65a854e0fbfe1600199c5c82

زندہ کتابیں




سنو سنو!!


زندہ کتابیں


(ناصرالدین مظاہری)


بعض شخصیات ایسی بھی گزری ہیں اور ہنوز موجود ہیں جو صاحبِ قلم نہیں، قرطاس و قلم سے ان کا یارانہ نہیں، تقریر اور اسٹیج کے ماہر نہیں، درس گاہ اور مسندِ تدریس کے شناور نہیں، پھر بھی اپنی بافیض ذات میں کسی کتاب سے بڑھ کر ہیں۔


ان کی روک ٹوک، ان کا اندازِ تربیت، ان کا اسلوبِ گفتگو، ان کا اصلاحی مزاج اور منکرات پر ان کی نکیر۔ان صفات و عادات سے کتنے لوگوں نے اپنی سمت درست کی، کتنے لوگوں کو توبہ کی توفیق ملی، بے شمار لوگوں کو بے شمار روگوں سے نجات ملی، ایمان کو تازگی اور یقین کو پختگی نصیب ہوئی، اللہ تعالیٰ سے قرب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں اضافہ اور امراض روحانی سے شفا ملی۔


یہ وہ طبقہ ہے جن کی زبان سے نکلنے والے ’’ہاں‘‘ اور ’’ناں‘‘ پر الٰہی فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس حدیثِ مبارک کے مصداق ہیں:

إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ۔


اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔


ان کے سادہ لباس اور معمولی بود و باش کو دیکھ کر ہرگز اپنے حاشۂ خیال میں کوئی ایسی جگہ مت دینا جس سے خدا ناراض ہو جائے۔ بسا اوقات ان سے نفرت اور دوری، خدا سے دوری کا پیش خیمہ بن جاتی ہے، اور ان سے محبت و قربت اکثر و بیشتر نجات کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔


ان میں وہ فراست ہوتی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ وہ دیکھ لیتے ہیں جہاں تک ہماری رسائی بھی نہیں ہوتی۔ یہ وہ کہتے ہیں جو ان سے خدا کہلوانا چاہتا ہے، یہ ان راہوں کے راہی ہیں جن پر خدا انہیں چلانا چاہتا ہے۔ ان کا دل عشقِ الٰہی کی بھٹی میں تپ کر کندن ہوچکا ہے۔ یہ لوگ ذکر و فکر کی مشک و عنبر سے مشکبار اور عشق و سرمستی میں دلفگار ہیں۔

ان کی نظریں، ان کے قدم، ان کی سانسیں، ان کی باتیں، ان کی ہر سوچ و فکر، سیرتِ محمدی اور فکرِ محمدی سے عبارت ہوچکی ہیں۔ یہ لوگ فرش نشین ہیں، مگر عرش والا ان پر اپنی چادرِ رحمت پھیلائے ہوئے ہے۔


آپ اپنے گرد و نواح میں جہاں کہیں کسی اللہ والے کو دیکھیں، جس کا قال و حال سیرت و شریعت سے ہم آہنگ ہو، تو اپنے کجاوے کھول دیجیے، اپنی سواریوں کو بٹھا دیجیے، لنگر انداز ہوجائیے اور اللہ اللہ کی ضربوں سے اپنے قلوب کو صیقل کیجیے؛ کہ اس دنیا میں صرف وہی رہتا ہے جس کے اندر خدا بستا ہے۔


(گیارہ ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے