65a854e0fbfe1600199c5c82

ابھی بھی وقت ہے



 سنو سنو!!


ابھی بھی وقت ہے


(ناصرالدین مظاہری)


کاشی پور روڈ پر بس کے انتظار میں کھڑا تھا ، معلوم ہوا کہ نجیب آباد کی بسوں کو بجنور سے گزارا جارہا ہے کیونکہ کانوڑیوں کو سہولت فراہم کرنی ہے چاہے عام پبلک کا کتنا ہی نقصان ہوجایے۔


ایک کار والے کو ہاتھ کا اشارہ کیا ، کار رک گئی، پوچھا گیا کہاں جائیں گے ؟ جواب دیا نجیب آباد۔ کہا گیا کہ دھام پور تک چلنا ہو تو چلئے۔

میں کار میں سوار ہوگیا،گفتگو سے پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ میرا محسن کون ہے ، ہندو ہے یا مسلم ہے جو بھی ہے میرے لئے فرشتۂ رحمت بن کر آیا ہے۔

کاروالے نے مجھ سے میرے اگلے سفر کی تفصیل پوچھی میں نے بتادی۔ کہنے لگا کہ آپ نیٹ سے اپنی ٹرین دیکھ لیں کہاں پہنچی ہے؟

میں نے تفصیل بتائی تو کہا کہ جانا تو مجھے دھام پور شہر میں ہی ہے لیکن میں آپ کو دھام پور کے آگے  نگینہ روڈ پر اتاروں گا تاکہ کوئی نہ کوئی گاڑی مل جائے۔

سفر کے دوران وہ برسراقتدار حکومت کو کوستے رہے ۔ میں نے کہا کہ حکومت خراب نہیں ہوتی پبلک جیسی ہوتی ہے حکومت ویسی ہی بنتی ہے۔اس کو آپ یوں سمجھیں کہ اگر والدین اچھے ہوں ، تربیت اچھی ہو تو اولاد اچھی ہی ہوتی ہے ورنہ خراب ہوتی ہے۔ جیسے پودا یا بیج اچھا ہوتو درخت اور فصل بھی اچھی ہی ہوتی ہے پھر اس فصل کو خراب موسم ، آوارہ جانوروں سے بچانا بھی ہوتا ہے ۔ حکومت کا حال بھی ایسا ہی ہے۔ میں نے کہا کہ عربی کی ایک کہاوت ہے کہ مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔جب کہ یہاں بار بار ڈسے جارہے ہیں مگر عقل نہیں آتی۔

کہنے لگا کہ کانوڑیوں نے سارا کاروبار چوپٹ کردیا ہے میں نے کہا کہ کاروبار کانوڑیوں نے چوپٹ نہیں کیا یہ کام بھی حکومت کا ہے ۔  حکومت پبلک کو تعلیم یافتہ اور دولت مند دیکھنا نہیں چاہتی کیونکہ پڑھ لکھ کر انسان غلام بننا پسند نہیں کرے گا اور حکمرانوں کو غلاموں کی ضرورت ہے۔اسی لئے کانوڑ یاترا کو زیادہ سے زیادہ سہولت پہنچائی جارہی ہے تاکہ لوگوں کو کمانے اور تجارت سے روکا جاسکے۔ میں سہارنپور رہتا ہوں وہاں ایک عرصہ تک کاروبار بالکل ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے، ٹرانسپورٹ بالکل بند کردیا جاتا ہے، بسیں بھی جام کردی جاتی ہیں۔سڑکیں کانوڑیوں کی من مانی کے لئے کھول دی جاتی ہیں اب تو لڑکیاں بھی کانوڑ میں نکل کر ڈانس کرتے ہوئے ریل بناتے ہوئے جانے لگی ہیں مجھے لگتا ہے یہ کام ان کے مذہب میں بھی غلط ہی ہوگا۔جب کہ شراب بھی پی رہے ہیں سوچیں شراب پی کر کون عبادت کرتا ہے اور کس کی عبادت قبول ہوگی۔

یہ باتیں اس انداز میں کہی گئیں کہ اگر ہندو ہو تو مسلم ہو تو برا نہ لگے اور مثبت پیغام بھی پہنچ جائے۔


میں نے مزید کہا کہ آپ دیکھئے کہ حج کے موقع پر لاکھوں کا اور کاوڑ کے موقع پر کروڑوں کا ہجوم جمع ہوجاتا ہے مگر پھر بھی پورے سال مسجدیں خالی رہتی ہیں مندر بھی خالی رہتے ہیں۔


عبادت یعنی پرارتھنا ہر روز بلکہ اسلام میں تو دن میں پانچ بار نماز ہی فرض ہے اس کے علاؤہ بھی بہت سے کام ہیں جو کرنے ضروری ہیں مگر ہر جگہ کوتاہی ہورہی ہے۔

خیر میری منزل آگئی۔ پیسے دینے لگا تو منع کردیا پھر بھی پیسے دئے اور اب میں نے پوچھا کہ نام تو بتاہی دو۔ جواب ملا: رام کمار۔


(دو ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے