65a854e0fbfe1600199c5c82

آہ! مولانا غیور احمد قاسمی ہرسولوی



 آہ! مولانا غیور احمد قاسمی ہرسولوی


(ناصرالدین مظاہری)


اگر میں کہوں کہ میں نے کم سنی اور کم عمری ہی میں ایک ایسا نیک و صالح، متین و سنجیدہ، کم گو و ملنسار، نرم خو و خاکسار نوجوان دیکھا تھا جس کی پیشانی فطانت و دیانت، شرافت و نجابت اور بزرگی و سعادت کی روشن علامت تھی، تو میں مبالغہ نہیں کرتا۔ اسے دیکھ کر دل کو سکون ملتا تھا، اس سے مل کر طبیعت کو طمانینت حاصل ہوتی تھی، اور اس کی سنجیدگی، خاموشی اور متانت یہ پیغام دیتی تھی کہ یہ نوجوان آگے چل کر یقیناً کسی بلند مقام پر فائز ہوگا۔


اگر میں کہوں کہ اپنے سنِ فراغت 1415ھ میں، فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ ناظم مظاہر علوم وقف سہارنپور کی خدمت میں، میں نے ایک نوجوان کو سایہ کی طرح ہمہ وقت حاضر پایا، تو یہ بھی حقیقت ہے۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک قلم اور ایک کاپی رہتی تھی۔ وہ حضرت مفتی صاحب کے بائیں جانب نہایت ادب سے بیٹھتا، ان کی گفتگو کو پوری توجہ سے سنتا، اہم نکات قلم بند کرتا، پھر فرصت کے لمحات میں اپنی تحریر حضرت کو دکھاتا۔ اس کے بعد یہی مسودہ حضرت مولانا اطہر حسین صاحب اور حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ کی نظر سے بھی گزرتا تھا۔


اگر میں کہوں کہ میں نے اس نوجوان کو کبھی بے تکلفی کی حدوں میں داخل ہوتے، بے جا مزاح کرتے یا قہقہوں میں مشغول ہوتے نہیں دیکھا، تو یہ بھی حرف بہ حرف سچ ہے۔ اس کی خاموشی میں وقار تھا، گفتگو میں وزن تھا اور طبیعت میں ایسی سنجیدگی تھی جو عمر سے کہیں زیادہ معلوم ہوتی تھی۔


اگر میں کہوں کہ اس کی کتابی صلاحیتیں غیر معمولی تھیں اور اس کی ظاہری وجاہت بھی دلکش تھی، تو اس میں بھی کوئی مبالغہ نہیں۔


اگر میں کہوں کہ 1414ھ میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد وہ اپنے استاذِ جلیل اور مربیٔ بے مثال حضرت مفتی مہربان علی شاہ بڑوتوی رحمہ اللہ کے حکم پر فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔


اگر میں کہوں کہ زمانۂ طالب علمی ہی میں اس کی صلاحیتوں، سعادت مندی اور بزرگانہ اوصاف کے چرچے اہلِ علم کی مجالس میں ہونے لگے تھے، تو یہ بھی درست ہے۔


اگر میں کہوں کہ ہرسولی، ضلع مظفر نگر کے مخلص اور دیندار شخصیت حاجی عبدالغفور صاحب کا یہ لاڈلا بیٹا اساتذۂ کرام اور اکابرینِ دین کی آنکھوں کا تارا تھا، تو یہ بھی سراسر حق ہے۔


اگر میں کہوں کہ فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ، مرشد الامت حضرت مفتی مہربان علی شاہ رحمہ اللہ، حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب (آخری مرشد و مربی)۔ حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب اور اپنے حقیقی بڑے بھائیوں حضرت مولانا مفتی محمد طاہر صاحب شیخ الحدیث مفتاح العلوم جلال آباد اور حضرت مولانا مفتی محمد ایوب صاحب مہتمم دارالعلوم رشیدیہ بڑوت کی محبتوں، دعاؤں، امیدوں اور آرزوؤں کا حسین شاہکار تھے، تو یہ بھی بجا ہے۔


اگر میں کہوں کہ میں نے انہیں عالمِ نوجوانی میں قابل توجہ اور عالمِ جوانی میں قابلِ رشک پایا، تو اس میں بھی کوئی مبالغہ نہیں۔


دارالعلوم دیوبند سے فراغت، مظاہر علوم وقف سہارنپور سے تربیت، مسیح العلوم بنگلور سے تدریسی سفر کی ابتدا، پھر کچھ عرصہ اپنے برادرِ بزرگ مفتی محمد ایوب صاحب کے زیرِ نگرانی دارالعلوم رشیدیہ بڑوت میں خدمت، اور آخر میں مدرسہ انوار القرآن جولہ بڈھانہ مظفر نگر میں تدریس و تربیت کی ذمہ داری۔ جہاں بھی رہے، علم کی شمع روشن کی، بچوں کی تعلیم و تربیت میں خود کو کھپا دیا اور اپنے حسنِ اخلاق سے دلوں کو مسخر کرتے رہے۔


مگر افسوس! ابھی عمر کی بہار باقی تھی، خدمات کے کئی باب لکھے جانے تھے، شاگردوں کی ایک دنیا ان سے فیض پانے کی منتظر تھی کہ ہفتہ کی شب، 26 ذوالحجہ 1447ھ، تقریباً ایک بجے، حرکتِ قلب بند ہونے کے سبب اپنے مولائے حقیقی سے جا ملے۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ


ان کی وفات کی خبر نے دل کو بے حد مغموم کر دیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک خاموش چراغ بجھ گیا ہو، ایک متین آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی ہو اور علم و اخلاص کا ایک خوبصورت باب اچانک بند ہوگیا ہو۔


اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی خدمات کو قبولیتِ عامہ و تامہ عطا فرمائے اور پسماندگان، متعلقان، شاگردان اور وارثان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔


کم موت سے ایسی مجھے امید نہ تھی


زندگی! تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ


(26 ذوالحجہ 1447ھ، بوقت صبح 7:30 بجے)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے