65a854e0fbfe1600199c5c82

لڑائی جھگڑوں کا معیار



 سنو سنو!!


لڑائی جھگڑوں کا معیار


(قسط:1)


(ناصرالدین مظاہری)


بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لڑائی جھگڑا جدید دور کی ایجاد ہے، جیسے موبائل فون، سوشل میڈیا اور سیاسی جماعتیں۔


حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ انسان نے جوں ہی زمین پر قدم رکھا، اختلاف نے بھی اپنا مستقل پتہ وہیں بنالیا۔

کہانی کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں ابھی انسان دنیا میں آیا بھی نہیں تھا۔


اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا۔

سب نے حکم مان لیا، مگر ایک صاحب کو اپنی بڑائی کا ایسا یقین تھا کہ فرمانے لگے: "میں اس سے بہتر ہوں۔"


یوں انسانی تاریخ کا پہلا تنازع زمین، جائیداد، چندہ، سیاست یا منصب پر نہیں بلکہ "انا" پر پیدا ہوا۔


قرآن کریم نے ابلیس کے اسی احساسِ برتری کو یوں نقل کیا ہے:

﴿أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ﴾

"میں اس سے بہتر ہوں۔"

(سورۃ الأعراف: 12)

گویا دنیا کا پہلا جھگڑا بھی "میں بہتر ہوں" کے دعوے سے شروع ہوا تھا۔


شیطان کو آدم علیہ السلام سے کوئی ذاتی نقصان نہیں پہنچا تھا، کوئی مالی لین دین بھی نہیں تھا، کوئی انتخاب بھی نہیں ہارا تھا، مگر صرف یہ برداشت نہ ہوسکا کہ عزت کسی اور کو کیوں ملی۔

گویا دنیا کا پہلا جھگڑا "مجھے کیوں نہیں؟" کے سوال سے شروع ہوا۔


پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ جنت جیسی پُرسکون جگہ میں بھی دشمنی کا بیج بو دیا گیا اور بالآخر حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں تشریف لانا پڑا۔


ادھر زمین آباد ہوئی، لوگ بڑھے، خاندان بنے، اور انسانیت نے ابھی چند قدم ہی چلنا سیکھے تھے کہ قابیل اور ہابیل کا واقعہ پیش آگیا۔

یہ انسانی تاریخ کا پہلا قتل تھا۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے پیچھے بھی تلوار سے پہلے حسد موجود تھا۔


قرآن کریم اس سانحے کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتا ہے:


﴿فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ﴾


"آخر اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا، چنانچہ اس نے اسے قتل کردیا۔"


(سورۃ المائدۃ: 30)


حسد جب دل میں گھر کرلے تو بعض اوقات بھائی کو بھی بھائی نہیں رہنے دیتا۔


یوں معلوم ہوا کہ انسان کے بڑے بڑے جھگڑوں کے پیچھے اکثر کوئی بڑا اصول نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹی سی انا، معمولی سا حسد یا برتری کا احساس کھڑا مسکرا رہا ہوتا ہے۔

پھر وقت گزرتا گیا۔


قومیں آئیں، سلطنتیں بنیں، حکومتیں قائم ہوئیں، تخت سجائے گئے، تختے الٹے گئے، جنگیں لڑی گئیں، معاہدے ہوئے، معاہدے ٹوٹے، اور انسان نے ثابت کیا کہ اگر اسے جھگڑنے کا موقع نہ بھی ملے تو وہ خود پیدا کرسکتا ہے۔


کسی نے زمین پر جھگڑا کیا، کسی نے زبان پر۔


کسی نے دولت پر، کسی نے شہرت پر۔


کسی نے اقتدار پر، کسی نے نظریات پر۔


اور بعض لوگوں نے تو ایسے ایسے معاملات پر جھگڑے کیے کہ اصل چیز خود حیران رہ گئی۔


بکری سوچتی رہی کہ لوگ میرے لیے کیوں لڑ رہے ہیں۔


گاڑیاں حیران رہیں کہ پارکنگ سے زیادہ اہم بھی کچھ ہے یا نہیں۔

کتابیں سر پکڑ کر بیٹھ گئیں کہ ہمارے نام پر کتنی جنگیں لڑی جارہی ہیں۔


اور بعض مسجدیں آج تک سمجھنے کی کوشش کررہی ہیں کہ نمازی زیادہ ہیں یا سیاست دان۔


اس لیے آئندہ جب آپ کسی معمولی سی بات پر دو انسانوں کو آپس میں الجھتے دیکھیں تو حیران مت ہوئیے گا۔


یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔

اتنا پرانا کہ اس کی جڑیں تاریخ کے پہلے حسد، پہلے تکبر اور پہلے قتل تک پہنچتی ہیں۔


اور ہماری یہ سلسلہ وار تحقیق اسی عظیم انسانی فن کا جائزہ لینے جارہی ہے کہ آخر انسان کن کن چیزوں پر، کیوں کیوں اور کس کس انداز سے لڑتا ہے۔

(جاری ہے)


(یکم محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے