65a854e0fbfe1600199c5c82

حضرت مولانا سعادت علی جونپوری



 وفیات:


حضرت مولانا سعادت علی جونپوری


(ناصرالدین مظاہری)


حضرت مولانا سعادت علی، شیخ الحدیث و صدر المدرسین ریاض العلوم، گورینی، جونپور، آج اپنے گھر الہ آباد میں انتقال فرما گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔


مولانا سے میری زیادہ ملاقاتیں نہیں ہیں، نہ ہی ان کی صحبت میسر رہی۔ بس 2017ء میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس جونپوری کے انتقالِ پُرملال پر، جب حضرت کی حیات و خدمات پر لکھنے کا ارادہ ہوا، تو حضرت مولانا محمد سعیدی کے ایماء پر باقاعدہ جونپور حضرت کے گھر گیا۔ مانی کلاں، جہاں حضرت شیخ نے تعلیم حاصل کی تھی، وہاں حضرت مولانا عبدالعلی مظاہری رحمہ اللہ سے ملاقات کی۔ قیام کا ارادہ پہلے سے ریاض العلوم میں ہی تھا، اسی لیے حضرت مولانا محمد سعیدی کا ایک مکتوبِ گرامی بنام مہتمم صاحب لے کر پہنچا۔


مسجد کے باہر پہلے احاطے میں درختوں کے پاس مہتمم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اپنا نام و تعارف کرایا، مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ خط پیش کیا، پھر بھی معاملہ جوں کا توں رہا۔ میں مایوس ہو کر وہاں سے اندر والے احاطے میں پہنچا، جہاں کئی لائق و فائق شخصیات سے ملاقات ہوئی۔ ہر ایک نے نہایت بشاشت، خوش دلی اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کی، شفقتوں سے نوازا۔ خاص کر حضرت مولانا سعادت علی مرحوم، حضرت مولانا مقبول احمد، حضرت مولانا عبداللہ بستوی مدظلہ، اور متعلمِ جامعہ، عزیزی محمد شمامہ سلمہ نے دل و دماغ پر قبضہ کر لیا۔


حضرت شیخ الحدیث مولانا عبداللہ صاحب اور حضرت شیخ الحدیث مولانا سعادت علی سے ملاقاتیں خوب رہیں۔ دونوں صلاحیتوں اور صالحیتوں کے دلنواز پیکر ہیں۔ خورد نوازی کوئی ان سے سیکھے۔ حقیقت میں اربابِ مدرسہ نے ہیرے جواہرات سے ریاض العلوم کو بھر دیا ہے۔


مجھے حضرت مفتی محمد حنیف صاحب بہت یاد آئے؛ کیونکہ ان کا ذکرِ خیر حضرت فقیہ الاسلام مفتی مظفر حسین سے بکثرت سنتا رہا۔ مجھے حضرت مولانا محمد ارشاد بھاگل پوری بھی بہت یاد آئے، جن کا تذکرہ میرے استاذ حضرت مولانا اطہر حسین خوب کیا کرتے تھے۔

شمامہ سلمہ نے تو حق ادا کر دیا۔ دونوں، بلکہ تینوں وقت، ناشتے سے ظہرانے اور عشائیے تک خوب خیال رکھا۔ ایک لقمہ بھی مدرسے کا کھانے نہیں دیا۔ قیام، البتہ، مہمان خانے میں رہا۔


میں اس ادارے کو مشرقی یوپی کا دارالعلوم کہتا ہوں، اور بالکل بجا کہتا ہوں۔


مولانا عبیداللہ شمیم اعظمی، مولانا محمد اظہار الحق بستوی اور مولانا طہ جونپوری نے مشترکہ طور پر جامعہ کی پچاس سالہ جو تاریخ مرتب کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ بھارت کے دیگر مدارس میں ایسی خدمت کی نظیر نہیں ملی، جس کے فرزندوں اور جیالوں نے اپنے دمِ خم پر اتنی شاندار تاریخ مرتب کر کے مادرِ علمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہو۔

اسی کتاب کے صفحہ 371 سے صفحہ 391 تک، تقریباً 22 صفحات پر، مشہور صاحبِ قلم مفتی تبریز عالم صاحب حلیمی قاسمی اور رفیقِ مکرم مولانا حکیم فخرالاسلام قاسمی مدظلہ کے قلم سے مولانا سعادت علی کے سوانحی نقوش اور کمالات کا شاندار خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں، مولانا کے بارے میں اتنا مرتب خاکہ شاید ہی کہیں اور ملے۔


سچ کہوں تو، تقریباً 24 گھنٹے کے میرے قیام کے دوران، میرے میزبان حضرت مولانا سعادت علی ہی تھے۔

ویسے بتاتا چلوں کہ الحمدللہ مدرسے کے رسالہ ریاض العلوم میں میرے مضامین میری طالب علمی کے زمانے سے شائع ہوتے رہے ہیں، اور تقریباً ہر صاحبِ علم، الحمدللہ، نام سے واقف ہے، جس کا اندازہ وہاں اتفاقی ملاقاتوں سے بھی ہوا۔

آج جب حضرت مولانا سعادت علی کے انتقال کی خبر پڑھی تو قلب رنج سے بھر آیا۔ کیا نیک اور خلیق انسان تھے!


میں حضرت کے گھر الہ آباد بھی گیا ہوں، اور صاحب زادۂ گرامی مولوی محمد سلمہ نے ضیافت بھی کی ہے۔


اصل میں مجھے گھر کا پتہ نہیں تھا، لیکن میں اپنے شیخِ طریقت حضرت مولانا محمد قمر الزماں الہ آبادی مدظلہ کے دولت خانے سے نکلا تو محمد میاں اپنے مکان کے پاس ہی کھڑے تھے۔ میں پہچان گیا، سلام کا تبادلہ ہوا، اور گھر جانا پڑا۔


آہ! مولانا سعادت علی کا سرخ گندمی رنگ، ہلکا سا تبسم، چوڑی پیشانی، دراز قد اور سنجیدہ گفتگو، سب کچھ تاحیات یاد آتا رہے گا۔  کچھ نہ کچھ ایصالِ ثواب کی توفیق بھی ان شاء اللہ ملتی رہے گی۔


محمد سلمہ! اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کو سنبھالیے، حوصلہ دیجیے۔ «الصبر عند الصدمة الأولى»۔ صبر، صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے۔ سب کو صبر کی تلقین کرتے رہیے۔ ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾


إنا لله وإنا إليه راجعون۔


(دس محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے