سنو سنو!!
کتاب کا ہدیہ
(ناصرالدین مظاہری)
" یہ دس نسخے ابھی ابھی حاصل ہوئے ہیں، جناب مولانا ضیاء الحق خیرآبادی صاحب، عرف حاجی بابو، کے توسط سے۔ ارادہ ہے کہ انہیں باذوق علماء کرام کے درمیان ہدیۃ تقسیم کیا جائے۔
دعاء فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب سے کما حقہ استفادہ کی توفیق عطا فرمائے، اور اسے دوسروں کے لیے بھی نفع بخش بنانے کی توفیق نصیب فرمائے" ۔
یہ چند سطریں مفتی محمد عظمت ثاقبی، کشی نگر یوپی، نے میری تازہ ترین کتاب ’’انوار حرم‘‘ کے تعلق سے لکھی ہیں۔ چند سطروں میں انہوں نے ایک نہایت خوب صورت علمی ذوق کی ترجمانی کردی ہے۔
ہدیہ دینا ہماری دینی و معاشرتی روایت کا حسین حصہ ہے۔ کسی کو کھانا کھلا دینا، پانی پلا دینا، ضرورت مند کی مالی مدد کردینا، نقد رقم ہدیہ کرنا یا کسی کے لیے دل سے دعا کرنا، سب باعث اجر ہیں؛ لیکن اگر سامنے والا صاحب ذوق ہو تو اسے کتاب ہدیہ کرنا بھی ایک نہایت عمدہ انتخاب ہے۔
کھانا ختم ہوجاتا ہے، پانی پی لیا جاتا ہے، نقد رقم خرچ ہوجاتی ہے؛ مگر اچھی کتاب مدتوں ساتھ رہتی ہے۔ وہ محض کاغذ کے اوراق نہیں، کسی مصنف کے مطالعے، تجربے اور فکر کا نچوڑ ہوتی ہے۔ کبھی ایک کتاب کسی شخص کی زندگی بدل دیتی ہے، کبھی کسی طالب علم کو تحقیق کا نیا رخ دیتی ہے اور کبھی ایک نسل کے بعد دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔
اسی لیے باذوق آدمی کو کتاب دینا دراصل علم، فکر اور تجربے کا ہدیہ دینا ہے۔
ہمارے اکابر کے یہاں بھی کتابیں بطور ہدیہ دینے لینے کی روایت رہی ہے۔ مصنفین اپنی تصانیف اہل علم کی خدمت میں پیش کرتے، علماء انہیں اپنے کتب خانوں میں محفوظ کرتے اور یوں ایک کتاب ایک علمی حلقے سے دوسرے حلقے تک پہنچتی رہتی۔ دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور دوسرے قدیم علمی مراکز کے کتب خانوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں اہل علم کی جانب سے ہدیہ کی گئی کتابوں کا بھی بڑا سرمایہ ملتا ہے۔
حکیم الامت حضرت تھانوی نے اپنی نصف کتابیں مع الماریاں مظاہرعلوم وقف سہارنپور کو وقف کردی تھیں۔ حضرت مولانا محمد اسعداللہ ناظم مظاہرعلوم وقف سہارنپور نے تو شاید ساری ہی کتابیں ادارہ کو دیدی تھیں۔بے شمار علمی شخصیات ہیں جنھوں نے اپنے ذاتی مکتبے مظاہرعلوم کے حوالہ کردئے۔
کتاب کی یہی تو خوبی ہے کہ اس کا فائدہ صرف پہلے قاری تک محدود نہیں رہتا۔ ایک شخص پڑھتا ہے، دوسرا اس سے استفادہ کرتا ہے، کوئی اس سے اقتباس لیتا ہے، کوئی اپنے شاگردوں کو پڑھاتا ہے؛ اور یوں ایک ہدیہ کئی ہاتھوں سے گزرتا ہوا خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے میں کتاب ہدیہ کرنے کی روایت کو فروغ دینا چاہیے۔ شادی ہو، کسی طالب علم کی کامیابی ہو، کسی عالم کی خدمت میں حاضری ہو، کسی دوست کی علمی دلچسپی کا موقع ہو، باذوق لوگوں کے لیے کتاب سے بہتر ہدیہ تلاش کرنا مشکل ہے۔
مٹھائی کھائی جائے گی، پھول مرجھا جائیں گے، نقد رقم خرچ ہوجائے گی؛ مگر اچھی کتاب اگر کسی صاحب ذوق کے ہاتھ پہنچ گئی تو ممکن ہے برسوں اس کے کتب خانے میں محفوظ رہے اور اس سے نسلیں فائدہ اٹھاتی رہیں۔
کتاب صرف پڑھی نہیں جاتی، آگے بھی بڑھائی جاتی ہے۔
اسی لیے کبھی کبھی نقد کے بجائے کتاب دیجیے، رسمی تحفے کے بجائے کتاب دیجیے، کسی باذوق انسان کے ہاتھ میں ایک اچھی کتاب رکھ دیجیے۔ کیا خبر، آپ کا دیا ہوا وہ ایک نسخہ کسی کی زندگی میں علم کی روشنی بن جائے، اور آپ کے لیے دیرپا اجر کا ذریعہ ثابت ہو۔
کتاب کا ہدیہ، دراصل علم کا ہدیہ ہے۔
(انتیس ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے