سنو سنو!!
تعریف، مرعوبیت اور ارتداد
(ناصرالدین مظاہری)
ابتدائے اسلام کا ایک نہایت سبق آموز واقعہ ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ اہلِ کتاب سے حاصل کی ہوئی تورات کے چند اوراق لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں پڑھ کر سنانے لگے۔ صحابۂ کرامؓ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک غصے سے متغیر ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اے ابنِ خطاب! کیا تم اس معاملے میں تردد کا شکار ہو گئے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں تمہارے پاس دین کو بالکل صاف و شفاف لے کر آیا ہوں۔ ان سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھو، کہیں وہ تمہیں کوئی سچی بات بتائیں اور تم اسے جھٹلا دو، یا کوئی جھوٹی بات بتائیں اور تم اس کی تصدیق کر بیٹھو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آج موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری اتباع کے سوا کوئی راستہ نہ ہوتا۔"
(مسند احمد: 15156، سنن دارمی: 449)
اس حدیث کا اصل موضوع اپنی جگہ نہایت اہم ہے، لیکن اس میں ایک نفسیاتی حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے۔ انسان جب دوسروں کی عظمت سے غیر معمولی طور پر متاثر ہونے لگتا ہے تو اس کا اپنا اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔
مرعوبیت آہستہ آہستہ سوچ پر اثر ڈالتی ہے، پھر فیصلوں پر بھی۔
یہی اصول ہماری گھریلو زندگی میں بھی پوری طرح کارفرما ہے۔
جب کسی شخص کی حد سے بڑھی ہوئی تعریف کسی دوسرے کے سامنے کی جاتی ہے تو اکثر سننے والے کے دل میں احساسِ کمتری جنم لیتا ہے اور وہ غیر محسوس طور پر اس شخصیت سے مرعوب ہونے لگتا ہے۔
اس موقع پر مفتی طارق مسعود کا سنایا ہوا ایک لطیفہ یاد آتا ہے۔
ایک نوجوان اپنی محبوبہ سے کہنے لگا:
"میں مانتا ہوں کہ میرے پاس فلاں جیسا گھر نہیں، اس جیسی گاڑی نہیں، اس جتنا پیسہ بھی نہیں، لیکن میں تمہیں خوش رکھوں گا۔ بتاؤ، تمہیں کیا چاہیے؟"
محبوبہ نے فوراً جواب دیا:
"اُسی کا نمبر چاہیے۔"
یہ محض ایک لطیفہ نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کا آئینہ ہے۔ جس شخص کی عظمت بار بار ہمارے کانوں میں ڈالی جائے، دل بھی آہستہ آہستہ اسی کی طرف جھکنے لگتا ہے۔
اس مرعوبیت کا ایک بڑا ذریعہ ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے۔ ہمارے بہت سے بچے ایسے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جہاں انہیں اپنی دینی، تہذیبی اور تاریخی شناخت سے زیادہ دوسری تہذیبوں، دوسری شخصیات اور دوسرے مذہبی تصورات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ ہندو تہذیب، رسوم، دیومالائی کرداروں اور مذہبی روایات کا تعارف اگر تنقیدی اور علمی انداز کے بجائے تعظیمی یا یک طرفہ اسلوب میں ہو، اور اس کے مقابلے میں اسلامی تاریخ، اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کے علمی و اخلاقی کارناموں سے واقفیت نہ ہو، تو بعض بچوں کے ذہن میں رفتہ رفتہ احساسِ مرعوبیت پیدا ہونے لگتا ہے۔ پھر یہی مرعوبیت بعض اوقات اپنی شناخت سے دوری، دینی بے حسی، بلکہ دیگر اسباب کے ساتھ مل کر گمراہی اور ارتداد کا بھی ایک سبب بن سکتی ہے۔
ہماری گفتگو کا بڑا حصہ دوسروں کی دولت، ان کے کاروبار، ان کی ترقی، ان کے اقتدار، ان کے بنگلوں، ان کی گاڑیوں اور ان کی کامیابیوں کے ذکر پر مشتمل ہوتا ہے۔ فلاں قوم کتنی ترقی یافتہ ہے، فلاں خاندان کتنا مالدار ہے، فلاں شخص نے کتنی بڑی سلطنت کھڑی کر دی، فلاں ملک میں کیا نظام ہے۔ یہ سب باتیں اس انداز سے بیان کی جاتی ہیں کہ گھر میں بیٹھے بچے اور بچیاں بھی انہیں سنتے رہتے ہیں اور غیر محسوس طور پر مرعوب ہوتے رہتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ آج ارتداد کے بڑھتے ہوئے واقعات یا غیر مسلم لڑکوں اور لڑکیوں سے شادیوں کی یہی ایک وجہ ہے۔ اس کے اسباب بہت ہیں؛ دینی کمزوری، سوشل میڈیا، غلط صحبت، مخلوط ماحول، بے دینی اور خاندانی غفلت، سب اپنا حصہ رکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دوسروں کی بے جا عظمت ہمارے بچوں کے ذہن پر اثر ڈالتی ہے۔
جب ایک بچہ مسلسل یہ سنتا رہے کہ عزت بھی انہی کے پاس ہے، دولت بھی انہی کے پاس ہے، عقل بھی انہی کے پاس ہے، ترقی بھی انہی کی ہے اور کامیابی بھی انہی کا مقدر ہے، تو رفتہ رفتہ اس کے دل میں برتری کا معیار بدلنے لگتا ہے۔ پھر اگر زندگی کے کسی مرحلے پر اس کا واسطہ انہی لوگوں سے پڑ جائے تو وہ پہلے ہی ذہنی طور پر مرعوب ہوتا ہے۔ ایسے میں بعض فیصلے جذبات سے نہیں بلکہ پہلے سے پیدا شدہ مرعوبیت سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اسلام نے ہمیں انصاف سکھایا ہے۔ کسی کی خوبی کا انکار کرنا انصاف نہیں، لیکن کسی کی ایسی تعریف کرنا بھی دانش مندی نہیں جو اپنے ہی بچوں کے دلوں میں احساسِ کمتری پیدا کر دے۔
ہمیں چاہیے کہ جہاں دوسروں کی کسی اچھی بات کا ذکر کریں، وہیں اپنے دین، اپنی تہذیب، اپنے اکابر، اپنے علماء، اپنے محسنین اور اپنی تاریخ کے روشن پہلو بھی بچوں کے سامنے رکھیں۔ اگر ہم خود ہی ہر وقت دوسروں کا قد بڑھاتے رہیں گے تو پھر اپنے بچوں سے یہ شکوہ کرنے کا حق بھی کم ہو جائے گا کہ وہ دوسروں سے مرعوب کیوں ہو گئے۔
تعریف کیجیے، مگر اعتدال کے ساتھ؛ ورنہ کبھی کبھی تعریف کے چند جملے وہ نقصان پہنچا دیتے ہیں جو برسوں کی وعظ و نصیحت بھی بھرپائی نہیں کر پاتی ۔
( تیرہ محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے