سنوسنو!!
ہاں! میں قدامت پسند ہوں
(ناصرالدین مظاہری)
کیونکہ ہماری تاریخ کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوتا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انسان اور اپنا برگزیدہ بندہ بنا کر دنیا میں بھیجا۔ انسانی تاریخ کے اس عظیم سفر کو ہزاروں سال گزر چکے ہیں۔ ہم حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا کامل احترام کرتے ہیں۔ ہم ان سب کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھتے ہیں، ان کی تعلیمات کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہدایت سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ ہر نبی اپنے زمانے میں اللہ کا پیغامبر اور رہبر تھا۔
انبیائے کرام علیہم السلام کی ذاتیں ہدایت و رحمت کے وہ چشمے ہیں جن سے انسانیت نے فیض پایا۔ ان میں سے کسی ایک نبی کا بھی انکار یا ان کی کسی تعلیم سے بغاوت ایمان کے منافی ہے۔
ہاں! میں قدامت پسند ہوں
کیونکہ میں اس عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار ہوں جن کی ولادت باسعادت 22 اپریل 571ء کو ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کا زمانہ گزر چکا ہے، مگر آپ کی تعلیمات آج بھی اسی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہیں جس طرح نزولِ وحی کے زمانے میں تھیں۔
*ہاں ! میں قدامت پسند ہوں:
کیونکہ ہماری شناخت ہمارے اسلاف سے وابستہ ہے۔ ہماری بنیادیں "أصلها ثابت" کا مصداق ہیں اور ہماری شاخیں "وفرعها في السماء" کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ ہماری تہذیب، ہماری روایت اور ہماری روحانی نسبتیں صدیوں کے مضبوط رشتوں سے جڑی ہوئی ہیں۔
ہاں! ہم ایک قدیم ترین دین و شریعت کے امین ہیں، کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سابقہ تمام انبیائے کرام کی تعلیمات کا جامع خلاصہ اور تکمیل ہیں۔
ہاں! میں قدامت پسند ہیں:
کیونکہ ہم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی نسبت رکھتے ہیں، تابعین رحمہم اللہ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، تبع تابعین کے علمی و روحانی ورثے کے وارث ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات اور اولیائے امت کی قربانیاں ہماری میراث ہیں۔ ہمارے اسلاف ہمارے رہنما ہیں۔ جب تک ہم ان کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے، ہماری پہچان باقی رہے گی، اور جس دن ہم اپنی اصل سے کٹ گئے تو ہماری حالت اس مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہوجائے گی جس کا کوئی سہارا نہیں ہوتا۔
ہاں! میں قدامت پسند ہیں:
کیونکہ ہمارا دستور قرآن مجید ہے اور ہمارا منشور احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم ان دونوں سرچشموں کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے، کیونکہ ہماری زندگی، ہماری ہدایت اور ہماری نجات انہی سے وابستہ ہے۔
ہاں! میں قدامت پسند ہیں:
کیونکہ دنیا کا ہر مذہب اپنی قدامت کو باعثِ فخر سمجھتا ہے۔ مختلف مذاہب اپنے تاریخی ورثے، اپنی روایات اور اپنے بزرگوں سے وابستگی پر ناز کرتے ہیں۔ پھر اہلِ اسلام، جن کے پاس محفوظ قرآن ہے، محفوظ سنت ہے، کامل شریعت ہے اور قیامت تک رہنمائی کا سامان موجود ہے، وہ اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنی روحانی روایت پر فخر کیوں نہ کریں؟
اے عقل کے منصفو!
ذرا غور کرو! جب دنیا اپنے قدیم ورثوں کو سنبھالنے پر فخر کرتی ہے تو وہ دین جس کی کتاب آج بھی محفوظ ہے، جس کی تعلیمات نسل در نسل بغیر تحریف کے منتقل ہوئی ہیں، جس کا نظامِ حیات قیامت تک کے لیے ہے، وہ اپنے تشخص اور اپنی قدامت پر کیوں نہ ناز کرے؟
ہاں! میں قدامت پسند ہوں:
کیونکہ میری قدامت جمود کا نام نہیں، بلکہ اپنی اصل سے وفاداری کا نام ہے۔ میری قدامت اندھی تقلید نہیں، بلکہ وحیِ الٰہی اور نبوی تعلیمات سے وابستگی کا عنوان ہے۔
مجھے اپنے دین پر فخر ہے، اپنی تہذیب پر فخر ہے، اپنے اسلاف پر فخر ہے، اپنی کتابِ ہدایت پر فخر ہے ۔ اس لئے میں ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہوں کہ
ہاں! میں قدامت پسند ہوں۔
(پندرہ صفر المظفر چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے