65a854e0fbfe1600199c5c82

کمپیوٹر والی لڑکی

 کمپیوٹر والی لڑکی


استاذِ محترم حضرت مولانا انعام الرحمن تھانویؒ سے میں نے مضمون نگاری کے بہت سے آداب سیکھے۔ ان کی زندگی میں علم کے ساتھ سادگی، بے تکلفی بدرجۂ اتم موجود تھی۔


ایک دن انہوں نے اپنی جیب سے ایک نہایت بوسیدہ ڈائری نکالی۔ اس کے اوراق خستہ تھے، رنگت زرد پڑچکی تھی، سائز جیبی تھا اور کونے وقت کی گردش کے سامنے ہتھیار ڈال چکے تھے۔ فرمایا: "آؤ، میرے ساتھ۔"


ہم دفترِ مالیات پہنچے۔ حضرت نے ڈائری کھولی اور ایک نمبر پر انگلی رکھ کر فرمایا: "یہ کریمی الاحسانی صاحب کا نمبر ہے، ذرا ملا دو۔"


میں نے نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے ایک کھنکتی ہوئی نہایت شیریں، کمپیوٹرائزڈ نسوانی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی:


"ڈائل کیا گیا نمبر کرپیا جانچ لیں، یہ نمبر بدل گیا ہے۔"


میں نے عرض کیا: "حضرت! یہ کہہ رہا ہے کہ نمبر جانچ لیجیے۔"


فرمایا: "فون مجھے دو!"


جوں ہی آواز دوبارہ سنائی دی، حضرت پوری سنجیدگی سے بول اٹھے:


"اچھا، اچھا... سن میری بات! ارے، میری بات تو سن لے! کیسی گستاخ لڑکی ہے، بس اپنی ہی بولے جا رہی ہے۔ ذرا یہ تو بتا کہ نیا نمبر کیا ہے!"


ادھر وہی ریکارڈ شدہ پیغام برابر دہرایا جا رہا تھا اور اِدھر حضرت پوری دلجمعی سے اس "لڑکی" کو سمجھانے میں مصروف تھے۔


پھر میری طرف ذرا خفگی سے دیکھا اور فرمایا:


"عجیب بات ہے! یہ کسی کی سنتی ہی نہیں، بس اپنی کہے جا رہی ہے۔"


میں نے ہمت کرکے عرض کیا:

"حضرت! یہ کوئی لڑکی نہیں، کمپیوٹر بول رہا ہے۔"


فوراً فرمایا:


"اچھا! میں بوڑھا ضرور ہوگیا ہوں، مگر پاگل نہیں ہوا۔ کیا مجھے لڑکی کی آواز کی بھی پہچان نہیں؟"


پھر ایک لمحہ توقف کے بعد نہایت سنجیدگی سے فرمایا:


"اور! اتنا بڑا کمپیوٹر ان باریک تاروں میں آخر رکھا کہاں گیا ہے؟"


اس سوال پر میرے پاس خاموش رہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ میں خوب جانتا تھا کہ اب مزید وضاحت کرنا، حضرت کے غصے میں اضافے کا سبب بنے گا۔


آج بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ یہ صرف ٹیکنالوجی سے ناواقفیت کا قصہ نہیں، بلکہ اس نسل کی سادگی، بے ساختگی اور معصوم مزاج کی ایک دل آویز یادگار ہے، جس نے مشین کی آواز میں بھی ایک جیتی جاگتی انسان کی موجودگی محسوس کی۔


ناصرالدین مظاہری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے