65a854e0fbfe1600199c5c82

مکین سے بے مکانی تک



 سنو سنو!!


مکین سے بے مکانی تک


(ناصرالدین مظاہری)


ابھی نمازِ فجر کے بعد ایک خیال دل میں آیا کہ انسان اپنی عمر کے ہر مرحلے میں اپنے گھر کی ایک الگ رونق ہوتا ہے۔ بچپن اس رونق کا سب سے خوبصورت اور بے فکر زمانہ ہوتا ہے۔ بچے کی کلکاریاں، اس کی ضد، اس کی شرارتیں اور اس کے ننھے ننھے قدم پورے گھر کو زندگی بخش دیتے ہیں۔ گھر کے در و دیوار بھی گویا اس کی معصوم آوازوں سے مسکراتے ہیں۔


پھر جوانی آتی ہے۔ شادی ہوتی ہے، اولاد ہوتی ہے اور گھر کی رونق کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایک وقت وہ ہوتا ہے جب والدین بچوں کے لیے کھلونے خریدتے ہیں، پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب بچے ہی والدین کے محبوب ترین کھلونے بن جاتے ہیں۔ ان کی باتیں، ان کی حرکتیں، ان کی کامیابیاں اور ناکامیاں، سب کچھ والدین کی زندگی کا مرکز بن جاتا ہے۔ گھر واقعی ایک کہکشاں بن جاتا ہے جس کے ہر ستارے سے محبت کی روشنی پھوٹ رہی ہوتی ہے۔


مگر زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ وقت کے قدم خاموش ہوتے ہیں مگر بہت تیز ہوتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بچے جوان ہو جاتے ہیں، ان کی شادیاں ہو جاتی ہیں اور ان کی اپنی دنیا آباد ہو جاتی ہے۔


بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جاتی ہیں اور بیٹے اپنے خاندانوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ وہی گھر جس میں کبھی ماں باپ کی آواز سب سے نمایاں تھی، اب نئی آوازوں اور نئے فیصلوں کا مرکز بن جاتا ہے۔


آہستہ آہستہ ایک عجیب تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ وہ شخص جو کبھی پورے گھر کا محور تھا، اپنے ہی گھر میں سمٹنے لگتا ہے۔ کبھی جس کے لیے ہر کمرہ اپنا تھا، اب کمروں پر نئی نسلوں کا قبضہ اور اختیار ہو جاتا ہے۔


کبھی جس کی مرضی گھر کا قانون تھی، اب وہ خود سوچتا ہے کہ کہاں بیٹھے، کب بولے اور کس وقت اپنی ضرورت بیان کرے۔ گھر کی رونقیں تو برقرار رہتی ہیں مگر رونقوں کے اصل معمار آہستہ آہستہ تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔


اس دوران ایک اور المیہ بھی جنم لیتا ہے۔ ماں باپ کے دوست، ہم عمر اور رازدار ایک ایک کرکے دنیا سے رخصت ہونے لگتے ہیں۔ ہر جنازہ، ہر تعزیت اور ہر موت گویا زندگی کی شام قریب آنے کا ایک نیا اعلان ہوتی ہے۔ محفلیں ویران ہو جاتی ہیں، یادیں آباد رہ جاتی ہیں۔ بچے اپنی مصروفیات میں گم ہوتے ہیں اور پرانے ساتھی قبروں میں آسودۂ خاک۔ انسان کے گرد لوگ تو بہت ہوتے ہیں مگر ہم راز کم ہوتے جاتے ہیں۔


یوں ایک دن احساس ہوتا ہے کہ جس گھر کو اپنی جوانی، اپنی محنت، اپنے خوابوں اور اپنی محبتوں سے بسایا تھا، اسی گھر کے کئی حصے دیکھے ہوئے ہفتے اور مہینے گزر جاتے ہیں۔ انسان اسی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی گویا مہمان بن جاتا ہے۔ گھر وہی ہوتا ہے، دیواریں وہی ہوتی ہیں مگر نسبتیں بدل جاتی ہیں، اور اختیار کے ساتھ ساتھ مرکزیت بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔


شاید یہی دنیا کا دستور ہے۔ ہر نسل ایک گھر بناتی ہے تاکہ اگلی نسل اس میں آباد ہو سکے۔ مگر اس حقیقت کو قبول کرنا آسان نہیں کہ ایک دن انسان اپنے ہی گھر میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگے۔


ایسے وقت میں اگر اولاد اپنے والدین کو صرف احترام ہی نہیں بلکہ شرکت، توجہ، مشورے اور اپنائیت بھی دے تو بڑھاپے کی یہ اجنبیت بڑی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ کیونکہ بوڑھے ماں باپ کو صرف ایک کمرہ نہیں چاہیے ہوتا، انہیں اپنے گھر میں اپنی جگہ چاہیے ہوتی ہے۔ وہ جگہ جو کبھی پورے گھر کے برابر ہوا کرتی تھی۔ وہ احترام جس کے وہ سب سے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔ وہ مقام جسے حاصل کرنے اور قائم رکھنے کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کے ماہ و سال کھپا دیے، زمانے کے سرد و گرم تھپیڑے برداشت کیے، اپنی خوبصورت جوانی قربان کر دی، اپنی خواہشات کو اولاد کی خواہشات پر نثار کر دیا اور اپنی راحتوں کو ان کی آسائشوں کے لیے وقف کر دیا۔


انہوں نے تنکے تنکے جوڑ کر ایک آشیانہ بنایا تھا۔ وہ اس آشیانے میں اجنبی نہیں بننا چاہتے۔ وہ اس چمن کے مالی ہیں اور مالی کو اپنے ہر پھول اور ہر پودے سے محبت ہوتی ہے۔ اس کی محبتیں اس سے چھین لینا دراصل اس کی وہ موت ہے جس کا احساس وہ حقیقی موت سے پہلے کر لیتا ہے۔


خدا را! اپنے گھروں کی ان رونقوں کی قدر کیجیے۔ انہیں وقت دیجیے۔ ان سے دور مت بھاگیے۔ اپنے بچوں کو ان کے قریب رکھیے۔ ان کی باتیں سنیے، ان کے ساتھ بیٹھیے اور انہیں یہ احساس دلائیے کہ وہ آج بھی اس گھر کے اتنے ہی اہم فرد ہیں جتنے کل تھے۔


یاد رکھیے! اب آپ کے بچے ہی بچے نہیں ہیں، وہ کمزور و ناتواں بوڑھا انسان بھی اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک بچہ بن چکا ہے، اور بچے محبت، توجہ اور اپنائیت کے بغیر نہیں جیا کرتے۔


ان بوڑھوں کو نظر انداز مت کیجیے، ورنہ آپ کو نظر انداز کرنے والی نسل آپ کی گود میں کھیل رہی ہے۔

كَمَا تُدِينُ تُدَانُ

جیسی کرنی ویسی بھرنی۔


(چھ محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے