سنو سنو!!
ریت پر کھڑی بدظنی کی عمارتیں
(ناصرالدین مظاہری)
بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ایک دن حضرت مولانا محمد سعیدی صاحب رحمہ اللہ کے پاس اکیلے بیٹھا ہوا تھا۔ میں ایک کتاب "تذکرہ کاملان رام پور" کا ذکر کررہا تھا۔ میں کہنے لگا کہ اپنے یہاں کتب خانے میں یہ کتاب موجود تھی مگر 1987 میں جب مظاہرعلوم کے احاطہ دار جدید پر قبضہ ہوا تو وہاں سے طلبہ و اساتذہ کی کتابیں مرکزی کتب خانے میں واپس آگئیں لیکن دو کتابیں مولانا سید محمد شاہد سہارنپوری کے نام اب بھی رجسٹر میں مستعار درج ہیں۔ ناظم صاحب نے یہ بات تعجب سے سنی تو میں کہنے لگا کہ آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ میں یہ کتاب ان سے لینے کے لئے ان کے کمرہ تک پہنچ گیا اور پوری بات بتائی تو انھوں نے منع تو نہیں کیا لیکن لاعلمی کا اظہار ضرور کیا۔
یہ سنتے ہی ناظم صاحب نے سرگوشانہ انداز میں فرمایا کہ اوہو! کسی نے آپ کو وہاں سے نکلتے دیکھا ہوگا اور مجھ سے منفی انداز میں نمک مرچ لگا کر بدظن کرنا چاہا۔ پھر پوچھا یہ کب کی بات ہے؟ میں نے تفصیل بتائی تو افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ لوگ کیسے کیسے بہکانے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں نے عرض کیا کہ میرا تو اچانک ایک سفر میں مولانا شاہد صاحب کے ساتھ ساتھ ہوگیا تھا۔ ہوا یوں کہ میں ایک جنرل ٹرین سے جنرل ڈبے میں لکھیم پور جارہا تھا۔
اسٹیشن پر ملاقات ہوگئی۔ مولانا کہنے لگے: کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: لکھیم پور۔ کہنے لگے: مجھے سیتاپور جانا ہے، وہاں سے لہرپور۔ میں نے کہا: میں تو شاہجہانپور اتر جاؤں گا۔ کہنے لگے: میں بھی اترجاؤں گا۔ چنانچہ پورا سفر جنرل ڈبے میں ہوا۔ پوری ٹرین پر بہار والوں کا قبضہ تھا۔ پاؤں رکھنے کی جگہ مشکل تھی۔ میں مرادآباد تک کھڑے کھڑے گیا، مولانا کو بڑی مشکل سے اوپر والی سیٹ پر بیٹھنے کی جگہ دلواسکا۔ کمال کی بات یہ تھی کہ مولانا لنگی اور کرتے میں سفر کررہے تھے۔
بہرحال اس واقعہ سے بتانا یہ مقصود ہے کہ لوگ کسی کو کسی سے بدظن کرنے کا موقع نہیں چھوڑتے بلکہ تاک اور گھات میں رہتے ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی انسانی کمزوری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:
"إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث"
بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔
یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ معاشرتی امن کا ایک سنہرا اصول ہے۔ جہاں بدگمانی پروان چڑھتی ہے وہاں محبتیں مرجھانے لگتی ہیں، اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے اور تعلقات میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔
آپ کسی شخص کی تعریف میں پوری کتاب لکھ دیجیے، اس کی خدمات، قربانیاں، اخلاص اور نیکیاں شمار کرا دیجیے، وہ سر ہلا کر آگے بڑھ جائے گا؛ لیکن اگر کسی کے بارے میں ایک آدھ منفی بات کان میں ڈال دیجیے تو اسے دل و دماغ کے خزانے میں اس طرح محفوظ کرلیں گے جیسے کسی بینک کے لاکر میں سونا رکھ دیا گیا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ بدظنی ایک ایسا جرثومہ ہے جو گندگی میں پلتا ہے۔ صاف دل، پاکیزہ ذہن اور اچھا گمان رکھنے والی طبیعتیں اسے قبول نہیں کرتیں، لیکن جہاں دل میں حسد، رقابت، تعصب یا دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کا شوق موجود ہو، وہاں یہ جرثومہ بڑی تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔
افسوس تو یہ ہے کہ آج کل تحقیق کا رواج کم اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کسی نے کہا، "فلاں آدمی ایسا ہے"، بس بات ختم! نہ کوئی ثبوت مانگا جاتا ہے، نہ تحقیق کی جاتی ہے، نہ دوسرے فریق کی بات سنی جاتی ہے۔ گویا عدالت بھی خود، جج بھی خود اور فیصلہ بھی خود!
بدظنی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسان کی طبیعت منفی خبروں کی طرف جلد مائل ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کسی شخص کے متعلق دس اچھائیوں کا ذکر کریں تو شاید سننے والا بھول جائے، لیکن ایک خامی بیان کردیں تو برسوں یاد رکھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نیکیوں کی خبریں آہستہ چلتی ہیں اور برائیوں کی افواہیں ہوا سے باتیں کرتی ہیں۔
بعض لوگوں کی مجلسیں تو گویا بدظنی کی نرسری ہوتی ہیں۔ وہ خود کسی ڈگری کالج کا ڈگری یافتہ گریجویٹ ہوتا ہے، سننے والے کوچنگ سینٹر کے اسٹوڈنٹس ہوتے ہیں۔ وہاں بیٹھنے والا آدمی جب اٹھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ دنیا میں کوئی نیک آدمی باقی ہی نہیں رہا۔ ہر شخص چور، ہر عالم مفاد پرست، ہر تاجر بے ایمان اور ہر ذمہ دار خائن نظر آنے لگتا ہے۔ حالانکہ اصل بیماری دوسروں میں نہیں، اس نظر میں ہوتی ہے جو ہر چیز کو کالے چشمے سے دیکھ رہی ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دوسروں کے عیب تلاش کرنے کو اپنا مستقل مشغلہ بنا چکے ہیں۔ ان کے کان ریڈیو اسٹیشن، زبان لاؤڈ اسپیکر اور ذہن افواہوں کی فیکٹری بن چکے ہیں۔ کسی کے بارے میں اچھی بات سن کر ان پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے، لیکن کوئی منفی بات مل جائے تو گویا خزانہ ہاتھ آگیا۔ پھر وہ اسے ایک کان سے دوسرے کان اور ایک مجلس سے دوسری مجلس تک اس اہتمام سے پہنچاتے ہیں جیسے قوم کی بقا اسی خبر پر موقوف ہو۔
قرآن کریم نے اسی خطرناک مرض سے بچانے کے لئے فرمایا:
"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"
غور کیجیے! قرآن نے بدظنی سے بچنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ بدظنی دلوں کو توڑتی ہے، رشتوں کو خراب کرتی ہے، اعتماد کو ختم کرتی ہے اور معاشرے کو نفرتوں کا جنگل بنا دیتی ہے۔
جمعہ کا دن تھا ، دفتر والی مسجد میں ایک طالب صف اول میں بیٹھا تھا ، اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور وہ موبائل کی اسکرین پر جھکا ہوا تھا ۔
ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ اپنے طلبہ کومنع کرویہ لوگ مسجد میں بھی موبائل میں لگے پڑے ہیں۔ میں فورا ان کا ہاتھ پکڑکر مسجد لایا ، طالب علم کے قریب گیا تو وہ سورۂ کہف کی تلاوت کررہا تھا۔
میں نے ناگواری سے کہا کہ اب خود بتاؤ قصور کس کا ہے اس طالب علم کا جو سورۂ کہف پڑھ رہا ہے یا آپ کا جو بدظنی پھیلارہے ہو۔ توبہ کرو اور توفیق ملے تو اس طالب علم سے معافی مانگ لینا۔
اکابر کا معمول یہ تھا کہ اگر کسی کے بارے میں کوئی منفی بات سنتے تو فوراً اسے قبول نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے لئے اچھا محمل تلاش کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ انسان کی عزت ایک بار مجروح ہوجائے تو پھر برسوں میں بھی بحال نہیں ہوتی۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ مومن اپنے بھائی کے لئے ستر عذر تلاش کرتا ہے، اور اگر عذر نہ ملے تو اپنے دل کو ملامت کرتا ہے کہ شاید میں ہی صحیح صورتِ حال سمجھ نہیں سکا۔ یہی وہ طرزِ فکر تھا جس نے ہمارے اکابر کے دلوں کو کینے، حسد اور بدگمانی کے زہر سے محفوظ رکھا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر سنی سنائی بات کو اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کے بجائے اسے تحقیق کی کسوٹی پر پرکھیں۔ ہر الزام کو سچ نہ سمجھیں، ہر افواہ کو خبر نہ مانیں اور ہر لغزش کو جرم نہ قرار دیں۔
یاد رکھیے! بدظنی کا آغاز ایک خیال سے ہوتا ہے، پھر وہ یقین بنتی ہے، پھر رویہ بنتی ہے اور آخرکار ظلم بن جاتی ہے۔
یاد رکھیے! بدظنی کی عمارت ہمیشہ ریت پر کھڑی ہوتی ہے۔ بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہے مگر حقیقت کی ایک لہر آتے ہی زمین بوس ہوجاتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس کے گرنے تک بہت سے دل زخمی ہوچکے ہوتے ہیں، بہت سے تعلقات ٹوٹ چکے ہوتے ہیں اور بہت سی عزتیں خاک میں مل چکی ہوتی ہیں۔
لہٰذا اگر دل کو پاک رکھنا ہے، تعلقات کو سلامت رکھنا ہے اور معاشرے کو نفرتوں سے بچانا ہے تو حسنِ ظن کو اپنائیے اور بدظنی کے جراثیم سے اپنے ذہن و دماغ کو محفوظ رکھیے۔ کیونکہ بہت مرتبہ دوسروں کے بارے میں ہمارا گمان، دوسروں کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے دل کا تعارف ہوتا ہے۔
(نو محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے