سنوسنو!!
قصہ ایک بریلوی خاندان کا
(ناصرالدین مظاہری)
تقریباً بیس سال پہلے میری والدہ مرحومہ کی آنکھوں میں موتیا کی شکایت ہوئی۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کا مشورہ دیا۔ والدہ نے فون پر خبر دی تو طے پایا کہ آپریشن بہرائچ شہر کے سیتاپور ہسپتال میں ڈاکٹر منوہر سے کرایا جائے۔
میں نے والدہ کو تسلی دی اور کہا:
’’آپ بالکل فکر نہ کریں، میں گھر آرہا ہوں۔‘‘
والدہ کا آپریشن ہوا۔ ان کی چارپائی کے بغل میں ایک ادھیڑ عمر مقامی خاتون کا بھی آپریشن ہوا تھا۔ وہ بھی اپنے بستر پر آرام فرما رہی تھیں۔ پہلی ملاقات ہی میں جانے کیوں ان سے ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوئی۔ میں نے بے تکلفی سے کہا:
’’میں اپنی والدہ کا بیٹا ہوں، آپ مجھے اپنا بھائی سمجھیں۔ جس چیز کی ضرورت ہو، بلا تکلف مجھ سے کہیے، ان شاء اللہ آپ کو کوئی دقت نہیں ہوگی۔‘‘
میرے ان مخلصانہ جملوں نے ان کے دل میں بھی جگہ بنا لی۔ دوپہر کو ان کے بیٹے کھانا لے کر آئے تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا:
’’اب میری اس ماں اور میرے اس بھائی کے لیے بھی کھانا اور ناشتہ لایا کرو۔‘‘
بس پھر کیا تھا! وہ خاتون واقعی بہن بن گئیں اور میں واقعی بھائی۔
صبح سے شام تک میرے اور والدہ کے کھانے پینے کا انتظام انہوں نے اپنے ذمے لے لیا۔ کبھی کہتیں: ’’یہ ہسپتال ہے، یہاں من پسند کھانا کہاں ملے گا؟ دل چاہے تو میرے بچوں کے ساتھ میرے گھر چلے جایا کرو۔‘‘
چنانچہ ایک آدھ مرتبہ ان کے گھر بھی جانا ہوا۔ ان کے بچے موٹر سائیکل کی کسی ایجنسی کے مالک تھے اور ان کا گھر بہرائچ شہر میں مدرسہ نورالعلوم ناظرپورہ کے بالکل قریب تھا۔
چند دن بعد میری والدہ کو ان سے پہلے ہسپتال سے چھٹی مل گئی اور میں والدہ کے ساتھ اپنے گھر واپس آگیا۔ مگر وہ باجی کہاں ماننے والی تھیں! ایک دو ماہ بعد فون آجاتا:
’’تم فون کیوں نہیں کرتے؟‘‘
پھر ناراضی:
’’کم از کم سال دو سال میں ایک دن کے لیے ہی آجایا کرو۔‘‘
میں اپنی مصروفیات میں ایسا الجھا کہ ان کی یہ خواہش پوری نہ کرسکا۔ اس دوران ان کے گھر میں بعض بچوں کی شادیاں بھی ہوئیں، مجھے دعوت بھی دی گئی، مگر عدیم الفرصتی آڑے آتی رہی۔
اب تک کی داستان میں شاید آپ کو کوئی خاص بات محسوس نہ ہوئی ہو۔ ایک مریضہ، دوسری مریضہ کے بیٹے سے مانوس ہوگئی، بیٹے نے بہن سمجھ لیا، بہن نے بھائی سمجھ لیا، کھانے کھلائے، گھر بلایا، فون پر ڈانٹا، شادیوں میں بلایا۔۔۔ یہ سب تو معمول کی انسانی محبت ہے۔
مگر اصل قصہ تو اب شروع ہوتا ہے!
باجی اور ان کا پورا خاندان بریلوی تھا، اور میں دیوبندی!
اتفاق دیکھیے کہ ان دنوں میری ٹوپی بھی ایسی تھی جسے دیکھ کر میری دیوبندیت باآسانی پہچانی جاسکتی تھی۔ اگرچہ وہ ٹوپی اصلاً ’’دیوبندی‘‘ نہیں بلکہ رام پوری ٹوپی تھی، لیکن اس زمانے میں دیوبندی حضرات میں اس کا چلن کچھ ایسا تھا کہ ٹوپی دیکھتے ہی مسلک بھی پہچان لیا جاتا تھا۔ اب زمانہ بدلا تو پانچ کلی والی ٹوپی نے یہ خدمت سنبھال لی ہے!
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بہن نے کبھی میری ٹوپی نہیں دیکھی، میری انسانیت دیکھی۔
اس نے یہ نہیں پوچھا کہ تم کس مسلک کے ہو؟
یہ نہیں پوچھا کہ تمہارے اکابر کون ہیں؟
یہ نہیں پوچھا کہ تم کس مدرسے سے پڑھے ہو؟
یہ نہیں پوچھا کہ تم کس بزرگ کو مانتے ہو؟
انھوں نے صرف یہ دیکھا کہ ایک شخص اپنی بیمار ماں کو لے کر دور دراز سے آیا ہے اور شاید اسے بھی ایک ماں، ایک بہن اور ایک بھائی کی ضرورت ہے۔
اور میں نے بھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ بریلوی ہیں۔ میں نے صرف یہ دیکھا کہ ایک اجنبی عورت نے میری ماں کو اپنی ماں سمجھا اور مجھے اپنا بھائی!
ہم نے ایک دوسرے کے عقائد پر بحث نہیں کی، مگر ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوگئے۔
نہ وہ اپنے عقیدے سے دست بردار ہوئیں، نہ میں نے اپنے مسلک سے۔ نہ انہوں نے مجھے بریلوی بنانے کی کوشش کی، نہ میں نے انہیں دیوبندی بنانے کی کوئی مہم چلائی۔ ہم دونوں اپنی اپنی جگہ رہے، مگر انسانیت کے رشتے میں جڑ گئے۔
اس واقعے سے میری مراد یہ ہرگز نہیں کہ مسلکی اختلافات کی کوئی حقیقت نہیں یا حق و باطل کی تمیز ختم کردی جائے۔ علمی مسائل اپنی جگہ ہیں، عقائد اپنی جگہ، دلائل اپنی جگہ۔ مگر اختلاف کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان، انسان نہ رہے۔
ہر بریلوی متشدد نہیں ہوتا اور ہر دیوبندی دودھ کا دھلا بھی نہیں ہوتا۔ مسلک انسان کو شناخت دیتا ہے، لیکن اخلاق انسان کی پہچان بناتے ہیں۔
کبھی ایک شخص کی ٹوپی دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کرنے کے بجائے اس کا برتاؤ دیکھ لیجیے۔ کبھی اس کے مدرسے کا نام پوچھنے کے بجائے اس کا دل دیکھ لیجیے۔ کبھی یہ جاننے سے پہلے کہ وہ کس مسلک سے ہے، یہ جان لیجیے کہ وہ مصیبت کے وقت آپ کے کام آتا ہے یا نہیں۔
مجھے آج بھی وہ باجی یاد ہیں۔
نہ جانے وہ کہاں ہوں گی، نہ جانے ان کا فون نمبر کہاں گم ہوگیا، نہ جانے ان کے بچوں کی ایجنسی اب کس حال میں ہوگی مگر ہسپتال کے اس بستر کے کنارے ایک ’’بریلوی بہن‘‘ نے ایک ’’دیوبندی بھائی‘‘ کو جو محبت دی تھی، وہ آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہے۔
اور شاید یہی اس قصے کا سب سے بڑا سبق ہے:
(دو ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے