامنے بیٹھ کر فرمانے لگے:


"میں سہارنپور کے فلاں مدرسے سے آیا ہوں، مدرسے میں فلاں پروگرام ہے، آپ کو شرکت کی دعوت دینے حاضر ہوا ہوں۔"


حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی مدظلہ نفیس الطبع، لطیف المزاج، باوقار اور آدابِ مجلس کے بڑے پابند ہیں۔ انہوں نے جب اس اندازِ ملاقات، پان سے بھرے ہوئے منہ اور بے تکلف نشست کو دیکھا تو ناراض ہوگئے۔


فرمایا:


"آپ کو ملاقات کے آداب سیکھنے چاہئیں۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ آدمی کسی بزرگ یا ذمہ دار شخصیت کے پاس منہ میں پان بھر کر حاضر ہو؟ اور غالب گمان ہے کہ یہ پان بھی مدرسے کے خرچ سے کھایا جارہا ہوگا!"


پھر مزید نصیحت فرمائی اور خوب تنبیہ کی۔


ہمارے یہ دوست دعوت نامہ پیش کرنے آئے تھے، مگر خود ایک عملی درس لے کر واپس لوٹے۔ جس شان سے حجرے میں داخل ہوئے تھے، اس سے کہیں زیادہ خاموشی اور شکستگی کے ساتھ باہر نکلے۔ یوں کہیے کہ دعوت تو نہ دے سکے، البتہ آدابِ ملاقات کا ایک باب ضرور پڑھ آئے۔


حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں پان، گٹکھا اور کھینی صرف منہ ہی نہیں بھرتے، بعض اوقات آدمی کی سمجھ اور سلیقے کی جگہ بھی گھیر لیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر مجلس کا ایک ادب ہوتا ہے، ہر شخصیت کا ایک احترام ہوتا ہے اور ہر ملاقات کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔


بزرگوں نے کہا ہے کہ انسان کی تعلیم اس کی زبان سے پہلے اس کے اندازِ نشست و برخاست اور طرزِ ملاقات سے پہچانی جاتی ہے۔ منہ میں پان بھر کر گفتگو کرنا، سامنے والے پر چھینٹیں اڑانا، دانت سرخ کیے ہوئے علمی و دینی مجالس میں گھومنا، نہ تہذیب ہے نہ شرافت اور نہ ہی سنجیدہ لوگوں کا شیوہ۔

اس واقعے میں اصل سبق یہی ہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹا سا پان انسان کی پوری شخصیت پر بھاری پڑ جاتا ہے۔


یہ واقعہ صرف ایک فرد کا نہیں، ہمارے معاشرے کی ایک عام بیماری کا آئینہ ہے۔ آدابِ ملاقات، آدابِ گفتگو اور آدابِ مجلس کی تعلیم شاید آج پہلے سے زیادہ ضروری ہوچکی ہے۔مصحفی غلام ہمدانی نے کہا تھا کہ


کھانے کی ادا یہ ہے تو اک عالم کو

خوں رلائے گا مری جاں دہن سرخ ترا


(چھبیس ذوالحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے