65a854e0fbfe1600199c5c82

نلی ، نہاری اور آم ، پائے



  سنو! سنو!!


نلی ، نہاری اور آم ، پائے


(ناصرالدین مظاہری)


ہمارے والدِ محترم ایک عجیب مگر بڑی حکیمانہ بات فرمایا کرتے تھے:

"بیٹا! آم اور پائے سب کے سامنے کھانے کی چیز نہیں ہیں۔"


بچپن میں یہ جملہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ دل میں خیال آتا کہ آخر آم اور پائے نے کس کا کیا بگاڑا ہے؟ کھانے کی چیز ہیں، جہاں ملیں، مزے سے کھالو۔ مگر عمر کے ساتھ معلوم ہوا کہ بزرگوں کی ہر بات کے پیچھے ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔


اگر آپ نے کبھی غور کیا ہو تو آم چوستے یا پائے کی نلی سے مغز نکالتے وقت انسان کے چہرے کے زاویے ایسے بدلتے ہیں جیسے کسی نقشے میں کروشیا کی ایڑی ترچھی سرحدیں۔ کبھی منہ دائیں، کبھی بائیں، کبھی اوپر، کبھی نیچے۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے بھونپو منہ میں دبا رکھا ہو اور ابھی "پوں" کی فلک شگاف آواز نکلنے والی ہو۔


بڑے کی نلی اگر ہونٹوں میں دبا کر ذرا زور سے سڑکیں تو ایک لمحے کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کا مغز اوپر والے مغز سے جا کر نہ ٹکرا جائے! اور اگر آم ہو تو گٹھلی کو بار بار چوسے بغیر جی ہی نہیں بھرتا، مگر یہی منظر اگر مجمع میں پیش آئے تو دیکھنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے۔


چند روز پہلے مفتی طارق مسعود کا ایک بیان سننے کا اتفاق ہوا۔ فرمانے لگے کہ نہاری اور پائے بڑے سلیقے سے بھی نہیں کھائے جاسکتے۔ دل نے فوراً گواہی دی کہ بات میں خاصا وزن ہے، خصوصاً جب معاملہ نلی کا ہو۔


نلی بھی عجیب مخلوق ہے۔ پلیٹ میں پڑی رہے تو آدمی اسے نظر انداز نہیں کرسکتا، اور جب ہاتھ میں آجائے تو چھوڑتے بھی نہیں بنتا۔ پہلے چمچہ آزمائی، پھر کانٹے کی مدد، پھر ہڈی کو گھمانا، پھر ہلکا سا جھٹکا، اور جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو آخرکار منہ ہی کو میدان میں اترنا پڑتا ہے۔ اس دوران آپ پوری دلجمعی سے نلی کو جھٹک رہے ہوتے ہیں، بغل والا اپنا دامن سمیٹ لیتا ہے، اور آپ کا اپنا دامن گل و گلزار ہونے کے امکانات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔


مزے کی بات یہ ہے کہ آدمی سمجھتا ہے سب لوگ اپنے اپنے کھانے میں مگن ہیں، مگر ذرا کنکھیوں سے اِدھر اُدھر دیکھیے۔ معلوم ہوگا کہ کئی نگاہیں خاموشی سے آپ کی نلی کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ لے رہی ہیں، گویا کوئی عالمی مقابلہ جاری ہو اور آپ اس کے واحد امیدوار ہوں۔


اگر مغز پہلی کوشش میں باہر آگیا تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بڑا معرکہ سر ہوگیا۔ لیکن اگر وہ ضد پر اڑ جائے تو پھر نہ وقار باقی رہتا ہے نہ سنجیدگی۔ آدمی پوری یکسوئی کے ساتھ ایک ہڈی سے کشتی لڑ رہا ہوتا ہے اور حاضرین پوری دلچسپی سے یہ مقابلہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔


شاید اسی لیے ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ بعض کھانے پیٹ سے زیادہ موقع، ماحول اور تہذیب دیکھ کر کھانے چاہییں۔ آم بھی انہی میں سے ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی ہوئی نہیں کہ رس کہنیوں تک پہنچ گیا، اور پائے کی نلی نے اگر امتحان لے لیا تو دسترخوان سے زیادہ تماشہ بن جاتا ہے۔


البتہ انصاف کی بات یہ ہے کہ نلی کا اصل لطف بھی وہی جانتے ہیں جنہوں نے اس کے لیے محنت کی ہو۔ جو حضرات صرف شوربے پر اکتفا کرلیتے ہیں، وہ اس نعمت سے محروم رہتے ہیں جس کے لیے بعض لوگ اپنا سماجی وقار تک داؤ پر لگا دیتے ہیں۔


آخر میں صرف اتنی گزارش ہے کہ اگر کبھی کسی دعوت میں کوئی صاحب پوری توجہ، انہماک اور یکسوئی کے ساتھ نلی سے نبرد آزما نظر آئیں تو ان پر ہنسنے کے بجائے ان کی استقامت کی داد دیجیے۔ کیا خبر، اگلی دعوت میں امتحان آپ کا ہو... اور پوری محفل کی نظریں آپ کی نلی پر جمی ہوں!


(اٹھارہ محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے