ٹرین کا سفر
(ناصرالدین مظاہری)
بیگم پورہ سپر فاسٹ ٹرین سہارنپور سے روانہ ہو چکی ہے۔ حسبِ معمول ٹرین چند منٹ تاخیر سے پہنچی، مگر لوہے کے مضبوط ترین پہیوں پر اس کا مست خرامی کے ساتھ رینگنا اور فراٹے بھرنا دل کو بڑا سکون دیتا ہے۔ ٹرین کے ہلکے ہلکے ہچکولے ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے ماں کے سینے سے لگا کوئی بچہ آہستہ آہستہ جھول رہا ہو۔ پٹریوں پر پہیوں کے سرکنے سے پیدا ہونے والی آواز جب سماعتوں سے ٹکراتی ہے تو ایک عجیب سا کیف طاری ہو جاتا ہے۔
سچ کہوں تو مجھے ہر قسم کی کاروں، بسوں، جہازوں اور ہوائی سواریوں سے بڑھ کر ٹرین کی سواری پسند ہے۔ یہاں جب دل چاہے جیسے چاہے لیٹ جاؤ، پاؤں پسار لو، نیم دراز ہو جاؤ۔ سکون سے چلتی ٹرین میں جو چاہو کھاؤ پیو نہ شور شرابہ، نہ پائے ہلہ۔ چائے فروش بھی اے سی ڈبوں میں تہذیب کا مظاہرہ کرتے ہیں، ٹی ٹی بھی بڑا سلیقہ شعار اور بردبار لگتا ہے۔ نہ تیز گانوں کی آوازیں، نہ بے جا بات چیت بس سکون ہی سکون۔ ایک مسلسل، مدھم، دل کو تھام لینے والی آواز… یہی آواز اس سفر کی لوری ہے، جس میں انسان انجانے ہی اپنے فکروں کو سلا دیتا ہے۔
ڈبے میں مختلف رنگ، مختلف لہجے، مختلف لباس اور مختلف تہذیبیں جمع ہوتی ہیں، مگر اس ہجوم میں بھی ایک عجب ہم آہنگی ہوتی ہے۔ کچھ سال پہلے تک کوئی بزرگ کھڑکی کے پاس بیٹھا تسبیح کے دانے گنتا دکھائی دیتا تھا، کوئی نماز پڑھتا مل جاتا تھا، مگر اب تقریباً ہر ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ کہیں کوئی ماں بچے کو گود میں سنبھالے نیند کی آغوش میں سلا رہی ہے، کہیں دو اجنبی چند لمحوں میں شناسا بن جاتے ہیں، اور کہیں کوئی کسی کا سامان اوپر رکھنے میں ہاتھ بٹا دیتا ہے۔میرا سامان نیچے اتارنے میں ایک غیر مسلم نے مدد کی ہے۔ یہ وہ ہجوم ہے جو بے رحم نہیں، بلکہ خاموشی سے ایک دوسرے کا خیال رکھتا ہے۔
ٹرین کے اندر زندگی اپنی پوری روانی کے ساتھ چلتی ہے۔
"چائے… گرم چائے!"
"کافی… کافی!"
"سموسا… کٹلیٹ!"
یہ آوازیں محض سودا بیچنے کی صدائیں نہیں ہوتیں، بلکہ سفر کی موسیقی بن جاتی ہیں۔ مٹی کے گلاس میں چائے کی بھاپ، دھاتی چمچ کی ہلکی سی کھنک، اور کھڑکی سے جھانکتی ہریالی اور سبزہ زار یہ سب مل کر ایک ایسا ذوق و ذائقہ پیدا کرتے ہیں جو صرف ٹرین کے سفر ہی میں ممکن ہے۔
کھڑکی کے باہر مناظر ایک کے بعد ایک یوں بدلتے ہیں جیسے قدرت خود تصویری البم کے ورق پلٹ رہی ہو۔ کہیں لہلہاتے کھیت، کہیں تاڑ، ناریل اور آم کے درخت قطار در قطار؛ کہیں ندی کا چمکتا ہوا سینہ، تو کہیں مٹیالے راستے پر چلتا کوئی کسان، پھاٹک پر کاروں اور دیگر گاڑیوں کا ہجوم ۔ چھوٹے چھوٹے اسٹیشن آتے ہیں، چند لمحوں کو جھلکتے ہیں، پھر پیچھے چھوٹ جاتے ہیں جیسے زندگی میں آنے والے کئی چہرے چھوٹ جاتے ہیں۔
کبھی بادل قریب آ جاتے ہیں، کبھی دھوپ کھڑکی سے اندر اتر کر نشست پر پھیل جاتی ہے۔ شام کے وقت جب سورج دور افق میں ڈوبنے لگتا ہے تو ٹرین کے شیشوں پر سنہری پرچھائیاں کھیلنے لگتی ہیں۔ اس لمحے انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مظاہرِ قدرت صرف دیکھنے کی چیز نہیں، بلکہ محسوس کرنے کا نام ہیں۔
ٹرین کا سفر یہ بھی سکھاتا ہے کہ منزل سے زیادہ خوبصورت خود سفر ہوتا ہے۔ یہاں رفتار کم ہوتی ہے، مگر احساس گہرا۔ یہاں اجنبی بھی تھوڑی دیر کو اپنے لگتے ہیں، اور زندگی اپنی اصل صورت میں سامنے آ کھڑی ہوتی ہے سادہ، رواں اور بے تکلف۔
شاید اسی لیے ٹرین کا سفر دل کو بھاتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سکون شور میں بھی مل سکتا ہے، ہجوم میں بھی انسانیت زندہ رہتی ہے، اور زندگی لوہے کی سڑک پر بھی مسکرا سکتی ہے۔
یہ ٹرین سہارنپور سے چل کر رکنا جیسے بھول ہی جاتی ہے۔ اسے آئی ٹی آئی اور تمام تر عصری تعلیم کے مرکز روڑکی کا بھی خیال نہیں۔ یہ لکسر کو بھی بکسر کی طرح نظر انداز کر دیتی ہے۔ نجیب الدولہ کے نجیب آباد کو خاطر میں لانا تو درکنار، نگینہ اور دھام پور کو بھی چھوڑ جاتی ہے۔ یہ تو بریلی جیسے مہانگر میں بھی نہیں رکتی۔
ٹرین کا سفر ہمیشہ ہی خوش گوار رہا ہے ، البتہ میں کئی بار بروقت بیدار نہ ہوپانے کی وجہ سے اپنے اسٹیشن سے کافی دور نکل چکا ہوں، سہارنپور اترنا تھا انبالہ دیکھ چکا ہوں، شاہجہانپور پہنچ کر سفر ختم ہو جانا تھا مگر لکھنؤ دیکھ چکا ہوں، اس لئے بروقت اٹھنے کے لئے ضروری ہے کہ وقت پر سویا جائے ۔
صبح چار بجے مجھے شاہجہان پور اترنا ہے۔ اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔ نیند کا غلبہ ہے۔
اجازت… خدا حافظ۔
(بیس شعبان المعظم چودہ سو سینتالیس ہجری)

0 تبصرے