65a854e0fbfe1600199c5c82

ایک گاڑی ایک خاندان



 سنو سنو!!


ایک گاڑی ایک خاندان


(ناصرالدین مظاہری)


موت برحق ہے۔ یہ کسی بھی لمحے، کسی بھی جگہ اور کسی بھی شخص کو آ سکتی ہے۔ بستر ہو یا سفر، خشکی ہو یا سمندر، محل ہو یا جھونپڑی، اس سے فرار کسی کے لیے ممکن نہیں۔ جس طرح تقدیر اٹل ہے، اسی طرح موت بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اس سے نظریں چراتا ہے اور اس سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ"۔ جب خالقِ کائنات کا یہ فیصلہ ہے تو پھر اس کے آگے کسی تدبیر، کسی طاقت اور کسی بہانے کی کوئی حیثیت نہیں۔


کل مری نامی ایک پہاڑی علاقے میں ایک ہی کار حادثے میں آٹھ نو افراد کی حادثاتی موت اپنے آپ میں ایک بڑا سانحہ ہے، لیکن نہ یہ پہلا واقعہ ہے اور نہ آخری۔ ایسے حادثات دنیا کے مختلف گوشوں میں وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں اور انسان کو بار بار یہ یاد دلاتے ہیں کہ موت کا وقت اور مقام پہلے ہی سے متعین ہے۔ البتہ احتیاط اور تدبیر اختیار کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔


اسی مناسبت سے ایک پرانی بات یاد آگئی۔ ہمارے حضرت مولانا محمد سعیدی صاحب رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ مدرسہ کے کسی کام سے چند حضرات کو باہر بھیجا۔ دو گاڑیاں تیار تھیں۔ اتفاق سے حضرت کے قریب رہنے والے اور ہم مزاج لوگ ایک ہی گاڑی میں جمع ہوگئے اور دوسری گاڑی میں دوسرے حضرات بیٹھے تھے۔ حضرت خود گاڑیوں تک تشریف لائے، جائزہ لیا اور فرمایا:

"تم سب لوگ ایک ہی گاڑی میں بیٹھے ہو، یہ فیصلہ حکمت اور مصلحت کے بالکل خلاف ہے۔"

وہ دن ہے اور آج کا دن، حضرت کی یہ بات ذہن سے محو نہیں ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ دورانِ سفر ایک ہی خاندان یا ایک ہی جماعت کے تمام اہم افراد کا ایک ہی گاڑی میں سوار ہونا احتیاط کے خلاف ہے۔ عقل بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے اور تجربہ بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔


خدا نخواستہ اگر کسی گاڑی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کے تمام سوار بیک وقت متاثر ہوسکتے ہیں۔ حضرت ناظم صاحب رحمہ اللہ کی دور اندیشی اسی نکتے کی طرف اشارہ کررہی تھی۔ یہ وہ تدبیر ہے جسے اختیار کرنا انسان کے بس میں ہے اور جس سے غفلت مناسب نہیں۔


ہمارے ملک بھارت میں بھی آئے دن ایسے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ سڑکوں پر، ریل گاڑیوں میں اور دیگر سفری ذرائع میں اچانک پیش آنے والے سانحات نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ گل کردیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر انسان بے اختیار سوچنے لگتا ہے کہ زندگی کتنی ناپائیدار اور موت کتنی قریب ہے۔

تاہم اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ تقدیر کا لکھا ٹل نہیں سکتا۔ انسان کا کام یہ نہیں کہ تقدیر کے نام پر اسباب و وسائل کو ترک کردے، بلکہ اس کا فرض ہے کہ حتی المقدور احتیاط، تدبر اور تدبیر سے کام لے۔ شریعت بھی اسی کی تعلیم دیتی ہے اور عقل بھی اسی کا مطالبہ کرتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ تدبیر خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، جب تقدیرِ الٰہی کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے تو پھر کوئی تدبیر اسے روک نہیں سکتی۔


انسان تدبیر کا مکلف ہے اور اللہ تعالیٰ تقدیر کا مالک۔ اس لیے اسباب اختیار کیجیے، احتیاط برتیے، عقل سے کام لیجیے، مگر بھروسا اس ذات پر رکھیے جس کے قبضۂ قدرت میں زمین و آسمان کا نظام ہے۔ کیونکہ آخرکار یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ بہت سے مواقع پر تقدیر، تدبیر پر غالب آجاتی ہے۔


(ستائیس ذوالحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے