65a854e0fbfe1600199c5c82

حضرت علامہ محمد عثمان غنی کی سادگی

 حضرت علامہ محمد عثمان غنی کی سادگی


نصر الباری شرحِ بخاری سے اہلِ علم خوب واقف ہیں۔ اس عظیم شرح کے مؤلف میرے نہایت قابلِ احترام استاذ، حضرت علامہ مولانا محمد عثمان غنی رحمہ اللہ تھے۔ وہ بڑے باہمت، باحوصلہ، جری، صاف گو، حق گو، حق نگر اور حق پسند بزرگ تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے شاگردِ رشید اور فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ کے مرید و مسترشد اور مظاہرعلوم وقف سہارنپور کے شیخ الحدیث تھے۔ بہترین مقرر، شاندار محدث، باکمال استاذ، بے مثال شارح اور دانا مرشد تھے۔ آپ کا تعلق بہار کے ضلع بیگوسرائے کے قصبہ چلمل سے تھا۔


اتنی بے شمار علمی اور روحانی خوبیوں کے باوجود دنیا اور اس کی رنگینیوں سے اس قدر بے نیاز تھے کہ جدید ٹیکنالوجی سے ان کا واسطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔


ایک مرتبہ حضرت کے حکم سے ہی میں نے حضرت کے لئے ایک سادہ موبائل فون خریدا، سم کارڈ ڈلوایا اور اس کے استعمال کا طریقہ بتانے لگا توحضرت نے فرمایا:


"مجھے تو صرف اتنا بتا دو کہ عمران کا نمبر کیسے ملایا جاتا ہے۔"


چنانچہ میں نے مولانا عمران صاحب کا نمبر محفوظ کردیا، کال کرنے کا طریقہ بھی بتادیا اور مطمئن ہوکر دفتر واپس آگیا۔

کچھ ہی دن گزرے تھے کہ حضرت کا پیغام آیا:


"فوراً میرے پاس آؤ!"


میں دوڑتا ہوا حاضر ہوا۔ حضرت نے موبائل میرے سامنے رکھتے ہوئے فرمایا:


"میں نے عمران کا نمبر ملانے کی ہر ممکن کوشش کرلی، مگر نمبر مل ہی نہیں رہا۔"


میں نے موبائل دیکھا، نمبر ڈائل کیا تو خودکار آواز آئی:


"یہ نمبر فی الحال بند ہے۔ ریچارج ہونے کے بعد سروس دوبارہ شروع ہوجائے گی۔"


میں نے عرض کیا:


"حضرت! بات یہ ہے کہ مولانا عمران صاحب کے سم کارڈ کا بیلنس ختم ہوگیا ہے، ریچارج ہونے کے بعد فون مل جائے گا۔"


حضرت نے نہایت سنجیدگی سے فرمایا:


"سم تو اتنا سا چھوٹا ہوتا ہے، اس میں پیسے کیسے سما سکتے ہیں؟"


میں نے اپنی بساط بھر سمجھانے کی کوشش کی۔ محسوس ہوا کہ کچھ نہ کچھ بات ان کی سمجھ میں آگئی۔


لیکن اس کے بعد حضرت نے جو سوال کیا، وہ آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ فرمایا:


"اچھا، میرے موبائل کو عمران کے موبائل کی خبر کیسے ہوگئی کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں؟"


میں نے عرض کیا:


"حضرت! یہ سارا نظام کمپیوٹر سے جڑا ہوا ہے، سب کچھ ایک دوسرے سے مربوط ہے، اسی لیے یہ معلومات فوراً مل جاتی ہیں۔"


حضرت خاموش ہوگئے، مگر ان کی معصومانہ حیرت آج تک یاد ہے۔


حضرت علامہ مولانا محمد عثمان غنی رحمہ اللہ کے ایسے بے شمار واقعات ہیں، جنہیں ان شاء اللہ وقتاً فوقتاً پیش کرتا رہوں گا۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اکابر دنیا اور اس کی مشغولیات سے کس قدر بے تعلق تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی خدمت میں صرف کردی۔ ان کی بیشتر تصانیف اور شروحات موم بتی کی مدھم روشنی میں لکھی گئیں، جو آج بھی اہلِ علم کے لیے روشنی کا مینار بنی ہوئی ہیں۔


(ناصرالدین مظاہری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے