کھٹارہ جہاز اور ہمارا سفر
(ناصرالدین مظاہری)
ہمیں جدہ سے نئی دہلی آنا تھا، ہماری ٹیکسی نے ہمیں دیر تک گھمانے پھرانے کے بعد جدہ کے ایک ایسے ٹرمنل پر پہنچایا جہاں اس سے پہلے کبھی آنے کا موقع نہیں ملا تھا، ائرپورٹ بھی کیا تھا بالکل سادہ سا، برائے نام بھیڑ، بہت کم عملہ اور ایک منزلہ عمارت تھی، اس سے پہلے جب بھی جانا یا آنا ہوا تو جدہ کا ائرپورٹ اپنی خوبصورتی اور شان وشوکت میں بے شمار ائرپورٹوں سے ممتاز نظر آیا، میری سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ اتنا سادہ ائرپورٹ وہ بھی سعودیہ میں کہاں سے آگیا۔ اندر پہنچے تو عملہ بھی کم، عوام بھی بہت کم، بہت سادگی کے ساتھ امیگریشن کے مراحل طے ہوئے اور ہم ویٹنگ ہال میں پہنچ گئے۔
ویٹنگ ہال میں بیٹھے بیٹھے تھک گئے تو گھومنا پھرنا شروع کردیا، حیرت کی بات تھی کہ جس گیٹ پر دیکھا بہت غریب ملکوں مصر، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ کے لوگ ہی دکھائی دئے۔
ہماری فلائٹ کا وقت کب کا ہوچکا تھا، افطار کے بعد عشاء سے پہلے طیارے میں پہنچ جانا تھا لیکن ابھی اس گیٹ پر دیگر ملکوں کی سواریاں لائن میں لگی تھیں۔ ہمارے صبر کا پیمانہ اس لئے لبریز نہیں ہوا کہ ہم تو پکے انڈین ہیں اور انڈین کے پاس صبر کا پیالہ ہی تو بچا ہے جو حکومت نے کسی گروپ کو کرایہ پر نہیں دیا ہے ورنہ اور تو کچھ بچا نہیں ہے۔
خیر ایک گھنٹہ کی تاخیر سے ہم طیارہ میں پہنچ گئے، طیارہ کیا تھا بس بڑی سی بس کہہ لیجیے، اسپائس جیٹ کمپنی کا یہ طیارہ جسم وجثہ کے اعتبار سے بہت چھوٹا تھا، درمیان میں ایک ہی گیلری تھی، اس سے پہلے کبھی اتنے چھوٹے طیارے سے جدہ جانے آنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ ہم سب یہ سوچ کر بے فکر تھے کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے، ایک اسلامی ملک سے پرواز بھرے گا اس لئے رات کا کھانا اور سحری تو ملے گی ہی لیکن آہ
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
بعد میں پتہ چلا کہ جدہ کے اس ائرپورٹ پر ایسے ہی سستے کھٹارہ جہاز اور نہایت سستے پیکیج والے افراد کو پہنچایا جاتاہے، اور جو لوگ نہایت کفایت شعاری کا پیکیج لیتے ہیں وہ کھانا تو کیا پانی سے بھی محروم رہتے ہیں۔یہ حرکت ہمارے ٹور والے کی تھی جس نے پیسے پورے لئے اور واپسی ایسے جہاز سے کرائی۔
ہمیں آج پہلی بار کسی اصلی انڈین ہوائی جہاز سے سابقہ پڑا تھا۔ ہمیں ہمارے ٹکٹ پر روانگی کا جو وقت بتایا گیا تھا اب تک دو گھنٹے تاخیر ہوچکی تھی۔ جہاز کا گیٹ بند ہوچکا تھا، چہل پہل آمدورفت کم ہوچکی تھی، رات کے دس بج چکے تھے، اچانک پھر سے سیڑھیاں لگ گئیں، پھر سے دروازہ کھولا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا تھا، کچھ لوگ اندر آئے اور پائلٹ کی طرف چلے گئے، آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا، اسٹاف بھی خاموش تھا، عوام کی پریشانی دیدنی تھی، کیونکہ ہر بندہ کا دہلی میں استقبال کرنے والے عزیز و اقارب ادھر پریشان ہوں گے کہ اب تک ائرپورٹ سے نکلے کیوں نہیں، جہاز پہنچا کیوں نہیں، ادھر ٹریفک پولیس بھی انھیں پریشان کرے گی کہ گاڑی اتنی دیر کھڑی رکھنا قانوناً جرم ہے، جرمانے کا بھی خطرہ، پتہ چلا کہ ہوائی جہاز✈ کے انجن میں کچھ گڑ بڑی ہے اس لئے اس کی مرمت کا کام چل رہا ہے۔ ویسے بھی یہ انڈین طیارہ تھا اگر سمندر کامسئلہ نہ ہوتا تو بائی روڈ بھی لا سکتاتھا۔
میں یہ سن کر مزید پریشان ہوگیا اور میری ہی طرح دیگر لوگوں کے چہروں پر پریشانی کے آثار صاف نظر آئے۔
"کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے"اب پھر سے ہوائی جہاز کا گیٹ بند ہوگیا، جہاز نے رینگنا بھی شروع کردیا اور ائرہوسٹس نے مائک سے اپنے مخصوص انداز میں بتانا سمجھانا بلکہ ڈرانا بھی شروع کردیا۔
جہاز نے فضا میں پہنچ کر ایک چکر لگایا اور مشرق کی طرف روانہ ہوگیا۔ ظالموں نے سحری نہیں دی، جب کہ سارے ہی مسافر مسلمان تھے البتہ سحری کے وقت ایک اک گلاس دیا جو اوپر سے گرم تھا، کھول کر دیکھا تو کیچوے جیسی کوئی چیز نظرآئی،مجھے تو اس کو دیکھ کر ہی گھن آئی، اپنے ایک شاگرد عبدالمؤخر سلمہ کو دیدی اور پھر عبدالمؤخر کی میز پر پورے نو گلاس موجود تھے۔ گویا کسی نے نہیں کھائی، ایک کارندہ آیا اور ناراض ہوکر سارے گلاس واپس لے گیا۔
حیرت انگیز بات یہ تھی کہ الحمدللہ ہوائی جہاز خستہ، بوسیدہ، خراب اور ناقابل استعمال ہونے کے باوجود چار گھنٹے میں ہی دہلی پہنچ گیا۔
جب شروعات خراب تھی تو اختتام بھی ایسا ہی تھا۔ کسی معتمر نے میری زمزم کی بوتل چرالی۔ میری ہی نہیں میرے دو ساتھیوں کی بوتل بھی غائب تھی۔ ہم تب تک رہے جب تک اس بیلٹ کا پورا سامان ختم نہیں ہوا۔ بالکل اخیرمیں جب چین بیلٹ بند کردی گئی تو متعلقہ کمپنی کے دفتر پہنچ کر شکایت کی، جواب دیا گیا کہ کیا کیا جائے لوگ عمرہ کرکے بھی حرکت سے باز نہیں آتے اور اپنی بوتل کے ساتھ دوسرے کی بوتل بھی لے کر چلے جاتے ہیں۔

0 تبصرے