65a854e0fbfe1600199c5c82

اماموں کے ساتھ مقتدیوں کا رویہ

 


سنو سنو!!


اماموں کے ساتھ مقتدیوں کا رویہ


(ناصرالدین مظاہری)


میں اپنے گاؤں میں بہت کم رہ پاتا ہوں، کیونکہ مظاہرعلوم میں ہی بود و باش ہے، لیکن جب بھی گاؤں جاتا ہوں تو اپنی مسجد کے امام سے ملتا ہوں، ملاقات کرتا ہوں، ان کو اپنے پاس بلاتا ہوں، کبھی میں خود ان کے پاس بیٹھتا ہوں۔ اب تک جتنے بھی امام ہماری مسجد کو ملے، وہ علم و تجربہ اور حسنِ قراءت و حسنِ صوت میں بالکل ابتدائی مرحلے میں ہی نظر آئے، مگر اس کے باوجود میری کسی بھی امام سے کوئی منفی بات یا منفی رویہ نہیں رہا۔


گاؤں کی مسجد میں امام کے لیے مستقل حجرہ نہیں تھا۔ مدرسہ، یعنی مکتب میں، یا کسی کی بیٹھک میں قیام رہتا تھا، مگر میں نے اپنے احباب سے مل کر ایک اچھا حجرہ امام کے لیے تعمیر کرایا، اب یہی حجرہ اذان کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔


وقتاً فوقتاً امام صاحب کی جیب میں بھی کچھ نہ کچھ رکھ دیتا ہوں کہ بہرحال ان کی تنخواہ کم ہوتی ہے، مگر الحمدللہ اتنی کم بھی نہیں ہوتی کہ گاؤں کی دیگر مساجد میں زیادہ ہو۔


اگر کچھ اچھا پکا تو امام صاحب کی دعوت بھی ہوجاتی ہے، ورنہ ان کے حجرے میں پہنچا بھی دیتا ہوں۔ ہمیشہ سوچتا ہوں کہ جو اللہ پاک مجھے اتنا نوازتا ہے، میں کیوں کارِ خیر میں پیچھے رہوں؟ شادی بیاہ کے موقع پر امام کی دعوت اور نکاح پڑھانے کی خدمت بھی اسی لیے امام کے ذمہ ہے کہ نکاح پڑھانے کا ہدیہ امام کو مل جائے۔اسی لئے گاؤں کی شادیوں میں نکاح امام مسجد ہی پڑھائے گا تاکہ اس بے چارے کا حق نہ مارا جائے۔


بسااوقات لوگ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ آپ کبھی روک ٹوک نہیں کرتے، تو میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ اتنی کم تنخواہ میں امام صاحب یہاں ٹکے ہوئے ہیں، یہ ان کا احسان ہے۔ جتنی سستی چیز خریدو گے، اتنی ہی غیر معیاری ملے گی۔


ایک صاحب نے ایک زمانہ پہلے اپنے کمپیوٹر سے کسی فلم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر محفوظ کر رکھا تھا، مجھے خاص کر دکھایا۔ ان کا مقصد تو صرف دل لگی تھا، لیکن مجھے وہ ٹکڑا بہت کچھ سبق دے گیا۔


ہوتا یہ ہے کہ ایک شخص دہلی پہنچتا ہے، ایک فٹ پاتھ پر پانچ روپے کی مرغ بریانی کھاتا ہے۔ ہچکیاں شروع ہوجاتی ہیں تو پریشان ہوجاتا ہے۔ کوئی انجان بندہ اس سے پوچھتا ہے:

"کیا ہوا؟"

تو یہ کہتا ہے:

"میں نے پانچ روپے کی چکن بریانی کھائی تھی، مگر اس کے بعد جب بھی ہچکی آتی ہے تو آواز کوے جیسی نکلتی ہے۔"

وہ انجان شخص بولا:

"بھائی! پانچ روپے میں چکن بریانی نہیں ملتی، وہ کوا بریانی تھی۔ اب کھاؤ گے کوا بریانی تو آواز محمد رفیع جیسی کہاں سے پاؤ گے؟"


اس شخص کا یہ قول مجھے آج تک نہیں بھولا۔ بہت بڑا سبق اس میں پوشیدہ ہے۔ ہم ہر چیز یا تو مفت چاہتے ہیں یا نہایت سستی چاہتے ہیں۔


کل ہی میں نے اپنی ایک عزیزہ فاضلہ سے پوچھا کہ تم پڑھا رہی ہو یا نہیں؟ جواب دیا کہ پڑھانا چھوڑ دیا ہے۔ وجہ یہ بتائی کہ اس کی صدر صاحبہ ایک روپیہ نہیں دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تمہارے ابو تو مالدار شخص ہیں، تمہیں پیسوں کی کیا ضرورت ہے؟


حالانکہ سچ یہ ہے کہ مالدار کو اور زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ وہ پہلے سے جب اچھا کھا رہا ہے، اچھا پہن رہا ہے، اس کا معیارِ زندگی اچھا ہے تو وہ کیوں مفت میں خدمت کرے گا؟

مساجد ہوں یا مدارس، اس مزاج نے بیڑا غرق کردیا ہے۔ ہر ادارہ نہایت سستا معلم اور ملازم چاہتا ہے، جب کہ ذمہ داریاں اس کو اعلیٰ تنخواہ والے معلم و مدرس کی دینا چاہتے ہیں۔ نتیجہ وہ ہوتا ہے جو شیخ سعدی نے فرمایا کہ:


"سلطان که به زر بر سپاهی بخیلی کند، با او به جان جوانمردی نتوان کرد۔

زر بده مرد سپاهی را تا سر بنهد و گرش زر ندهی، سر بنهد در عالم۔"


ترجمہ یہ ہے کہ جو بادشاہ اپنے سپاہی کو مال دینے میں بخل کرے، اس کے ساتھ جان کی بازی لگا کر بہادری دکھانا ممکن نہیں۔


سپاہی کو مال دو تاکہ وہ تمہارے لیے اپنا سر قربان کرنے کو تیار رہے، اور اگر اسے مال نہ دو تو وہ اسی دنیا کے آگے اپنا سر جھکا دے گا۔


آپ سبھی کا خوب تجربہ ہے کہ ذہنی الجھن کا اثر براہِ راست نمازوں پر پڑتا ہے، نمازوں کا مطلوب خشوع و خضوع غائب ہوجاتا ہے۔


 سوچیں، امام امامت کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہے اور اس کے گھر ولادت کا مسئلہ ہے، بچہ بیمار ہے، بیٹی جوان ہے، شادی کی تیاریاں زیرو ہیں، بیوی کے اپنے اخراجات ہیں یا کچھ مہمان آگئے ہیں، ان کی ضیافت کا مسئلہ ہے، اسکول کی فیس دینی ہے یا کسی ضروری کام کے لیے اسے چند دن کی چھٹی چاہیے، مگر چھٹی نہیں مل سکتی، اور بھی ہزار قسم کے حالات آتے رہتے ہیں۔


ایسے وقت پر امام کہاں سے خلوص لائے، کیسے خشوع پیدا کرے، کس کو اپنا درد و کرب سنائے؟ 


بعض نالائق اور نکمے مقتدیوں کو تو اپنے ہی امام کے سفید کپڑے برداشت نہیں ہیں، کسی کو امام کے ٹفن سے جلن ہورہی ہے، کوئی امام کی جاسوسی کیے جارہا ہے کہ یہ کہاں، کس بندے اور کس دکان پر جارہے ہیں۔ خود سارے برے کام کریں گے اور چاہیں گے امام کے پاس کوئی برا آدمی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے بھی نہ آنے پائے۔


مدت ہوئی، مجھ سے میرے قریب کے گاؤں والے مسئلہ معلوم کرنے آئے کہ فلاں امام صاحب کی بیوی پردے سے نہیں رہتی، ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ میں نے کہا: تم لوگوں کی نماز ہوجائے گی، کیونکہ تمہاری بیویاں بھی بے پردہ رہتی ہیں۔ ہاں، یہ مسئلہ ان لوگوں کو پوچھنا چاہیے تھا جن کے یہاں پردے کا اہتمام و احترام ہوتا ہو۔


اکثر مقتدی من چاہے ہوٹل اور ریسٹورنٹ پر جاکر پیٹ پوجا کرتے رہتے ہیں، امام کی تنخواہ تو اتنی بھی نہیں کہ وہ سال میں ایک دفعہ اپنی فیملی کے ساتھ کسی ڈھنگ کی جگہ جاکر کھانا ہی کھاسکے۔


جو لوگ امام کو سو پچاس روپے مہینے میں نہیں دے سکتے، وہ امام کی چائے اور پاپے پر بھی پیَنی نظر رکھتے ہیں۔ بعض تو اتنے ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ کھانے کے وقت امام کے پاس سے ٹلتے ہی نہیں، یعنی اس میں بھی شرکت!


جمعہ کے دن امام صاحب جب تقریر کریں تو دھیان دیں، اس وقت مسجد میں کتنے نمازی ہوتے ہیں، پھر اقامت کے وقت کہاں سے اتنے لوگ آجاتے ہیں؟


امام صاحب چند منٹ کے لیے کتاب پڑھنے لگیں تو اکثر مقتدیوں کو بھاگنے کی جلدی لگ جاتی ہے۔ لگتا ہے یہ سارے لوگ حضرت تھانوی کی طرح تعلیم یافتہ ہیں، حالانکہ انہی کے لیے کتاب پڑھی جارہی ہے۔ سننے والے بھی پہلو بدلتے رہتے ہیں۔


اے مقتدیو!


اپنے اماموں کی قدر کرو۔ وہ تمہارے گھروں میں جھانکنے کی گستاخی نہیں کرتے، تم کو کس شریعت نے ان کی جاسوسی کی اجازت دے دی؟ وہ تمہارے کھانے پینے، رہنے سہنے پر اعتراض نہیں کرتے، تم کو کس چیز نے حسد پر مجبور کردیا؟


امام امامت کی وجہ سے اپنا کوئی کاروبار نہیں کرپاتے اور تم پھر بھی انہیں دس پندرہ ہزار روپے سے زیادہ تنخواہ دینے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہو۔


اٹھائیس اگست دو ہزار چوبیس کو میں نے اپنے اسی فیس بک پیج پر سلیم پور گڑھ کے ایک امام صاحب کی گفتگو کا خلاصہ لکھا تھا کہ


" میری تنخواہ مسجد کی طرف سے آثھ ہزار ہے،ہرہفتہ جیب خرچ کے لئے متولی صاحب آٹھ سو روپے دیتے ہیں ،عوام کی طرف سے جو کچھ ہدیہ ملتا ہے وہ الگ ہے ،کھانا بھی تینوں وقت ملتا ہے ،فیملی مکان بھی ملا ہوا ہے،سال بھر کا غلہ بھی ملتا ہے،عیدی کے نام سے کم از کم پچاس ساٹھ ہزار روپے ،ستر اسی سوٹ اور اہلیہ کو تقریبا تیس سوٹ مل جاتے ہیں ،۔نکاح اور دیگر تقریبات میں لوگ دل کھول کر نوازتے ہیں"۔


یہ سن کر میں محو حیرت اور تعجب کرتا رہا اور دل سے دعا بھی نکلتی رہی کہ کاش اماموں کی قدر کرنے والے افراد ہر مسجد کو میسر ہوں۔


یاد رکھیں جو قومیں اپنے مقتداؤں کی قدر نہیں کرتیں، وہ قومیں بہت جلد اپنا وقار و شعار کھودیتی ہیں۔

جیو تو مرد بن کر، رہو تو مرد بن کر، مرو تو اس شان سے کہ اپنے پرائے سب رنجیدہ ہوں۔ دنیا سے ایسے مت جاؤ کہ سبھی کے چہروں پر مسکراہٹ ہو۔


پھول بنو، کانٹا مت بنو۔ کیونکہ پھول کو سونگھا جاتا ہے، کانٹا پھینکا جاتا ہے۔ پھولوں کی قدر کی جاتی ہے، کانٹے جلادیے جاتے ہیں۔


(چودہ ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے