سنوسنو!!
اندھا یقین اور موت کی سزا
(ناصرالدین مظاہری)
ایک مرتبہ عمرہ کی سعادت کے لیے حرمین شریفین جا رہا تھا۔ روانگی سے قبل ٹور آپریٹرز نے ہمارے قافلے کے ہر فرد کو تقریباً دس کلو وزنی چاول کا ایک پیکٹ دیا اور کہا کہ اسے مکہ مکرمہ لے جائیں، وہاں ان کا نمائندہ وصول کر لے گا۔
میں نے پیکٹ تو لے لیا، لیکن جب ایئرپورٹ پر سامان کی اسکیننگ کے مقام پر پہنچا تو متعلقہ افسر سے درخواست کی کہ اس پیکٹ کی خاص طور پر باریک بینی سے جانچ کی جائے۔
افسر نے حیرت سے پوچھا: "کیوں؟"
میں نے عرض کیا: "اپنے سامان کے بارے میں تو مجھے پورا علم ہے، لیکن یہ پیکٹ مجھے ابھی ایئرپورٹ پر دیا گیا ہے۔ میں اطمینان کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں واقعی چاول ہی ہیں یا کوئی اور چیز بھی ہے۔ یہ میرا ملک ہے، یہاں میری بات سن لی جائے گی، لیکن اگر خدانخواستہ سعودی عرب میں کوئی مسئلہ پیش آگیا تو وہاں قانون اپنی جگہ موجود ہے، کسی کی صفائی آسانی سے قبول نہیں کی جاتی۔"
میری بات سن کر افسر خوش ہوا، اس نے میری صاف گوئی اور احتیاط کی تعریف کی، پھر پیکٹ کی پوری طرح جانچ کی اور مسکراتے ہوئے کہا: "فکر نہ کریں، اس میں واقعی صرف چاول ہی ہیں۔"
اس واقعے کے بعد مجھے دوبارہ احساس ہوا کہ سفر کے دوران دوسروں کے سامان کے بارے میں کتنی احتیاط ضروری ہے۔ متعدد مرتبہ ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں کہ کسی مسافر نے بھروسے میں آ کر کسی کا پیکٹ یا بیگ اپنے ساتھ لے لیا، لیکن منزل پر پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس میں کوئی ممنوعہ یا غیر قانونی چیز موجود تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بے گناہ شخص بھی قانونی گرفت میں آگیا۔
خاص طور پر خلیجی ممالک میں منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کے بارے میں قوانین نہایت سخت ہیں۔ بعض جرائم کی سزا عمر قید بلکہ بعض صورتوں میں موت تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح واپسی کے سفر میں بعض لوگ سونا یا دیگر قیمتی اشیاء "امانت" کے نام پر حوالے کر دیتے ہیں، حالانکہ کسٹم قوانین کی خلاف ورزی مسافر کو بھاری جرمانوں، سامان کی ضبطی اور جیل تک پہنچا سکتی ہے۔
اس لیے میری تمام مسافروں سے گزارش ہے کہ جاتے وقت یا آتے وقت کسی کا بھی سامان صرف اسی صورت میں اپنے ساتھ رکھیں جب آپ کو سو فیصد یقین ہو کہ اس میں کیا ہے۔ محض تعلق، سفارش یا بھروسے کی بنیاد پر کسی کی امانت اپنے ذمہ نہ لیں۔
چند لمحوں کی لاپروائی زندگی بھر کی پریشانی بن سکتی ہے، جبکہ چند لمحوں کی احتیاط بڑے سے بڑا خطرہ ٹال سکتی ہے۔
(تین محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے