سنو! سنو!!
ہوشیار، خبردار!
(ناصرالدین مظاہری)
ذرا سا لالچ کبھی کبھی ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ دھوکہ باز ہر جگہ موجود ہیں۔
عمرہ، ٹور، زیارات، کاروبار، غیر معمولی منافع کے لالچ اور طرح طرح کی دلکش آفرز اکثر کسی بڑے فراڈ کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ جس کسی کی رقم ڈوبی، زیادہ تر لالچ ہی میں ڈوبی۔ سہارنپور اس وقت عمرہ فراڈ کے سبب سرخیوں میں ہے۔ جسے دیکھیے وہ متاثر ہے اور شکوہ کناں ہے۔ آخر کس پر اعتبار کیا جائے؟ ہر شخص بظاہر مقطع چقطع، شرع و شریعت کا پابند اور گفتار کا سچا اور اچھا معلوم ہوتا ہے۔ ریشِ دراز کی سفیدی اور خمیدگی میں الجھنا تاریخ رہی ہے، زلفِ درازسے بہکنا معمول رہا ہے، پیراہنِ دراز میں پھنسنا عادت ہوگئی ہے اور کلاہِ دراز سے دھوکا کھانا ہردور میں آسان رہا ہے، اور فراڈی اسی کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
لکھنؤ کے ایک مکتب کا تازہ واقعہ نہایت قابلِ عبرت ہے۔
ایک اجنبی آیا اور کہنے لگا: "میں کویت میں کام کرتا ہوں، یہاں میرا گھر ہے۔ میرے یہاں عقیقہ ہوا ہے، بچوں کی دعوت کرنی ہے۔ ایک بچہ میرے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ کھانا بھجوانے میں مدد کرسکے۔"
سادہ لوحی میں ایک بچہ اس کے ساتھ بھیج دیا گیا۔ کافی دیر گزرنے کے باوجود جب بچہ مکتب واپس نہ پہنچا تو انتظامیہ پریشان ہوگئی اور اس کی تلاش شروع کی۔ کچھ دیر بعد وہ بچہ نشے کی سی حالت میں لڑکھڑاتا ہوا واپس آیا۔ اس نے بتایا کہ اس شخص نے ایک رومال سونگھا کر اسے بے ہوش کردیا، جیب میں موجود رقم نکال لی اور اسے وہیں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ جب ہوش آیا تو وہ پیدل واپس مکتب پہنچا۔
اس قسم کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔ عرصہ پہلے سہارنپور کے ایک محلے میں ایک شخص تمام مساجد کے ائمہ سے یہ کہہ کر ٹفن لے گیا کہ میں آپ سب کے لیے کھانا بھجوا دوں گا۔ امام صاحبان چونکہ اس معمول کے عادی تھے، اس لیے کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ سب نے اپنے ٹفن اس کے حوالے کر دیے، مگر وہ شخص پھر کبھی واپس نہ آیا۔
خدارا! اپنے بچوں کو کسی اجنبی کے ساتھ ہرگز نہ بھیجیں۔ قرآن خوانی کے لیے بھی بچوں کو باہر نہ بھیجیں۔ جو کچھ پڑھوانا ہو یا ایصالِ ثواب کرانا ہو، اپنے ہی مدرسے کے ذریعے کرائیں۔ بچے ایک امانت ہیں، آپ ان کے امین ہیں۔ مدرسے کی حدود میں وہ محفوظ و مامون ہیں، اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔
ہمارے حضرت مولانا محمد سعیدیؒ اس طرح بچوں کو کہیں بھیجنے کے سخت خلاف تھے۔ حتیٰ کہ شادیوں کا بچا ہوا کھانا لینے سے بھی منع فرمایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا:
"مری بھیڑ خواجہ کے نام!"
فرماتے تھے: "یہ اخلاص نہیں، بلکہ ذہنی افلاس اور مجبوری ہے۔"
ماہِ رمضان میں چندہ جمع کرنے والے بہت سے سفراء بھی ایسے حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض دھوکہ باز چندہ دینے کے بہانے سفیر کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، پھر اس سے نقدی، موبائل اور دیگر سامان لوٹ لیتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی اجنبی کے ساتھ کسی انجان جگہ پر اکیلے ہرگز نہ جائیں۔
میں تو کرائے کی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس کا نمبر اور تصویر کسی معتمد شخص کو بھیج دیتا ہوں، بلکہ ڈرائیور کو بھی صاف بتا دیتا ہوں کہ یہ سب میں اپنی حفاظت کے پیشِ نظر کر رہا ہوں۔ اگر وہ راضی ہو تو بہتر، ورنہ گاڑیوں کی کوئی کمی نہیں۔
سفراء کے ساتھ آن لائن فراڈ بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ اس لیے ہر وقت چوکنا رہیں اور دھوکہ بازوں سے ہوشیار رہیں۔ بعض واقعات میں تو لوگوں کو بلا کر قید کر لیا گیا، مہینوں مفت مزدوری کرائی گئی، اور ان کا موبائل، نقدی اور سامان سب چھین لیا گیا۔
یہ دور غیر معمولی احتیاط کا ہے۔ ہر شخص پر فوراً اعتماد نہ کریں۔ عبا و قبا، جبہ و دستار اور مذہبی وضع قطع دیکھ کر بھی آنکھ بند کرکے یقین نہ کرلیں۔ شیطان، انبیائے کرام علیہم السلام کے سوا، ہر بھیس اختیار کرسکتا ہے۔
اب تو بے ہوش کرکے جسمانی اعضا چرانے کے واقعات بھی بکثرت سامنے آنے لگے ہیں۔
(چودہ صفر المظفر چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے