65a854e0fbfe1600199c5c82

اوہو! دنیا یہاں تک پھیل چکی ہے؟

 اوہو! دنیا یہاں تک پھیل چکی ہے؟


بھائی عبداللہ مرحوم کا تعلق کاندھلہ سے تھا۔ ان کے والد، حضرت اللہ بندہ مرحوم، مظاہر علوم میں برسوں خدمت انجام دیتے رہے۔ اذان دینے کے ساتھ دفتر کی ذمہ داریاں بھی انہی کے سپرد تھیں۔ بعد میں ان کے دونوں صاحبزادے، بھائی عبداللہ اور بھائی عبیداللہ، بھی انہی خدمات پر مقرر ہوگئے اور دونوں بھائی پوری زندگی اسی ادارے کے وفادار خادم رہے۔


بھائی عبداللہ مرحوم نہایت عابد، زاہد، تلاوتِ قرآن کے شیدائی اور ہر کام وقت سے پہلے انجام دینے کے عادی تھے۔ دفتر والی مسجد کی صفائی، دفتر کا گیٹ کھولنا اور بند کرنا، تمام دفاتر میں جھاڑو دینا، اور خصوصاً جمعہ کے دن دفتر کے صحن میں بھاری بھرکم شامیانہ نصب کرنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ یہ شامیانہ پچاس کلو سے کم نہ ہوگا۔ اسے اوپر چڑھانا، چھلّوں میں باندھنا اور پوری طرح نصب کرنا بڑا محنت طلب اور خطرے کا کام تھا، مگر وہ یہ سب کام خاموشی، خوش دلی اور پابندیِ وقت کے ساتھ انجام دیتے تھے۔


حضرت اللہ بندہ مرحوم کو حضرت شیخ محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کی خدمت کا شرف بھی حاصل رہا تھا۔


خیر، بھائی عبداللہ مرحوم دل کے نہایت صاف، سادہ اور نیک انسان تھے۔ بچپن میں ایک مرتبہ اپنے والد کے ساتھ پہلی بار دہلی جانے کا اتفاق ہوا۔ جیسے ہی دہلی شہر شروع ہوا، بلند و بالا عمارتیں، چمچماتی سڑکیں، نئی نئی کاریں، بڑے بڑے ریلوے اسٹیشن، اور بس اڈے دیکھ کر وہ حیرت میں ڈوب گئے۔


کچھ دیر تک خاموشی سے یہ منظر دیکھتے رہے، پھر نہایت معصومیت اور سادگی کے ساتھ اپنے والد سے بولے:


"اوہو اباجی! دنیا یہاں تک پھیل چکی ہے؟"


اس ایک جملے میں ایک دیہاتی بچے کی معصوم حیرت، محدود دنیا کا تصور، اور نئی دنیا سے پہلی ملاقات کا پورا منظر سمٹ آیا ہے۔


(ناصرالدین مظاہری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے