65a854e0fbfe1600199c5c82

غیروں سے آن لائن ، اپنوں سے آف لائن؟



 سنو سنو!!


غیروں سے آن لائن ، اپنوں سے آف لائن؟


(ناصرالدین مظاہری)


کبھی کبھی دل ماضی کی گلیوں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ یاد آتا ہے وہ زمانہ جب نہ موبائل تھا، نہ انٹرنیٹ، نہ واٹس ایپ اور نہ سوشل میڈیا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ دلوں میں محبت تھی، رشتوں میں حرارت تھی اور ملاقاتوں میں برکت تھی۔


میرے والد مرحوم کئی کئی کلومیٹر دور ڈاک خانے جاتے تھے، وہاں سے پوسٹ کارڈ خریدتے، پھر کسی لکھنے والے سے خط لکھواتے اور دوبارہ جا کر اسے ڈاک کے حوالے کرتے۔ ایک خط لکھنے اور بھیجنے میں جتنی مشقت ہوتی تھی، آج اتنی مشقت میں درجنوں لوگوں سے بات ہو سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس آسانی نے ہمیں کیا دیا اور ہم سے کیا چھین لیا؟


پھر ٹیلی فون کا دور آیا۔ 25 کلو میٹر دور دھورہرہ قصبے کے PCO پر جا کر فون کرنا پڑتا تھا۔ منٹ گنے جاتے تھے اور روپے خرچ ہوتے تھے۔ لیکن ان چند منٹوں میں ماں باپ کی خیریت پوچھی جاتی تھی، بہن بھائیوں کے حالات معلوم کیے جاتے تھے اور رشتہ داروں کے دکھ درد بانٹے جاتے تھے۔


آج حالات بالکل برعکس ہیں۔ کال تقریباً مفت ہے، ویڈیو کال مفت ہے، دنیا مٹھی میں سمٹ آئی ہے، مگر رشتے بکھر گئے ہیں۔ موبائل تو ہر ہاتھ میں ہے مگر بات چیت ختم ہو گئی ہے۔ رابطے کے ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تعلقات کمزور ہو گئے ہیں۔


سوچئے! آخری مرتبہ آپ نے اپنے کسی ماموں، چچا، پھوپھی، خالہ یا دور کے رشتہ دار کو صرف خیریت معلوم کرنے کے لیے کب فون کیا تھا؟ آخری بار آپ کسی بزرگ رشتہ دار کے گھر بغیر کسی کام کے صرف ملاقات اور مزاج پرسی کے لیے کب گئے تھے؟


آخری بار آپ نے اپنے ابتدائی استاذ سے خیریت کا فون یا ملاقات کا سفر کب کیا تھا؟


ہم گھنٹوں یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر بحثیں کر سکتے ہیں، سینکڑوں اسٹیٹس اور ریلز دیکھ سکتے ہیں، مگر والدین کے پاس دس منٹ بیٹھنا، کسی بیمار عزیز کو فون کرنا یا کسی ناراض رشتہ دار سے تعلق جوڑنا ہمارے لیے مشکل ہو گیا ہے۔


حالانکہ دینِ اسلام میں صلہ رحمی صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ داری جوڑنے والوں کے لیے عمر میں برکت، رزق میں وسعت اور اللہ کی رضا کی بشارت دی ہے۔ اور جو لوگ رشتے توڑتے ہیں ان کے بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔


افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہم نے صلہ رحمی کا مطلب بھی بدل دیا ہے۔ کسی عزیز کی وفات پر تعزیتی پیغام بھیج دیا، کسی شادی پر ایک ایموجی بھیج دی، عید پر فارورڈ شدہ مبارک باد روانہ کر دی، اور سمجھ لیا کہ رشتہ داری کا حق ادا ہو گیا۔ حالانکہ رشتے موبائل کی اسکرین سے نہیں، دلوں کی گرمی اور قدموں کی حرکت سے زندہ رہتے ہیں۔


آج ایک عجیب منظر ہے۔ گھر میں چار آدمی بیٹھے ہیں مگر ہر ایک کی نظریں اپنے موبائل پر ہیں۔ دادا پوتے سے بات نہیں کر رہا، بھائی بھائی سے بے خبر ہے، باپ بیٹے کے دل کی کیفیت نہیں جانتا، اور بیٹا والدین کی تنہائی محسوس نہیں کرتا۔ ہر شخص غیروں سے آن لائن ہے مگر اپنے لوگوں سے آف لائن۔


کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم نے سہولتیں تو حاصل کر لیں مگر انسان کھو دیا۔ ہمارے پاس ایک ایک لاکھ روپے کے موبائل ہیں، ہزاروں نمبروں کی فہرست ہے، سینکڑوں واٹس ایپ گروپ ہیں، مگر اگر اچانک کوئی پوچھ لے کہ آپ نے گزشتہ ایک ماہ میں کتنے رشتہ داروں کی خیریت دریافت کی ہے تو شاید جواب شرمندہ کر دے۔


ذرا سوچیے! اگر آج ہمارے موبائل بند ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھ لے کہ میں نے تمہیں رابطے کے اتنے ذرائع دیے تھے، تم نے ان سے کتنے ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑے؟ کتنے ناراض دل منائے؟ کتنے بیماروں کی خبر لی؟ کتنے بزرگوں کے پاس بیٹھے؟ کتنی بار والدین کی آواز سننے کے لیے فون کیا؟


شاید اس وقت ہمیں احساس ہو کہ مسئلہ موبائل کا نہیں، ہمارے دلوں کا ہے۔


موبائل نے فاصلے ختم کر دیے تھے، ہم نے دلوں کے فاصلے بڑھا لیے۔

اور سچ تو یہ ہے کہ آج ہمیں نئے موبائل کی نہیں، نئے جذبۂ صلہ رحمی کی ضرورت ہے۔ ہمیں تیز انٹرنیٹ نہیں، مضبوط رشتوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں مزید ایپس نہیں، اپنے لوگوں کے لیے مزید وقت چاہیے۔


کیونکہ قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ موبائل کا ماڈل کون سا تھا، یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ تمہارا تعلق کیسا تھا۔


(تین محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے