ٹرین کے چند تجربات
اپنی ٹرین کے وقت کو خوب یاد رکھیں اور کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے ریلوے اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کریں کیونکہ بسا اوقات عین وقت پر پلیٹ فارم بدل دیا جاتا ہے اور اس وقت بڑی کوفت ہوتی ہے جب سامان لے کر پل سے گزرنا پڑے۔
اب اکثر ریلوے اسٹیشنوں پر کوچ کی متعینہ جگہ بھی بورڈ میں ظاہر کردی جاتی ہے کوشش کریں کہ آپ اپنے کوچ کے اریب قریب رہیں کیونکہ کبھی کبھی بھاگ دوڑ میں ناقابل بیان تکلیف ہوتی ہے۔
اپنے ٹکٹ سے دیکھ کر اپنی ٹرین کا نام نمبر خاص کر کوچ اور سیٹ نمبر کسی ایسے کاغذ پر یا موبائل میں لکھ لیں جس میں دیکھنا آسان ہو عام طور پر لوگ irctc سے ٹکٹ بنالیتے ہیں اور عین وقت پر موبائل نیٹ ورک سست ہوجاتا ہے یا موبائل ایپلی کیشن جلدی نہیں کھلتی اور خواہ مخواہ پریشانی ہوتی ہے۔
بہتر ہے کہ آپ اپنا سامان اپنے قریب رکھیں ، ٹکٹ سلیپر میں نہ کرائیں اے سی میں کافی سکون رہتا ہے لوگ بھی سیاست نہیں بگھارتے اور سفر پر امن رہتا ہے۔
ساری بکواس جنرل اور سلیپر ڈبوں میں نظر آتی ہے۔
ٹرین کے اندر موبائل چارجنگ سسٹم پر زیادہ بھروسہ نہ کریں کیونکہ عام طور پر مایوسی ہوتی ہے۔
اپنی سیٹ کسی سے نہ بدلیں یہ سیکورٹی نظام کے تحت بہت ضروری اور حساس ہے۔بعض واقعات ایسے ہوچکے ہیں کہ شاطر انسان نے اپنی سیٹ کسی شریف سے بدل لی اور راستے میں قاتلوں نے اس انجان وبے قصور شخص کو اپنا ہدف سمجھ کر غلطی سے قتل کردیا۔
ٹرین میں سیاسی باتیں ہرگز نہ کریں ، نہ ہی اپنی قابلیت بگھاریں، خاموش رہیں یا مطالعہ کریں اب بھی کتاب اور صاحب کتاب کا رعب عوام پر پڑتا ہے۔
یہ صرف میرے تجربات ہیں آپ کا ماننا یا عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔
(ناصرالدین مظاہری)
0 تبصرے