سنو سنو!!
ہدایت سے ضلالت تک
(ناصرالدین مظاہری)
ہدایت اور ضلالت کا حقیقی اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی دلوں کو راہِ راست پر قائم رکھتا ہے اور وہی اگر اپنی حکمت کے مطابق چاہے تو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے اس نے اہلِ ایمان کو ہمیشہ یہ دعا مانگنے کی تعلیم دی:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران: 8)
"اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہے۔"
یہ دعا اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ہدایت پر ثابت قدمی بھی اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے اور ایمان پر استقامت بھی اسی کے فضل و کرم سے نصیب ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے وارث علماء و داعیانِ حق کو مبعوث فرمایا، لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ ان کی ذمہ داری صرف حق کو پہنچانا اور دعوت دینا ہے، دلوں کو بدل دینا ان کے اختیار میں نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ﴾ (الرعد: 40)
اور فرمایا:
﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ (القصص: 56)
لہٰذا ایک داعی، عالم اور مصلح کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اخلاص، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچائے، جیسا کہ ارشاد ہے:
﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾ (النحل: 125)
اس کے بعد نتائج کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ دے، کیونکہ دلوں کے خزانے اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔
﴿مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾ (الکہف: 17)
پس بندۂ مومن کا کام دعوت، خیرخواہی، دعا اور مسلسل کوشش ہے، جبکہ ہدایت عطا کرنا صرف رب العالمین کا اختیار ہے۔
اسی لیے ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت اپنی جان، مال، عزت بلکہ اپنی اولاد سے بھی زیادہ کرے، کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت اور ابدی نجات کا سرمایہ ہے۔ دنیا کی ہر نعمت ایمان کے مقابلے میں ہیچ ہے، اور اگر ایمان سلامت نہ رہے تو انسان کی ساری کامیابیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو ایمان پر ثابت قدم رہنے اور خاتمہ بالخیر کی فکر کرتے ہوئے حکم دیتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران: 102)
اور فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (النساء: 136)
ایمان نہایت لطیف، قیمتی اور نازک دولت ہے۔ بسا اوقات انسان اپنی زبان سے ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جو اسے معمولی معلوم ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ» (صحیح بخاری)
قرآنِ کریم نے ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا جنہوں نے استہزاء اور بے احتیاطی میں ایسے کلمات کہہ دیے جن پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾ (التوبہ: 65-66)
اسی لیے فقہائے امت نے نہایت بلیغ تنبیہ فرمائی ہے:
وَالْمُسْلِمُونَ كُلُّهُمْ عَلَى خَطَرٍ عَظِيمٍ، إِلَّا مَنْ حَفِظَ اللَّهُ تَعَالَى.
یعنی کوئی مسلمان اپنے ایمان کے بارے میں کبھی بے فکر نہ ہو، بلکہ اپنی زبان، اپنے عقائد، اپنے افکار اور اپنے اعمال کی مسلسل نگرانی کرتا رہے۔ اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے ایسے کفریہ اقوال یا عقائد اختیار کرے جو اسلام سے خارج کرنے والے ہوں تو وہ ایمان کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہمارے اکابر زبان کی حفاظت، عقیدے کی سلامتی اور حسنِ خاتمہ کی فکر کو زندگی کی سب سے بڑی فکر قرار دیتے تھے۔
چنانچہ ہر مؤمن کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھے، ہر اس قول و فعل سے بچے جو کفر، شرک، استہزائے دین یا ضروریاتِ دین کے انکار تک پہنچا دے، اور ہر آن اللہ تعالیٰ سے ایمان پر استقامت، فتنوں سے حفاظت اور حسنِ خاتمہ کی دعا مانگتا رہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27)
"اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں قولِ ثابت کے ذریعے ثابت قدم رکھتا ہے۔"
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ.» (صحیح بخاری)
ترجمہ: "بعض اوقات ایک شخص لوگوں کی نظر میں اہلِ جنت جیسے اعمال کرتا رہتا ہے، حالانکہ وہ اہلِ جہنم میں سے ہوتا ہے، اور بعض اوقات ایک شخص لوگوں کی نظر میں اہلِ جہنم جیسے اعمال کرتا ہے، حالانکہ وہ اہلِ جنت میں سے ہوتا ہے، کیونکہ اعمال کا اعتبار ان کے خاتمے پر ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا معیار اس کا آغاز نہیں بلکہ اس کا انجام ہے۔ کتنے ہی لوگ بظاہر نیکی کی راہ پر چلتے ہوئے بھی اپنی بے احتیاطیوں، لغزشوں یا فتنوں کا شکار ہو کر انجامِ بد سے دوچار ہو جاتے ہیں، اور کتنے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے آخری لمحوں میں ہدایت و رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس لیے مومن کبھی اپنے اعمال پر مغرور نہیں ہوتا، نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے، بلکہ خوف اور امید کے درمیان زندگی گزارتا ہے، اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے اور ہر لمحہ اپنے رب سے یہی دعا کرتا رہتا ہے:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
پس حقیقت یہی ہے کہ ہدایت عطا کرنا، اس پر ثابت قدم رکھنا اور ایمان پر خاتمہ فرمانا، سب اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم سے ہے۔ بندۂ مومن کی حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ ایمان کی حفاظت کرتا رہے، فتنوں سے بچتا رہے، اپنے رب سے وابستہ رہے اور ایمان و اسلام ہی پر اس دنیا سے رخصت ہو۔ یہی ابدی سعادت اور دائمی نجات ہے۔
(سترہ محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے