سنو سنو!!
مفت کی نیکیاں
(ناصرالدین مظاہری)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ انسان کی پوری زندگی کو عبادت بنا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر نیت درست ہو، رزق حلال ہو اور مقصد اللہ کی رضا ہو تو کھانا، پینا، سونا، کمانا، گھر والوں پر خرچ کرنا اور اہل و عیال کے ساتھ حسنِ معاشرت بھی عبادت بن جاتی ہے۔ گویا اسلام ہمیں ایسی بے شمار "مفت کی نیکیاں" عطا کرتا ہے جن کے لیے نہ الگ وقت درکار ہے اور نہ الگ سرمایہ، صرف اخلاصِ نیت چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.
"کہہ دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔"(سورۂ انعام)
یہ آیت بتاتی ہے کہ مومن کی پوری زندگی اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عظیم اصول بیان فرمایا:
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"
"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"( بخاری مسلم)
یہی حدیث معمولاتِ زندگی کو عبادت میں تبدیل کر دیتی ہے۔
کھانا بھی عبادت:
اگر انسان حلال رزق کھائے اور یہ نیت کرے کہ اس سے عبادت پر قوت حاصل ہوگی تو یہی کھانا عبادت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا.
"اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔"(سورۂ مؤمنون)
گویا پاکیزہ غذا نیک اعمال کا ذریعہ بنتی ہے۔
پانی پینا بھی ثواب کا ذریعہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا.
"اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہو جاتا ہے جو کھانا کھائے تو اس پر اللہ کی حمد کرے، یا پانی پئے تو اس پر اللہ کی حمد کرے۔"(مسلم)
ذرا سوچیے! گلاس پانی پینا تو ہر شخص کا معمول ہے، لیکن اگر اس کے بعد الحمد للہ کہہ دیا جائے تو یہی معمول اللہ کی رضا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
سونا بھی عبادت:
اگر کوئی شخص جلدی اس نیت سے سوئے کہ فجر یا تہجد کے لیے بیدار ہوگا تو اس کی یہ نیند بھی عبادت بن جاتی ہے۔ کیونکہ اصل بنیاد نیت ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعمال کو نیت کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے۔
بیوی کو لقمہ کھلانا بھی صدقہ:
اسلام نے گھریلو محبت کو بھی عبادت بنا دیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ.
"تم اللہ کی رضا کے لیے جو بھی خرچ کرو گے اس پر اجر پاؤ گے، یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو اپنی بیوی کے منہ میں رکھتے ہو۔"(بخاری' مسلم)
کتنی حیرت کی بات ہے کہ جو عمل دنیا والے صرف محبت سمجھتے ہیں، اسلام اسے بھی صدقہ قرار دیتا ہے۔
اہل و عیال پر خرچ کرنا صدقہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِذَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً يَحْتَسِبُهَا، فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ"
"جب مسلمان اپنے گھر والوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔"( بخاری، مسلم)
گویا روٹی، کپڑا، تعلیم، علاج اور اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنا بھی اگر اخلاص کے ساتھ ہو تو صدقہ ہے۔
حلال روزی کی اہمیت:
نیکیوں کی بنیاد حلال رزق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا"
"اللہ پاک ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔"( مسلم)
اس لیے حلال کمائی سے کھانا، کھلانا اور خرچ کرنا ہی باعثِ اجر ہے۔
ہم بڑی بڑی نیکیوں کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن روزانہ ہمارے سامنے نیکیوں کے بے شمار دروازے کھلے رہتے ہیں۔ اگر نیت درست ہو، زبان پر الحمد للہ ہو، رزق حلال ہو اور مقصد اللہ کی رضا ہو تو ہمارا کھانا، پینا، سونا، جاگنا، کاروبار، ملازمت، بیوی بچوں سے حسنِ سلوک اور ان پر خرچ کرنا سب عبادت بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے زندگی کے ہر جائز لمحے کو آخرت کا سرمایہ بنا دیا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نیتوں کو درست کریں، کیونکہ نیت ہی وہ کیمیا ہے جو عادت کو عبادت اور معمول کو ثواب میں بدل دیتی ہے۔
کیا عجب ہے کہ قیامت کے دن جب اعمال نامہ کھلے تو بندہ حیران رہ جائے کہ یہ اجر کس بات کا ہے؟ اور اسے بتایا جائے کہ یہ اس لقمے کا ثواب ہے جو تم نے اپنی بیوی کو محبت سے کھلایا تھا، یہ اس 'الحمد للہ' کا اجر ہے جو ٹھنڈا پانی پی کر تمہاری زبان سے نکلا تھا، یہ اس نیند کا ثواب ہے جو تم نے تہجد کی نیت سے سو کر لی تھی، اور یہ ان روٹیوں کا صلہ ہے جو تم نے حلال کمائی سے اپنے بچوں کو کھلائی تھیں۔
وہاں ہمارا کوئی عمل خیر ضائع نہیں ہوگا۔چنانچہ ارشاد باری ہے:
فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ۔
"پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔" (سورۂ زلزال)
اور فرمایا:
وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا۔
"وہ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے۔" (سورۂ کہف)
نیز ارشاد ہے:
إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا۔
"ہم نیک عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔" (سورۂ کہف)
اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی نیکی، خواہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
( دس محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے