65a854e0fbfe1600199c5c82

اذان کی صدائے بازگشت



 سنو سنو!!


اذان کی صدائے بازگشت


(ناصرالدین مظاہری)


اگر آپ کبھی دیوبند کیرانہ، گنگوہ، کاندھلہ، تھانہ بھون، جلال آباد، پورقاضی، چرتھاول، میرانپور، شاہ پور، سہان پور، کرت پور، نجیب آباد، جلال آباد، کندرکی، مرادآباد، بلاری، سنبھل، ٹانڈہ، سوار، شاہ آباد، رامپور، امروہہ، بچھراؤں، نوگانواں سادات، جویا، حسن پور، دھناورا، شاہی، شیش گڑھ، ٹانڈہ بادلی، بہیڑی، نوا ب گنج، ککرالہ، سہسوان، اسلام نگر، زیدپور، مئو ناتھ بھنجن، گھوسی، شاہ گنج، محمدآباد، محمود آباد، نانپارہ، لہرپور اور خیرآباد وغیرہ میں ہوں اور مغرب یا فجر کا وقت ہو تو ذرا فضائے بسیط میں اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ کی توحید اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صدائے بازگشت سنئے، واقعی روح تازہ ہوجاتی ہے۔ زبان اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور کبریائی کے نغمے گنگنانے لگتی ہے اور دماغ پر ایک عجیب سی سکینت نازل ہوتی محسوس ہوتی ہے۔


میں نے بے شک مسجدوں کا شہر ڈھاکہ نہیں دیکھا، مسلمانوں کا شہر کراچی نہیں دیکھا، اسلامی ممالک ملیشیا اور انڈونیشیا نہیں دیکھے، لیکن ہندوستان میں جن قصبوں اور شہروں کو دیکھا ہے، وہ مقامات بطور خاص اپنی اذانوں کی دلکشی اور نغمگی کی وجہ سے میرے دل میں بس گئے اور میری نگاہوں میں سما گئے۔


قصبات اور شہر اور بھی بہت ہیں، مگر یہاں تمام مقامات کا تذکرہ میرا مقصود نہیں۔ ہاں، صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جو مناظر آپ کو اپنے یہاں سینکڑوں، ہزاروں مقامات پر نظر نواز ہوجائیں گے، وہ مناظر شاید ہی کسی عرب ریاست میں اس کثرت کے ساتھ نظر آئیں۔


کیا یہ دولت ہمیں اپنے رب کا شکر ادا کرنے پر نہیں اکساتی؟

کیا ہماری زبانوں پر اس نعمتِ لازوال اور ثروتِ بے مثال پر کلماتِ شکر جاری نہیں ہونے چاہئیں؟

یہ صرف اذان کی آواز نہیں، یہ ہمارے ایمان کی صدا ہے؛ یہ ہمارے شہروں کی پہچان، ہماری بستیوں کی روح اور ہمارے گھروں کے آنگن میں اترنے والی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر شاید ہمیں اسی وقت زیادہ محسوس ہوگی جب ہم اپنی حد اور سرحد سے نکل کر کسی ایسی جگہ پہنچیں جہاں مساجد تلاش کرنی پڑیں،جہاں پیشانی سجدوں کو ترس جائے، جہاں کان اللہ اکبر کی صدائیں سننے کے لئے بے کل و بے چین ہوجائیں۔


(بائیس ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری شنبہ)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے