سنو سنو!!
صاحبانِ قلم کی ذمہ داریاں
(ناصرالدین مظاہری)
قلم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اسی کے ذریعے علم نسل در نسل منتقل ہوا، تاریخ محفوظ ہوئی اور انسانی افکار و معارف آئندہ نسلوں تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ
"نٓ! قسم ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں۔"
لیکن جس نعمت کی عظمت اتنی بڑی ہو، اس کی جواب دہی بھی معمولی نہیں۔
آج کاغذ کا چلن کم ہوچکا ہے مگر لکھنے کا عمل پہلے سے کئی گنا بڑھ چکا ہے؛ موبائل کی اسکرین، فیس بک ، واٹس ایپ ، یوٹیوب کا عنوان اور سوشل میڈیا کا تبصرہ بھی قلم ہی کی نئی نئی شکلیں اور صورتیں ہیں۔ اس لیے صاحبِ قلم کو لکھنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ
"کل قیامت کے دن اپنے لکھے ہوئے ہر لفظ کا جواب دینا ہے؟"
مجھے تسلیم ہے کہ ہر تنقید غیبت نہیں، ہر اختلاف تہمت نہیں۔ ظلم کی شکایت، فتویٰ طلب کرنا، استفتاء کرنا، مسلمانوں کو کسی نقصان سے بچانا اور اصلاح کی ضرورت کے تحت کسی کی غلطی بیان کرنا شرعی گنجائش رکھتا ہے۔ لیکن ذاتی انتقام، تحقیر، عیب جوئی، جھوٹ، بہتان اور بلا ضرورت کسی کی عزت اچھالنا خطرناک گناہ ہیں۔
(1) خبر کی تحقیق
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو۔"
آج ایک غیرمحقق خبر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے بلکہ پہنچ رہی ہے اور کسی شخص، خاندان یا ادارے کی عزت کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ پہنچا رہی ہے ۔
خبر آگے بڑھانے سے پہلے تحقیق نہ کرنا کبھی کبھی خبر بنانے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
(2) جھوٹ سے بچنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ۔
"بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹ گناہ کی طرف۔"
( بخاری مسلم)
زبان کا جھوٹ جھوٹ ہے تو قلم کا جھوٹ بھی جھوٹ ہے۔ بلکہ تحریری جھوٹ زیادہ دور تک پھیل سکتا ہے اور دیر تک محفوظ رہتا ہے۔
(3) غیبت کو مضمون نہ بنائیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ۔
"تم اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرو جو اسے ناپسند ہو۔"
پھر فرمایا کہ اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو غیبت ہے، اور اگر موجود نہیں تو بہتان ہے۔
(صحیح مسلم)
کسی شخص کا عیب اچھالنا اور اسے "تحقیقی مضمون"، "تبصرہ" یا "حق گوئی" کا نام دے دینا حقیقت نہیں بدلتا۔ شرعی ضرورت کے تحت تنقید الگ معاملہ ہے، لیکن اس میں بھی نیت، ضرورت، سچائی اور حدودِ شرع کا پاس و لحاظ ضروری ہے۔
(4) بہتان اور تہمت سے بچنا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا۔
"جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی جرم کے ایذا دیتے ہیں، انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا۔"
کسی شخص پر چوری، خیانت، بددیانتی یا کسی جرم کا الزام بغیر ثبوت لگانا معمولی بات نہیں ہے۔
الزام لگادینا تو بہت آسان ہے لیکن الزام کا بوجھ اٹھاپانا آسان نہیں ہوگا۔
(5) چغلی اور فساد سے بچنا
چغلی صرف زبان سے نہیں، قلم سے بھی ہوسکتی ہے۔ کسی کی بات دوسرے تک ایسے انداز میں پہنچانا کہ نفرت اور فساد پیدا ہو، خطرناک روش ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ۔
"چغلی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" ( بخاری، مسلم)
آج کسی کی نجی گفتگو کا اسکرین شاٹ، کسی بیان کا منتخب جملہ یا کسی تحریر کا سیاق سے کاٹا ہوا حصہ بھی چغلی اور فساد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بات پھر وہی دہرا رہا ہوں جو پہلے کبھی لکھ چکا ہوں کہ ہر سچی بات ہر شخص کو بتانا ضروری نہیں ہوتا۔
(6) عزتِ مسلم کی حفاظت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ۔
"ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔"
(صحیح مسلم)
جس طرح کسی کا خون اور مال حرام ہے، اسی طرح اس کی عزت بھی حرام ہے۔ قلم سے کسی کی عزت پامال کرنا معمولی معاملہ نہیں۔
(7) بدگمانی کو حقیقت نہ بنائیں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
"بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔"
کسی کے عمل سے ایک احتمال پیدا کرکے اسے یقینی حقیقت بنا دینا، خاموشی کو تکبر، ملاقات کو سازش اور ایک جملے کو پورے نظریے کی بنیاد بنا دینا تحقیق نہیں بلکہ قیاس آرائی ہے۔
گمان کو خبر اور احتمال کو حقیقت بنا کر پیش کرنا بھی ظلم کی ایک صورت اور فتنہ کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔
(8) بات کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں
علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ مخالف کی بات بھی درست طور پر نقل کی جائے۔ کسی جملے کو سیاق سے کاٹنا، عنوان سے مفہوم بدل دینا یا کسی کے الفاظ کو ایسے معنی میں پیش کرنا جو وہ مراد نہیں لے رہا تھا، قلمی خیانت ہے۔
اختلاف کی گنجائش ہے، سخت تنقید کی بھی اجازت ہے ، مگر پہلے مخالف کی بات کو صحیح طور پر سمجھ لیجیے، پھر اسے صحیح نقل کیجیے اور اس کے بعد جائز تنقید کیجیے ورنہ آپ میں اور پیشہ ور وکیل میں کیا فرق رہ گیا یاد رکھیں مخالف کے ساتھ انصاف کرنا بھی علمی دیانت ہے۔
(9) نقل میں خیانت۔
آج قلمی دنیا میں ایک اور اخلاقی برائی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بعض لوگ نقل در نقل کرتے ہوئے اصل عبارت کو بدل دیتے ہیں، بعض اپنی طرف سے حذف و اضافہ کردیتے ہیں، بعض کسی کی تحریر اٹھا لیتے ہیں مگر مصنف کا نام مٹا دیتے ہیں، بعض کسی بڑے قلم کار کی تحریر پر اپنا نام لکھ دیتے ہیں، اور بعض دوسروں سے کتابیں اور مضامین لکھوا کر انہیں اپنے نام سے منسوب کرتے اور قوم کے درمیان خود کو مصنف ظاہر کرتے ہیں۔
یہ صرف اخلاقی کمزوری نہیں، امانت میں خیانت بھی ہے۔
کسی کی تحریر نقل کی جائے تو اس کے الفاظ میں خیانت نہ کی جائے، اور اگر کسی کی تحریر اپنے نام سے پیش کی جائے تو یہ علمی دیانت کے بھی خلاف ہے اور صاحبِ قلم کے مقام و منصب کے بھی خلاف ہے ۔
(10) ذاتی دشمنی اور شکر رنجی
ذاتی رنجش، ناراضی یا انتقام کو "تحقیقی مضمون" کا لباس پہنانا علمی دیانت نہیں بلکہ دناءت ہے۔
(11) ہر خبر کو آگے نہ بڑھائیں
کوئی بھی خبر ہو، اسے آگے بھیجنے سے پہلے اس کی صحت جانچ لیجیے۔ ممکن ہے بظاہر اچھی نظر آنے والی خبر کا کوئی منفی پہلو ہو، یا اس میں ایسی بات شامل ہو جسے آگے پھیلانا نقصان دہ ہو۔
ضروری نہیں کہ ہر تحریر کو وائرل کیا جائے۔ بعض تحریریں خلوصِ دل سے لکھی جاتی ہیں اور بعض تحریریں نفس و نفسانیت کی غماز و عکاس ہوتی ہیں۔ ہمیں ہر اچھے لفظ کا ثواب مل سکتا ہے اور ہر برے لفظ کا جواب بھی دینا ہوگا۔
(12) قلم کو ہدایت کا ذریعہ بنائیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ۔
"جس نے ہدایت کی طرف بلایا، اسے ان لوگوں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی پیروی کریں گے۔"
اور فرمایا:
وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ
"اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا، اس پر ان لوگوں کے برابر گناہ ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے۔"
(مسلم)
یہ حدیث ہر صاحبِ قلم کے لیے بشارت بھی ہے اور خوف بھی۔
ایک تحریر کسی کو نماز، قرآن، توبہ اور علم سے جوڑ سکتی ہے اور یہی قلم جھوٹ، فحاشی، فساد اور گمراہی پھیلانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے لکھنے سے پہلے تحقیق، تنقید سے پہلے انصاف۔ الزام سے پہلے ثبوت، کسی کی بات نقل کرنے سے پہلے اصل عبارت اور نقل در نقل سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے بچیے۔ کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صحت جانچیے۔
اور کسی کی عزت کے بارے میں لکھتے وقت قیامت کو یاد کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کا خوف کیجیے، میزانِ عدل کو سامنے رکھیے اور بارگاہِ الٰہی میں حاضری کا تصور کیجیے۔
زبان کی غیبت چند کانوں تک پہنچتی ہے، قلم کی غیبت ہزار آنکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔
قلم کی آبرو یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہ لکھے، بے گناہ پر الزام نہ لگائے، غیبت کو تبصرہ اور بہتان کو تحقیق کا نام نہ دے، مخالف کے ساتھ بھی انصاف کرے اور کسی کی عزت کو اپنی شہرت کی قیمت نہ بنائے۔
بعض تحریریں بالکل بے سود ہوتی ہیں؛ انہیں پڑھنے سے صرف وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ ایسی تحریروں کو "ادب پارہ" یا "سخن پارہ" کہہ دینے سے ان کی بے مقصدیت ختم نہیں ہوجاتی اور نہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اس سے بچ سکتے ہیں۔
اے صاحبانِ قلم!
لکھتے وقت صرف قارئین کو نہ دیکھیں، رب العالمین کو بھی دیکھیں۔ یہ نہ سوچیں کہ کتنے لوگ پڑھیں گے؛ یہ سوچیں کہ اللہ کے فرشتے ہمارے نامۂ اعمال میں کیا لکھ رہے ہیں۔
یہ نہ سوچیں کہ مضمون کتنا وائرل ہوگا؛ یہ سوچیں کہ کل قیامت میں یہ مضمون آپ کے حق میں ہوگا یا آپ کے خلاف ہوگا۔
یہ نہ سوچیں کہ آپ نے کس کو خاموش کردیا؛ یہ سوچیں کہ کہیں آپ کے قلم سے کسی مظلوم کی آہ تو نہیں نکل گئی۔
اس لیے قلم اٹھائیں تو اسے امانت سمجھ کر اٹھائیں، لکھیں تو حق لکھیں، اختلاف کریں تو انصاف کے ساتھ، تنقید کریں تو خیر خواہی کے ساتھ، اور کسی کی تحریر نقل کریں تو امانت داری کے ساتھ۔
(بارہ ربیع الاوّل چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے