سنو! سنو!!
اسلام کے تعارف کا موقع
(ناصرالدین مظاہری)
اکثر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا تعارف صرف تقریروں، کتابوں اور مناظروں سے ہوتا ہے، حالاں کہ بعض اوقات ایک معمولی سا حسنِ سلوک، ایک چھوٹا سا ایثار اور ایک مخلصانہ رویہ وہ اثر دکھا دیتا ہے جو طویل وعظ و نصیحت سے بھی پیدا نہیں ہوتا۔
ماضی قریب میں میرا ٹرین سے ایک سفر ہوا۔ تھرڈ اے سی کوچ تھا۔ چار افراد میرے کیبن میں پہنچے۔ میری سیٹ نیچے والی تھی، وہ لوگ بھی نیچے والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔
میں نے فراخ دلانہ لب و لہجے میں ان سے بات چیت کی۔ وہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو ریلوے کا ملازم چادریں، تکیے اور کمبل لے کر آیا۔
اس نے چار سیٹ بستر ان کے حوالے کیے تو ان لوگوں نے کہا: "ہم پانچ لوگ ہیں۔" اور میری طرف اشارہ کیا۔
ان کے ساتھ ایک نوجوان بچی بھی تھی۔ میں نے کہا: "تم سب سے اوپر والی برتھ پر چلی جاؤ۔" وہ کہنے لگی: "نہیں، مجھے لوور برتھ ہی اچھی لگتی ہے۔" میں نے کہا: "تم لوگ آرام سے اپنی اپنی سیٹ پر سو جاؤ، میری موجودگی میں تمہاری بچی بالکل محفوظ ہے۔"
رات تقریباً نو بجے ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی۔ باہر ایک سموسے والا کھڑا تھا۔ بچی نے مجھ سے کہا: "مجھے سموسہ لا دیجیے۔" میں نے دو سموسے لا کر دے دیے۔ اس کے گھر والوں نے پیسے دینے چاہے تو میں نے کہا: "میری ایک بیٹی بھی تمہاری ہی عمر کی ہے۔ میں نے یہ سمجھ کر سموسے لا کر دیے ہیں کہ گویا میری بیٹی نے منگوائے ہیں، اس لیے میں اس کے پیسے نہیں لے سکتا۔"
ہمارا سفر پورا ہوا تو ایک نوجوان جلدی سے نیچے اترا، میرا بیگ اٹھایا اور ٹرین کے باہر تک چھوڑنے آیا۔
یہ چاروں غیر مسلم تھے۔
اس واقعے سے مجھے حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی مدظلہ کا سنایا ہوا ایک واقعہ یاد آگیا۔
انہوں نے ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ بیمار تھے، گھٹنوں میں شدید تکلیف تھی اور ٹرین سے سفر درپیش تھا۔ بڑی کوشش کے بعد نچلی سیٹ ملی تھی۔ حضرت مولانا اسی سیٹ پر تشریف فرما تھے کہ ایک ضعیف غیر مسلم خاتون آئی اور نچلی سیٹ کی درخواست کی۔
حضرت مولانا نے اپنی بیماری اور ضعف کے باوجود فوراً اپنی سیٹ اس خاتون کے حوالے کر دی۔
صبح حضرت مولانا کے خادمِ سفر، حضرت مولانا محمد عبداللہ کاپودروی رحمہ اللہ نے عرض کیا: "حضرت! آپ خود اس قدر بیمار تھے، بڑی مشکل سے یہ نچلی سیٹ ملی تھی، پھر بھی آپ نے اسے کسی اور کو دے دیا!"
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ نے ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جو صرف اس سفر کا نہیں، بلکہ پوری دعوتِ اسلام کا عنوان بن سکتا ہے:
"عبداللہ! اسلام کے تعارف کا موقع جہاں کہیں ملے، اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔"
شاید اسلام کا سب سے مؤثر تعارف بھی یہی ہے۔
(پندرہ صفر المظفر چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے