65a854e0fbfe1600199c5c82

ٹانگ مت اڑائیں





 سنو سنو!!
 ٹانگ مت اڑائیں


(ناصرالدین مظاہری)


فارسی کے عظیم شاعر حافظ شیرازی کا مشہور شعر ہے:


"رموز مصلحت ملک، خسروان دانند"


یعنی ملک و سلطنت کی مصلحتوں اور ان کے رموز و اسرار کو اس کے حکمران ہی بہتر جانتے ہیں۔ حافظ کا یہ شعر انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہر معاملے کی اپنی ایک اندرونی دنیا، اپنی مصلحتیں اور ایسے پہلو ہوتے ہیں جن سے باہر کا آدمی پوری طرح واقف نہیں ہوسکتا۔


سلطنت ہی نہیں، ایک شہر، ادارہ، مدرسہ، خاندان بلکہ ایک گھر بھی اپنے دائرے میں ایک مستقل دنیا ہوتا ہے۔ اس کے اندرونی حالات، مشکلات، ترجیحات، مجبوریوں اور مصلحتوں سے سب سے زیادہ واقف وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔


لیکن ہماری عجیب عادت ہے کہ ہم دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے ہیں۔ ہر اختلاف میں اپنی رائے دینا، ہر فیصلے پر تبصرہ کرنا اور ہر معاملے میں اپنے وجود کو ثابت کرنا گویا ہماری ضرورت بن چکی ہے۔


 معاملے سے کوئی تعلق نہ ہو تو بھی تعلق پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے۔


بات خاندان کی ہو، مدرسے کی، ادارے کی، سوسائٹی کی یا کسی فرد کی ذاتی زندگی کی؛ جہاں دو آدمی بات کررہے ہوں، تیسرے صاحب پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں کوئی مسئلہ ہو، مفت کے مشورہ دینے والے پیدا ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ جہاں مشورہ مانگا ہی نہ گیا ہو وہاں بھی بعض حضرات خود کو مشیرِ خاص سمجھ کر حاضر ہوجاتے ہیں۔


بعض لوگ کسی معاملے میں اس طرح دخیل ہوجاتے ہیں کہ دیکھنے والا سمجھتا ہے شاید یہ اس کے وارث یا مورث ہیں، حالاں کہ تحقیق پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کا اس معاملے سے دور کا بھی تعلق نہیں، محض تماش بین ہیں!

مزید عجیب بات یہ ہے کہ تماش بین کو اپنے تماش بین ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ وہ اپنی مداخلت کو خیر خواہی، کرید کو ہمدردی، رائے کو بصیرت اور بے موقع گفتگو کو اصلاح کا نام دیتا ہے۔


حالاں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جامع اصول عطا فرمایا:


مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ۔


"آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہیں۔"


یعنی ہر وہ بات جس کا ہماری ذمہ داری سے تعلق نہیں، ہر وہ معاملہ جس میں ہماری ضرورت نہیں، ہر وہ گفتگو جس کا کوئی فائدہ نہیں، ہر وہ راز جسے جاننا ہمارا حق نہیں اور ہر وہ اختلاف جس میں فریق بننا ضروری نہیں؛ اس سے دور رہنا بھی حسنِ اسلام ہے۔


آج ہمارے معاشرے کا المیہ یہی ہے کہ ہم اپنے معاملات سے زیادہ دوسروں کے معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اپنے گھر کا حساب نہیں، دوسرے کے گھر کی خبر چاہیے۔ اپنے ادارے کی اصلاح نہیں ہوپاتی اور دوسرے ادارے کی خامیاں تلاش کرتے ہیں۔ اپنے مدرسے کے طلبہ، اساتذہ اور نظام کی فکر نہیں، دوسرے مدرسے کے انتظامی فیصلوں پر تبصرہ عادت بنالیتے ہیں۔ اپنی زبان پر قابو نہیں، مگر دوسروں کی زبان کا محاسبہ ضروری ہے۔


سوشل میڈیا نے اس مرض کو مائیک، منبر اور عالمی شہرت تینوں عطا کردی ہیں۔ جس شخص کو کسی معاملے کی الف بے بھی معلوم نہیں، وہ بھی اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ جس نے پوری حقیقت نہیں دیکھی، وہ تجزیہ کار بن جاتا ہے؛ جسے اندرونی حالات کا علم نہیں، وہ تبصرہ نگار بن جاتا ہے؛ اور جس سے کسی نے رائے نہیں مانگی، وہ اپنی رائے کو فرضِ عین سمجھ کر پیش کردیتا ہے۔


قرآن کا اصول ہے:

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ۔

"جس بات کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑو۔"


بے علم مداخلت سے پہلے علم ضروری ہے اور رائے دینے سے پہلے حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔ ہر معاملے میں خاموشی کمزوری نہیں اور ہر معاملے میں بولنا دانائی نہیں۔ کبھی خاموش رہنے والا زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے اور کبھی بولنے والا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ اسے خاموش رہنے کی ضرورت کا بھی علم نہیں!


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ۔

"جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے؛ کیونکہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و اضطراب ہے۔"


جس بات کی حقیقت معلوم نہ ہو، جس خبر کی صحت مشتبہ ہو، جس معاملے کے پس پردہ حالات سے واقف نہ ہوں اور جس گفتگو کے بارے میں اطمینان نہ ہو، اس کے پیچھے پڑنے اور اسے آگے بڑھانے کے بجائے رک جانا بہتر ہے۔


خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں ہر سنی ہوئی بات قابلِ اشاعت نہیں، ہر مشکوک بات قابلِ تصدیق نہیں اور ہر معاملہ قابلِ مداخلت نہیں۔


کبھی کسی معاملے سے الگ رہنا ہی انسان کے دین، عزت، تعلقات اور سکون کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ کا مختصر مگر معنی خیز جملہ ہے:


"بیٹا! دخیل مت بنو۔"


کیا جامع نصیحت ہے! ہر جگہ پہنچنا ضروری نہیں، ہر راز جاننا ضروری نہیں، ہر اختلاف میں فریق بننا ضروری نہیں، ہر فیصلے پر تبصرہ ضروری نہیں اور ہر معاملے میں اپنا وجود ثابت کرنا ضروری نہیں۔ جس معاملے کی ذمہ داری تمہارے سر نہیں، اس کا بوجھ اپنی زبان پر بھی مت اٹھاؤ۔


ہر ملک کے کچھ راز ہوتے ہیں، ہر ادارے کی کچھ مجبوریاں، ہر خاندان کے کچھ داخلی حالات اور ہر ذمہ دار کے پاس کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جو ہر شخص کے سامنے نہیں رکھی جاسکتیں۔ لہٰذا ہر خاموشی کو کمزوری، ہر فیصلے کو حماقت، ہر اختلاف کو خیانت اور ہر انتظامی اقدام کو بدنیتی سمجھ لینا انصاف نہیں۔

کبھی باہر کھڑے آدمی کو جو بات بے عقلی دکھائی دیتی ہے، اندر بیٹھا ذمہ دار اسی بات کو مجبوری، مصلحت یا ضرورت کی بنا پر اختیار کررہا ہوتا ہے۔


ہمارے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی فرمایا کرتے تھے:


"بزرگوں کی الٹی بھی سیدھی ہوتی ہے۔"


یعنی جو چیز ہمیں بظاہر خلافِ عقل و قیاس دکھائی دیتی ہے، وہ کبھی قرینِ مصلحت ہوتی ہے۔ جسے ہم کڑوی دوا سمجھتے ہیں، وہی کبھی کسی جان لیوا بیماری کا تریاق بن جاتی ہے۔


دانائی یہ نہیں کہ ہم ہر دروازے پر دستک دیں؛ دانائی یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہو کون سا دروازہ ہمارے لیے کھلا ہے اور کون سا دوسروں کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔


اسی طرح ملکوں، اداروں، سوسائٹیوں اور خاندانوں کو بھی ہر بات ہر شخص کے سامنے نہیں لانی چاہیے۔ ہر خیر خواہ پہچانا جاسکتا ہے، مگر ہر بدخواہ نہیں۔ بعض بدخواہ بظاہر ہم پیالہ و ہم نوالہ نظر آتے ہیں، مگر موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔


اس لیے ہر حقیقت افشا کرنا دانش مندی نہیں، ہر راز عام کرنا خیر خواہی نہیں اور ہر معاملے میں لوگوں کو شریک کرنا حسنِ تدبیر نہیں۔ بعض رازوں کی حفاظت اداروں کو بچاتی ہے، بعض خاموشیاں خاندانوں کو جوڑے رکھتی ہیں اور بعض مصلحتیں ایسے فتنوں کے دروازے بند کردیتی ہیں جن کا اندازہ باہر کھڑے شخص کو نہیں ہوسکتا۔


پس دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے پہلے ایک بار اپنے گریبان میں جھانک لیجیے۔ ممکن ہے جس معاملے کو آپ اصلاح کا میدان سمجھ رہے ہوں، وہ کسی دوسرے کی ذمہ داری کا دائرہ ہو، اور جس راز کو جاننے کے لیے آپ بے چین ہیں، اس کا جاننا آپ کے لیے ضروری ہی نہ ہو۔


ہر جگہ پہنچ جانا کمال نہیں، بعض جگہ نہ پہنچنا بھی کمال ہے۔ ہر بات جان لینا دانائی نہیں، بعض باتوں سے بے نیاز رہنا بھی دانائی ہے۔ ہر معاملے میں بولنا بصیرت نہیں، بعض مواقع پر خاموش رہ جانا بصیرت ہے۔ ہر خبر آگے بڑھانا خدمت نہیں، بعض خبروں کو وہیں روک دینا بھی امانت ہے۔


جو معاملہ آپ کا نہیں، اسے اپنا نہ بنائیں؛ جو راز آپ کے سپرد نہیں، اسے تلاش نہ کریں؛ جس فیصلے کی ذمہ داری آپ پر نہیں، اس پر فتوے نہ دیں؛ جس بات کا علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑیں؛ اور جس دروازے پر آپ کو بلایا نہیں گیا، وہاں دستک دینے کو اپنا حق نہ سمجھیں۔


کیونکہ ہر معاملے کے کچھ اسرار و رموز ہوتے ہیں، ہر ذمہ دار کے کچھ راز ہوتے ہیں اور ہر مصلحت کا علم ہر شخص کو نہیں ہوتا۔


(نو ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے